پاکستان میں کس نظام کے تحت حکومت کی جارہی ہے سمجھ سے باہر ہے. عوام ایک طرف مہنگائی کے طوفان سے پریشان ہے تو دوسری جانب انتہا پسندوں کو مین اسٹریم پر لائے جانے سے مستقبل کے حوالے سے خوف زدہ بھی ہے.
سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد شہری علاقوں میں دہشت گردوں کالعدم تنظیموں سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان مرتب دیاگیاتھا. اسکا مقصد تھا کہ ملک کے شہری علاقوں میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں اور دیشت گرد تنظیموں کو نام بدل کر پھر سے منظم ہونے , انکا نیٹ ورک ختم کرنے یا پھر دیگر سرگرمیوں سے روکا جائے گا.
مگر کراچی میں کالعدم تنظیمیں نہ ہی چندہ جمع کرنے سے باز آئیں اور نہ ہی ریلیاں اور دیگر سرگرمیوں سے کسی نے انھیں روکا ہاں ایک سیاسی جماعت کا اس دوران نہ صرف مرکزی دفتر بند کردیا گیا.
سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا اور ایک سیاسی جماعت سے دو گروپ ضرور تشکیل دیے جاچکے ہیں.
ایک طرف پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی اکثریت عوام کی حمایت یا ووٹ بینک رکھنے والی سیاسی جماعت کے قائد کی تقاریر و تصاویر کی نشرواشاعت پر تو ایک عدالتی حکم کو جواز بناکر پابندی عائد کردی جاتی ہے .مگر دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ اسی دور میں ایک عدالتی فیصلہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ پاکستان کے ہزاروں معصوم عوام , آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کو قتل عام کروانے اور اسکی زمہ داری قبول کرنے والے احسان اللہ احسان کے انٹرویو کو نشر کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے .
عام عوام میں اس عمل پر سخت غم و غصہ دیکھنے میں آیا سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر اس انٹرویو پر سخت تنقید کی گئی
سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں دہشت گرد تنظیم کے ترجمان کا انٹرویو 27 اپریل 2017 کو نشر ہونے سے پہلے پیمرا نے نیشنل ایکشن پلان کے مطابق عمل کرتے ہوئے نشر ہونے سے روک دیاتھا.
انڈیپینڈینٹ میڈیا کارپوریشن یا خودمختار میڈیا کارپوریشن کی جانب سے پیمرا کے فیصلے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا.
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پیمرا کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے احسان اللہ احسان کا خصوصی انٹرویو نشر کرنے کی اجازت دے دی گئی.

ehsan-u-allah-ehsan-interview-in-277x156.jpg

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو بتایا گیا کہ انٹرویو ضابطہ اخلاق کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ایس پی آر کے تعاون سے ریکارڈ کیا گیا تھا.
عدالت نے ساتھ ہی پیمرا کو ہدایت کی کہ اگر کالعدم تنظیم کے سابقہ ترجمان کا انٹرویو نشر ہونے سے ضابطہ اخلاق یا پیمرا آرڈی نینس کی سیکشن 27 سمیت کسی شق کی خلاف ورزی ہو تو ادارہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعد احسان اللہ احسان کا انٹرویو 12 مئی 2017 کو نشر کردیا گیا ہے.

دو سال قبل 24 اگست 2015 کو سلیم صافی صاحب کے پروگرام جرگہ میں ہی ایم کیوایم قائد کا ریکارڈکیا ہوا خصوصی انٹرویو نشر کیا جانا تھا ۔مگر نہ جانے کس کی ہدایت پر بنا کسی عدالتی یا پیمرا کے حکم کے وہ انٹرویو آج تک نشر نہ کیا جاسکا.
ایک طرف دوران حراست ایک دہشت گرد , ہزاروں معصوموں کے قتل کا اعتراف کرنے والے احسان اللہ احسان کی 17 اپریل 2017 کو ہتھیار ڈالنے کے بعد انٹریو ریکارڈکرایا جاتا ہے.
اس پروگرام کی جھلکیاں نجی نیوز چینل پر پرومو کے طور پر نشر کی جاتی ہیں, جسے نشر ہونے سے پہلے پیمرا کی جانب سے روکا جاتا ہے تو عدالتی حکم پر 12 مئی 2017 کو نشر کردیا جاتا ہے .
داعش کے نظریے سے متاثر ہوکر 10 فروری کو حیدرآباد سے بھاگ جانے والی نورین لغاری اچانک 14 اور 15 اپریل کی درمیانی شب لاہور میں قانون نافز کرنے والے ادارے کی کاروائی کے دوران گرفتار کی جاتی ہے . نورین لغاری اپنے وڈیو بیان میں اعتراف کرتی ہے کہ وہ فلاں تہوار پر دہشت گردی میں استعمال ہونے والی تھی اعترافی بیان کے باوجود اسے پوری قوم کے سامنے ہیرو بناکر پیش کیا جاتا ہے . دوسری جانب کراچی آپریشن کے دوران گرفتار یا لاپتہ ہوجانے والوں کی تشدد زدہ لاشیں ملتی ہیں یا پھر زیر حراست ہلاک ہوجاتے ہیں اورمعلوم ہی نہیں پڑتا کہ جرم کیا تھا.

ہمیں اب سوچنا ہوگا کہ کیا ہم صحیح سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں ؟ کیا دہشت گردوں کو اس طرح سے ٹیلی ویژن پر لاکر اور جمہوری سیاسی جماعت کی سیاسی و فلاحی سرگرمیوں پر غیراعلانیہ پابندی لگاکر زیادتی نہیں کی جارہی ہے؟
ہم کیوں اس طرح سے دوہرے معیار کو اپنا رہے ہیں . وقت کا تقاضا ہے کہ ملک میں بے گناہوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے
پاکستان پہلے ہی ناانصافیوں کی وجہ سے بے حد نقصان اٹھاچکا ہے اسکے باوجود آج بھی ہم وہی ماضی کی روش اپنائے ہوئے ہیں .ملک میں جمہوری عمل کو فروغ دینے اور بہتر معاشرہ تشکیل دینے کے لیے وقت پر انصاف فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے.

NNgmh.jpg

Advertisements