: رویوں میں تبدیلی کی ضرورت – سید احسن وارثی http://shaahkar.com/6647

پاکستان میں کئی ادوار سے ہم سنتے آرہے ہیں کہ فلاں ملک کا غدار ہے , فلاں شخص ملک دشمن ہے وغیرہ وغیرہ. مگر آج تک ہم کبھی یہ طے نہیں کرپاۓ کہ آخر غداری ہوتی کیا ہے.. کیونکہ جن لوگوں نے اپنی انا اور اقتدار کی خاطر ملک دو لخت کردیا انھیں ہم نے سر پر بٹھایا اور جو لوگ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے دکھائی دیے انھیں غدار کہا گیا.

ایک سال قبل متحدہ بانی و قائد کی جانب سے پریس کلب پر جاری تادم بھوک ہڑتالی کیمپ کے دوران تقریر کے ایک لمحے نے ایم کیوایم قائد کی تمام اچھائیوں کو پیچھے دھکیل دیا , متحدہ قائد  اپنے کارکنان کی جبری گمشدگی اور ماوراۓ عدالت قتل پر جزبات میں  آکر متنازع نعرہ لگا بیٹھے , جس پر انھوں نے اگلے روز معافی مانگی . مگر ایم کیوایم قائد کے اس نعرے کے بعد اور معافی کے بعد انکے کارکنان کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا وہ ہم نے بھی دیکھا وہ آپ نے بھی دیکھا. متحدہ کے دفاتر مسمار اور سیل کردیے گئے . متنازع تقریر پر متحدہ کے پارلیمانی اراکین نے اپنے قائد سے لاتعلقی کر ﮈالی اور انکے خلاف انتہا تک جا پہنچے باوجود اسکے کہ وہ اپنی تقریر پر معافی مانگ چکے تھے.

آپ اگر 22 اگست 2016 کی ایم کیوایم بانی و قائد کی وہ تقریر مکمل سنیں  اور اس کے بعد آپ خواجہ آصف جوکہ موجودہ وفاقی وزیر ہیں انکی دس سال پرانی تقریر نکال کر سن لیجیے , پرویز رشید صاحب کی حال ہی میں پانامہ کیس کے دوران ایک ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران کیجانے والی تقاریر اٹھالیں , اسکے اعلاوہ وزیراعظم صاحب کے ماضی کے انٹرویوز اٹھالیں, اگر اور دیہان دیں تو پھر سابق صدر آصف علی زرداری کی اینٹ سے اینٹ بجانے والی تقریر سن لیجیے , یا پھر گزشتہ سال اچکزئی صاحب کی اسمبلی میں کی جانے والی تقریر سن لیجیے کہ وہ اپنے پشتون بھائیوں کی محبت میں ایوان میں کیا کیا کہہ رہے تھے. کیا کبھی کسی کےخلاف اتنی سخت کاروائیاں ہوتی دیکھی ¿

ہمارا مسلہ یہ ہے کہ ہم سنی سنائی باتوں اور تصویر کا ایک رخ دیکھ کر ہی فیصلہ کرلیتے ہیں کہ یہ غلط ہے اور یہ صحیح ہے اور اسی عمل کی وجہ سے ہم جانے انجانے میں حقیقت سے منہ پھیرلیتے ہیں.

Advertisements