امریکہ میں 11ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد القاعدہ دہشت گردوں کے خلاف امریکہ کی جانب سے اعلان جنگ کیا گیا. دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ کی جنگ ایک عالمی جنگ کی سی صورت اختیار کرتی چلی گئی. عراق , افغانستان کے ساتھ ساتھ جس ملک میں اس جنگ کی شدت کو محسوس کیا گیا وہ پاکستان ہے .
پاکستان نے امریکہ کی القاعدہ , طالبان اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں جتنا ساتھ دیا , کسی اور ملک نے اس طرح کبھی ساتھ نہیں دیا ۔ اس کے عوض مختلف صورتوں میں پاکستان کو اس جنگ میں معاونت کرنے پر ڈالرز بھی ملتے رہے اور بہت سے یو ایس ایڈکے پروگرامز بھی شروع کیے گئے ,
دہشت گردی کی اس جنگ میں ہزارو ں پاکستانی شہید ہوئے ہیں جس میں عام شہری ,پولیس , مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد , فوجی افسران و اہلکار شامل ہیں.
بڑی تعداد میں قربانی دینے کے باوجود امریکہ کی جانب سے بار بار پاکستان سے ان 16 سالوں میں ڈو مور کا مطالبہ کیاجاتا رہاہے جو پاکستانی قوم کی قربانیوں کی توہین ہے. امریکہ کی جانب سے بار بار ڈو مور کا مطالبہ اپنی جگہ مگر ہمارے حکمرانوں کو بھی اس پر غور کرنا چاہیے کہ امریکہ ہمارے دہشت گردی کے خلاف اُٹھائے جانے والے اقدامات کو ناکافی کیوں قرار دیتا ہے ؟
امریکہ کی پاکستان پر تنقید کی وجہ شاید یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مختلف آپریشنز کے باوجود دہشت گردوں کے راہنماؤں کی پاکستان میں موجودگی , 2011 ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی فوجیوں کی پاکستان میں کاروائی کےنتیجے میں ہلاکت , 2016 میں ملا اختر منصور کی امریکی ڈرون کے نتیجے میں ہلاکت ہو , یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر ان انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو پاکستان کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا تو امریکہ اس طرح بار بار ڈو مور نہ کہتا..
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف 2014 میں ضرب ِعضب کا آغاز کیا گیا اس کے باوجود بھی ہمارے اقدام کو دنیا نے ناکافی سمجھا اور ابھی 2017 میں ملک میں مزید بہتر طریقے سے دہشت گردوں کےخلاف کاروائی کے لیے آپریشن رَدُّالفَسَاد شروع کیا گیاتھا جس کا مقصد دہشت گردی کی جڑ کو اکھاڑ پھینک دینا تھا , ابھی اس آپریشن رَدُّالفَسَاد کو ایک ماہ بھی مکمل نہ ہوا تھا کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر ڈو مور کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں.
امریکی کانگریس ایوانِ نمائندگان میں دہشت گردی کے متعلق زیلی کمیٹی کے صدر ٹیڈ پو کی جانب سے 9 مارچ 2017 کو ایک بل پیش کیا گیا تھا. جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کی معاونت کرنے والا ملک قرار دیا جائے.اس بل پر پاکستان , افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسی سے قبل کانگریس میں بحث دیکھنے کو ملی اور وقت گزرتا گیا اور 22 اگست 2017 کو باقاعدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے متعلق پالیسی کا اعلان کردیا. جس میں ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا اور حقانی نیٹ ورک اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے اُنکے خلاف کاروائی اور ساتھ ہی دہشتگردوں کے پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے جیسے مطالبات سامنے آئے ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان کو امریکہ نے دہشت گردوں کےخلاف کاروائی کے لیے اربوں روپے دیے مگر پاکستان نے دہشت گردوں کےخلاف کاروائی نہ کی. امریکہ کے دھمکی آمیز بیان پر چیف آف آرمی اسٹاف نے امریکی سفیر سے ملاقات میں ردعمل دیا کہ ہمیں امداد نہیں اعتماد چاہیے. امریکہ کے پالیسی کے بعد پاکستانی حکام دیگر ممالک کو اعتماد میں لینے میں مصروف ہے.

ہمیں امریکہ کی تنقید سے زیادہ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آخر کونسے ایسے عوامل ہیں جنکی وجہ سے ہمیں دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ,
ضرورت اس بات پر بھی غور کرنے کی ہے کہ کیا اسلام آباد میں لال مسجد میں موجود مولانا عبدلعزیز کھل کر داعش دہشت گردوں کا پرچم لہرانے اسکی حمایت نہیں کرتا رہا ہے ؟ اور دیگر کالعدم جماعتوں نے کھل کر داعش کی حمایت نہیں کی ؟ کیا کے پی کے میں حکومتی جماعت کی جانب سے مدرسہ حقانیہ کو مالی امداد فراہم نہیں کی گئی؟ کیا کراچی میں سخت آپریشن کے باوجود کھلے عام, بلا خوف و خطر کالعدم جماعتیں چندا اکھٹا نہیں کرتی رہیں ,
حافظ سعید کو گرفتار کیا , حفاظتی تحویل میں رکھا یا پھر نظر بند کیا اس پر پنجاب حکومت کنفیوذ کیوں ہے؟
اگر وہ واقع مجرم ہے تو اسے عدالت میں لایا جائے اور اسے دہشت گرد قرار دینے کے لیے ثبوت فراہم کرکے سزا دلوائی جائے یا پھر اسے نظر بند یا تحویل میں رکھنے کی وجہ بتانی چاہیے۔۔ آپریشن رَدُّالفَسَادکی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انتہا پسندوں , کالعدم جماعتوں کا بظاہر نظرآنے والا استثنیٰ ختم کر کے انکے خلاف بھرپور کاروائی ہونی چاہیے جو کہ پاکستان میں مکمل امن کے لیے انتہائی ضروری ہے .

Advertisements