شہری سندھ میں گزشتہ کئی برسوں سے مائنس ون فارمولا پر کام جاری ہے کیونکہ ایک دیوانے نے خواب دیکھا تھا کہ جیسے مسلم لیگ ن کے دھڑے یا گروپ بن سکتے ہیں تو ایسے ہی گروپس ایم کیوایم کے کیوں نہ بنائیں جائیں تاکہ اپنے زرخرید غلاموں کو اپنی شرائط پر ﮈمی بناکر بٹھا دیا جاۓ اور  پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو ایک  کالونی  کے طور پر  چلایا جائے جوکہ ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کی جانب سے پیسوں سے بھرے بریف کیس کو واپس لٹانے کے بعد ممکن نہ تھا اسی لیے اشرافیہ کے خوابوں کی تکمیل کےلیے انکا مائنس ہونا ضروری ہے ,اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ہر دور میں کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور آج اس خواب کے 27 سال بعد بھی اسی خواب کو مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں , پہلے آفاق و عامر کے رفقاء پر مشتمل گروپ مہاجر قومی مومنٹ سے مہاجر قومی موومنٹ حقیقی تشکیل دی گئی تھی اس بار دو صورتوں یا پلان کے ساتھ یہ فارمولا پیش کیا گیا ہے

پلان اے کے طور پر پی ایس پی کو لایا گیا  جس کی ناکامی کے 4 ماہ بعد  23 اگست 2016 کو متحدہ قومی موومنٹ سے علیحدہ ہوکر فاروق ستار کے دیگر چند ارکان اسمبلی پر مشتمل گروپ ہے جسے ایم کیوایم پاکستان کا نام دیا گیا ہے دونوں گروپس کے حوالے سے سب جانتے ہیں یہ سب کون اور کیوں کررہا ہے.
   یہاں خواب دیکھنے والا ایک بات بھول گیا کہ اللہ کی قدرت سے زیادہ طاقتور اور کوئی طاقت نہیں ہے, اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت دے.  

