پاکستان میں ہم کافی عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ آگے بڑھنے کے بجائے واپس پیچھے کی جانب دھکیلے جارہے ہیں……جس میں سب سے اہم کردار ہمارا میڈیا ادا کررہاہے …… کسی بھی اہم ا یِشو پر تواترُ کے ساتھ پہلے بحث کی جاتی ہے اور پھر جب وہ بحث انجام کو پہنچنے والی ہی ہوتی ہے کہ اچانک  مُو ضوع تبدیل کردیاجاتا ہے اور پھر کسی غیرسنجیدہ ایشو یا   مُو ضوع کو اتنی بار عوام کے سامنے پِیش کیا جاتا ہے کہ عوام بھول جاتی ہے کہ اتنے عرصے سے انکا دیہان کس طرف تھا ……  
پاکستان میں گذِشتہ سال اپریل 2016 میں پانامہ پیپرز کی شکل میں ہونے والے انکشافات کوئی انہونی نہیں تھی کہ اسے عوام بریکنگ نیوز کے طور پر سُننا پسند کرتے   ü  کیونکہ اکثریت عوام جانتی ہے کہ ہمارے حکمران جو امریکہ اور دیگر ممالک سے عوام کے نام پر امداد لیتے ہیں وہ ملک میں لگتی ہی نہیں اور اس امداد سے ہمارے حکمران اپنے خاندان کو عیش و عشرت کی زندگی گزر بسر کروانے کے لیے  یا دیگر ممالک میں کاروبار کرنے کے طور پر استعمال کرتے ہیں……
پانامہ پیپرز میں جب وزیراعظم نواز شریف صاحب اور انکے خاندان کے کاروبار کے حوالے سے دستاویزات منظرِ عام پر آئیں تو مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسے سیاسی طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اور معاملہ عدالت لے گئے 10ماہ تک اس حوالے سے گفتگو ہوتی رہی , جنوری 2017 میں پانامہ کیس کی سماعت روز کی بنیاد پر ہونے لگی اور میڈیا پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنی پیشن گوئیاں اور عوام کو سُہانے خواب دکھا         ے ٔ  جانے لگے کہ اب سب کے لیے ایک ہی نظام ہوگا , کوئی بھی مجرم ہو اُسے سزا ملے گی , کوئی ملک کو نچلی سطح پر دیمک کی طرح چاٹے یا کسی اہم اور بڑے عہدُِے پر رِہ کر ملک و قوم کا پیسہ ہضم کرنے کی کوشش کرے سب کا احتساب ہوگا , فروری 2017 کے اختتامی ایام میں سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا…… فصلہ محفوظ ہوجانے کے بعد دونوں اطراف سے پیشن گوئیاں شروع ہوگئی کہ فیصلہ اُنکے حق میں ہوگا اور اِسی طرح ایک ماہ گزر گیا , دن یوں ہی گزرتے گئے اور آہستہ آہستہ لوگ پانامہ کیس کے فیصلے کو تھوڑا بہت یاد ہی رکھے تھے کہ اچانک پانامہ کیس سے بالکل ہی عوامی توجہ کو ختم کرنے کے لیے ہمارا میڈیا پھر میدان میں آگیا اور سابق امریکی سفیر کے شائع ہونے والے ایک مضمون پر بحث چھیڑدی گئی کہ حسین حقانی نے اپنے مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ  â2008 سے 2013 کی پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت میں á  ا مریکیوں کو ویزے دینے  اور 2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے امریکی سرجیکل اسڑائیک کے حوالے سے صدر وزیراعظم بھی آگاہ تھے , دوسری جانب سابق امریکی سفیر حسین حقانی کا موقف ہے کہ انھوں نے اپنے مضمون میں کوئی انکشاف نہیں کیا , جو کچھ انھوں نے مضمون میں لکھا وہ پہلے بھی یہ سب بیان کرچکے ہیں ……
حالانکہ اسامہ بن لادن کے لیے امریکی سرجیکل اسڑائیک اور اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیاگیا تھاتاکہ لاپرواہی اور غفلت برتنے اور سہولت کاری کرنے والے افراد کا پتہ چل سکے , آج 6 سال گزرگئے مگر آج تک ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا,ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو منظر عام پر لایا جاتا مگر ایسا نہیں ہوا , بلکہ ماضی کی چیزوں کو کریدنے کا ایک سلسلہ شروع کردیا گیا, کچھ صحافیوں کی جانب سے ایک لیٹر کو موضوع بنایا گیا جس میں وزیراعظم کی پرنسپل سیکریٹری نرگس سیٹھی کے دستخط ہیں جسکی بنا پر امریکیوں کو ویزا فراہم کیا گیا ……
ویزا ایشو کرنے اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا نام آیا تو وہ بھی سامنے آگئے کہ انھوں نے کسی سفیر کو نہیں سفارت خانے کو ویزا جاری کرنے کی اجازت دی تھی……
عوام پہلے پانامہ کیس کے فیصلہ محفوظ ہونے پر اس فیصلے کو  ُسننا چاہتی تھی مگر اب اُسکو بھول کر ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ اور حسین حقانی کو سننا چاہتی ہے کیونکہ ہمارا میڈیا اتنی سنسنی پھیلا دیتا ہے کہ قوم کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ یہ ہمارے سیاستدانوں کی پہیلی ہے …… ایک گُتھی سُلجھتی نہیں کہ پوری قوم کو دوسری گُتھی میں  ا ُلجھا دیا جاتا ہے ……
پاکستانی قوم کے ساتھ کب تک اِس طرح کا مزاق کیا جاتا رہے گا , ہمیں اپنی خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہوگا کیونکہ اگر ہمارا معاشرہ اسی طرح چلتا رہا اور عوامی مسائل اُجاگر کرنے اور عوام کے لیے حکمرانوں سے سوال کرنے والا ادارہ اسی طرح اشرافیہ کے ہاتھوں میں کھیلتا رہا تو ہمیں کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ہم خود ہی اپنے دشمن بنتے جارہے ہیں…… کیا ہمارا معاشرہ اور معاشرے میں شعور اُجاگر کرنے والا ادارہ صحافت اور میڈیا صحیح سمت میں جارہے ہیں ؟
کاش ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے اشرافیہ کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے تو آج اس طرح زرد سیاست کاکھیل ہر ادارے میں دیکھنے کو نہ ملتا……

Advertisements