نوجوانوں کا عالمی دن

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی میں بہت سے بین الاقوامی ایام کو بہت ہی شایان شان سے منایا جاتا ہے . جیسے ماں کے اعزاز میں ہر سال ماہ مئی کے دوسرے اتوار کو مدرز ڈے منایا جاتا ہے. وومن ڈے 8مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے. فرینڈ شپ ڈے ہر سال اگست کے پہلے اتوار کو دوستی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے. بالکل اسی طرح نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کے اجاگرکرنے اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور انکو اعتماد دینے کے لیے دنیا بھر میں 12 اگست کو انٹرنیشنل یوتھ ڈے,نوجوانوں کے عالمی دن کے طورپر منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی نوجوانوں کے عالمی دن کو اسی طرح منایا جاتا ہے جس طرح دنیا کے دیگر ممالک میں منایا جاتا ہے۔ یوتھ ڈے کے حوالے سے قومی و بین الاقوامی سطح پر متحرک این جی اوز اور دیگر گروپس کی جانب سے سیمینارز , تقریبات اور دیگر ایونٹس منعقد کیے جاتے ہیں. ملک کا نام روشن کرنے والے نوجوانوں کو دیگر نوجوانوں کے لیے رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
آگر ہم اپنی بات کریں تو پاکستان کی کل آبادی کا تقریباً 60 فیصد یا اس سے زائد کا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمر 25 سال سے کم ہے. جوکہ یہ کسی بھی ملک کی کل آبادی کا اتنابڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہونا جہاں ایک نعمت ہے وہیں کسی بھی حکومت یا ریاست کے لیے بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں. اسی لیے کسی بھی ریاست یا حکومت کی سب سے اہم بڑی اور اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کے مسائل کے حل کیلئے نہ صرف ہر ممکن اقدامات کرے ,قانون سازی کرے بلکہ ان کے لئے مواقع فراہم کرے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوئے ایک کارآمد شہری کا کردار ادا کرسکے جس کے لئے ضروری ہے کہ ریاست حکومت اور متعلقہ افراد اپنے ملک و قوم سے مخلص ہوں۔
پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے. ہم نے ماضی قریب میں دیکھا کہ کس طرح نوجوان سعد عزیز جیسا ہڑھا لکھا لڑکا کس طرح سے شدت پسندی کا راستہ اختیار کربیٹھا اور کسی کو خبر نہ ہوئی۔کراچی کے سانحہ صفورہ میں ملوث سعد عزیز کوئی واحد طالب علم نہیں جو شدت پسندی کی انتہا ہسندی تک جا پہنچا ہو,ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں، اگر اب بھی نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدگی سے نہیں سوچا جاتا تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں مزید بگاڑ ، بیروزگاری ،بے چینی ،دہشت گردی ، مزید غربت جنم لے گی اورمستقبل کے معمار نوجوان تاریک راہوں میں کھوجائیں گے۔
پاکستان میں نوجوان نسل کابڑاحصہ اپنے لڑکپن کے ایام سے ہی اپنی معاشی حالت کو بہتر کرنے اور مسائل سے نمٹنے کی کوششیں کرنا شروع کردیتا ہے۔ایک نجی سروے کے مطابق ہمارے یہاں نوجوان لڑکوں میں تعلیم کی شرح 52 فیصد اور لڑکیوں میں 40 فیصد ہے۔ غربت کی وجہ سے پاکستان میں چائلڈ لیبر پاکستان کی تاریخ کا ہمیشہ سے ہی سیاہ پہلو رہا ہے اور آج بھی موجود ہے۔ معاشی مسائل اور دیگر زمہ داریاں نوجوانوں کو مجبور کردیتی ہیں کہ وہ روزگار تلاش کریں اور یوں نوجوانوں کوتعلیم سے دوری اختیار کرنا پڑتی ہے کیونکہ اسکول , کالج, اور یونیورسٹیز کی بھاری بھرکم فیسیں ادا کرنا ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں اور پاکستان میں اب تک نوجوانوں کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی بنائی ہی نہیں جاسکی اور نہ کوئی پروگرام متعارف کروایا جاسکا۔
غیرتعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے نوجوانوں کوبھی پاکستان کے حکمرانوں کی پالیسیوں پرتشویش ہے کہ بے روزگاری کا مسئلہ دن بہ دن شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ارباب اختیار کو سمجھنا چاہیے کہ اب نوجوانوں کے عالمی دن کے طورپر منانے سے کچھ نہیں ہوگا اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک سے بے روزگاری جیسے بنیادی مسئلے کوسنجیدگی سے لیا جائے اور نوجوانوں کےمسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور انکے حل کے لئے نوجوانوں کی رائے عامہ کو مدنظر رکھ کر پالیسی ترتیب دی جائے۔

Advertisements