چند ماہ قبل فاروق ستار کی سربراہی میں پی آئی بی میں تشکیل پانے والے گروپ سے جب علیحدگی پر استعفی کا مطالبہ کیا گیا تو انکی جانب سے  اپنے ہر اجتماع میں یہ دعوی کیا گیا  کہ انھیں ماضی میں یا ماضی قریب میں جتنے بھی انتخابات میں ووٹ ملے وہ نظریہ دینے والے کی شخصیت پر نہیں بلکہ نظریہ کی بنیاد پر ملے ہیں , حالانکہ وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ شہری سندھ میں یہ تاثر عام ہے کہ ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کسی کھمبے کو بھی کسی الیکشن میں کھڑا کردے تو وہ بھی اکثریت ووٹ سے جیت جاۓ گا لیکن انکی معصومیت پر ہم کیا کہہ سکتے ہیں. دونوں کی جانب سے ہی عوامی حمایت کے ساتھ ہونے کا دعوی کیا جاتا رہا ہے مگر اس کا عملی مظاہرہ صرف کسی بھی الیکشن میں ہی ہوسکتا تھا جہاں دونوں دعویدار آمنے سامنے ہوں اور یہ مرحلہ بالآخر ہمارے سامنے آہی گیا جہاں دونوں کی جانب سے امیدوار آمنے سامنے تھے مقام تھا حیدرآباد جہاں یو سی 46 میں چئیرمین کےلیے ضمنی انتخاب ہورہا تھا اس یوسی میں فاروق قریشی کے انتقال کےبعد چئیرمین کی نشست خالی ہوئی تھی جسے متحدہ قومی موومنٹ (الطاف) نے 2015 میں  بلامقابلہ جیتی تھی. 
ایک طرف فاروق ستار کی سربراہی میں ایک امیدوار توقیر نامی بزرگ الیکشن لڑرہا تھا جس کی حمایت میں الیکشن مہم کے طور پر فاروق ستار کے ہمنوا 2 ایم این ایز ,  4 ایم پی ایز , مئیر حیدرآباد , دیگر یوسیز کے چئیرمینز او دیگر افراد نے اپنے امیدوار کی کامیابی کے لیے  یوسی 46 میں کافی میٹنگز کی ہینڈ بلز تقسیم کیے , یوسی 46 میں چیئرمین کی نشست پر کامیاب ہونے کے لیے انتیظامی طاقت کا بھرپور استعمال کیا گیا , ایم این ایز نے اپنے اثر و رسوخ سے ووٹرز پر حاوی ہونے کی کوشش کی , مئیر نے اس یو سی پر کامیاب ہونے کے لیے نہ صرف بلدیہ آفس کا استعمال کیا بلکہ بلدیہ کے ملازمین کو بھی اس یوسی میں مصروف رکھا,  فاروق ستار کے ساتھ چمٹے ہوۓ بڑے بڑے ناموں نے اس یوسی پر کامیابی کے لیے ووٹرز سے منتیں کیں , 
دوسری جانب ایک آزاد امیدوار تھا جس کی نہ ہی کوئی مہم چلائی گئی اور نہ ہی کسی اور طاقت کا مظاہرہ کیا گیا مگر اسکے پاس کچھ تھا تو وہ بس ایم کیوایم  قائد کی حمایت تھی اور عوام کو اگر کچھ اس امیدوار کے بارے معلوم تھا تو وہ یہ تھا کہ اس امیدوار کو الطاف بھائی کی حمایت حاصل ہے اور یہ وفاپرست ہے .
الیکشن کی تاریخ تھی 13 اپریل 2017 اور دن تھا جمعرات , الیکشن ﮈے پر جب پولنگ کا آغاز ہوا تو ایک ایم این اے کی جانب سے مختلف پولنگ اسٹیشن پر قابض ہونے کی کوشش کی بعض پولنگ اسٹیشنز پر جعلی ووٹوں کی شکایات کے واقعات بھی واضح ثبوت کے ساتھ میڈیا  کے سامنے پیش آتے رہے , پی آئی بی کے اراکین اسمبلی کی جانب سے پولنگ اسٹیشنز پر قابض ہونے کی جہاں خبریں آرہی تھیں وہی یہ بھی دیکھا گیا کہ لوگوں نے خود اپنے اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھتے ہوۓ اپنے ووٹ کی حفاظت کی اور جعلی ووٹ کی نشاندہی کی اور اسی عمل کی بدولت بااثر ایم این ایز ایم پی ایز عوام کے سامنے بےبس ہوگئے اور نتیجہ تبدیل کرنے کی ساری سازشیں ناکام ہوئیں اور نتیجہ ایک وفا پرست امیدوار کے حق میں آیا, بلدیاتی انتیخابات 2015 میں جو سیٹ حق پرست کے طور پر جیتی گئی تھی وہی سیٹ 2017 میں وفا پرست نے جیت لی . 
ﮈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں لڑنے والے امیدوار کو حالانکہ ایم کیوایم کا پلیٹ فارم اور اسکا مقبول انتخابی نشان پتنگ حاصل تھا اسکے باوجود شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور دوسری جانب بنا مہم کے ایک آزاد امیدوار نئے نشان مگ کے ساتھ ایم کیوایم قائد کی حمایت کی وجہ سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگیا , جس سے صاف ظاہر ہےکہ آپ الطاف حسین سے اسکی جماعت کا نام چھین لو , انتخابی نشان چھین کو , اسکی حق پرستی کا نعرہ چھین لو مگر ایک بات بتاو اس شخص کے لیے عوام کے دلوں میں بسنے والی عزت و احترام , محبت , عقیدت کیسے چھینوں گے؟ آفس توڑ دیے , دفاتر سیل کردیے مینڈیٹ کیسے توڑو گے ؟
فاروق ستار گروپ کے امیدوار کو ( بشمول جعلی ووٹ )  پتنگ کے نشان پر 437 ووٹ ملے اور ایم کیوایم قائد کے حمایت یافتہ  امیدوار  کو( یوسی 46 چئیرمین) مگ کے انتخابی نشان پر 768 ووٹ ملے اور یوں وفا پرست امیدوار نے مفاد پرستوں کو 331 ووٹوں سے شکست دے کر دھول چٹادی.

فاروق ستار کی سربراہی میں انتیظامی مشینری کے استعمال کےباوجود ایم کیوایم پاکستان کے امیدوار کی  شکست,ﮈاکٹر فاروق ستار اور دیگر کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے , اگر دیگر یوسیز  میں بھی جناب الطاف حسین کی حمایت یافتہ امیدوار کھڑا ہوتا تو کیا وہ دیگر یوسیز کے ضمنی انتخابات میں جیت سکتے تھے ¿
بلدیاتی انتخابات ہوں , ضمنی الیکشن ہو یا پھر عام انتخابات یہ بات واضح ہےکہ انتخابی نشان کوئی بھی ہو شہری سندھ میں  جیتے گا وہی جسے جناب الطاف حسین کی حمایت ہوگی . 


چار سال سے جاری کراچی آپریشن , بلاجواز چھاپے , گرفتاریاں , ماوراۓ عدالت قتل ,  الزامات کی پونچھاڑ , لاتعلقی کا سلسلہ.. سب ناکام عوام پھر بھی مائنس الطاف فارمولے کو اپنانے کو تیار نہیں .. عوام کا ووٹ آج بھی ایم کیوایم قائدکےلیےہے.

الٹی ہوگئی سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا .
حیدرآباد میں ہونے والے بلدیاتی کے ضمنی انتخاب میں جناب الطاف حسین کی حمایت یافتہ امیدوار کی کامیابی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کسی بھی قسم کی سختی , جبر , اور ظلم و زیادتی کےزریعے عوام کی سوچ و فکر تبدیل نہیں کی جاسکتی.عوام نے فاروق ستار گروپ کے امیدوار کو مسترد کرکے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ ماضی میں ملنے والا  مینڈیٹ صرف نظریہ کو ہی نہیں اس نظریہ دینے والی شخصیت کو بھی ملتا رہا ہے.

 

Advertisements