ایم کیو ایم کی 33 سالہ جدوجہد
                                                                 

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب متوسط طبقہ سے نوجوانوں کو اعلی ایوانوں , قانون ساز اسمبلی میں بھیجنے جیسے اقدامات اور پاکستان میں نوجوان قیادت کو متعارف کروانے والی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے
پاکستان کے شہری سندھ میں جناب الطاف حسین نے  طلبہ کے حق کے لیے 11جون 1978 کو طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او بنائی , پھر اسکے ایک سال بعد 1979 کو عوامی خدمت کے لیے ایک خدمت خلق کمیٹی تشکیل دی  جو بعد میں خدمت خلق فاؤندڈیشن میں تبدیل کردی گئی اور پھر جب تعلیمی درسگاہوں کے دروازے اے پی ایم ایس او سے وابستہ طلبہ کے لیے بند کردیے گئے تو جناب الطاف حسین نے اپنی جدوجہد کو جامعات کے اعلاوہ گلی کوچوں میں بھی متحرک کردیا اور جناب الطاف حسین کے لیے جامعہ کے دروازے بند کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ 18 مارچ 1984 کو طلبہ تنظیم سے ایک تحریک کو جنم دیا گیا جس کا نام مہاجر قومی موومنٹ تھا
جوں جوں لوگوں میں اس تحریک کا مقصد اور منزل سمجھ آنے لگی لوگ تیزی سے شامل ہوتے رہے   شہر کراچی میں 8 اگست 1986 کو بانی و قائد تحریک جناب الطاف حسین  نے اپنے پہلے عوامی جلسہ سے خطاب کیا جس میں بے مثال نظم و ضبط دیکھا گیا , دوسرا جلسہ حیدرآباد میں 31اکتوبر 1986  کو ہوا جس کو  متنازع بنانے کے لیے شہر کراچی سے  حیدرآباد جانے والے قافلہ پر پہلے فائرنگ کروائی گئی اور پھر جب حیدرآباد میں بھرپور عوامی جلسہ کے اختتام کے بعد بانی و قائد تحریک اور کارکنان واپس کراچی جارہے تھے تو انھیں راستے میں گرفتار کرلیا گیا اور تحریک سے وابستہ افراد کو  حراساں کرکے اس تحریک کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی   جناب قائد تحریک کی گرفتاری کے باوجود تحریک جاری رہی , حقوق کے حصول کے لیے ساتھ دینے والوں میں بڑی تعداد غریب متوسط طبقہ کی تھی اسی کے پیشِ ِ نظر 14 دسمبر 1986 کو قصبہ و عالیگڑھ کالونی میں سوچی سمجھی سازش کے تحت جرائم پیشہ عناصر  کو  قتل و غارت گری کرنے کا لائسنس دیا گیا , مزدور طبقہ میں بھی تیزی سے احساس محرومی کو محسوس کیاجانے لگا تھا , ایم کیوایم کے  قیام کے تین سالوں میں ہر سطح پر لوگ تحریک سے جڑنے لگے تھے  او ر پھر  روزانہ  کی بنیاد پر مزدوری کرنے والوں , سرکاری  اور  غیرسرکاری سطح پر ملازمت کرنے والوں کے  ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے  28 فروری 1987 کو    لیبر ڈویژن  ایم کیوایم  کا قیام عمل میں آیا.
تیزی سے عوام میں شعور بیدار ہونے لگا, لفظ مہاجر کی اپنی شناخت کا احساس سر اٹھانے لگا تھاکہ اس شناخت کو صوبائی و قومی سطح پر منوانے کے لیے انتخابی عمل میں حصہ لیا گیا……
مہاجر قومی موومنٹ نے اپنا عوامی تک کا  پہلا  مظاہرہ 1987 کے بلدیاتی انتخابات میں کیا جس میں کراچی و حیدرآباد میں مہاجرقومی موومنٹ اکثریت میں ابھر کر سامنے آئی اور اسی بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے نتیجے میں شہر کراچی میں جناب الطاف حسین نے ایک کم عمر عام نوجوان کو شہر کا مئیر بنایا,  بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے ایک سال بعد ملک بھر میں 1988 میں عام انتخا بات ہوئے جس میں شہری سندھ کی عوام نے ایم کیوایم کے امیدواروں کو بھاری تعداد میں ووٹ دے کر اپنے اعتماد کا اظہار کیا
مسلسل 10 سال کی جدوجہد , دن رات کی انتھک محنت , جیل کی صعبتوں کے نتیجے میں یوں جناب الطاف حسین کی قیادت میں اٹھنے والی تحریک جامعہ کراچی سے نکل کر گلی کوچوں اور پھر کوچوں سے کل کر شہروں اور شہروں سے نکل کر قانون ساز اسمبلی تک جا پہنچی تھی
اس تحریک کی آواز کی گونج جب ایوانوں تک پہنچنے لگی تو ملک پر قابض اشرافیہ کو  برداشت نہ ہوا  اس تحریک کو ختم کرنے اور لوگوں کو جناب الطاف حسین کی سحرانگیز شخصیت سے دور رکھنے کے لیے قتل و غارت کا سلسلہ شروع کردیا گیا ,شہری سندھ میں ایم کیوایم اور الطاف حسین کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت لسانی فسادات کو ہوا دینے کے لیے  سانحہ 30 ستمبر 1988 , سانحہ 26/27 مئی 1990 جیسے سانحات حیدرآباد میں پیش آئے جس میں سینکڑوں شہری شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے جسے ایم کیوایم قائد نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے باطل قوتوں کی سازشو ں  کو ناکام بنایا اور عوام کو اتحاد کا درس دیا اور لسانی فساد سے بچنے کا پیغام دیا……جب تمام حربے ناکام رہے تو قائد تحریک پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں وہ اللہ کے فضل و کرم سے بچ گئے مگر اس حادثے سے بات واضح ہوگئی تھی کہ باطل قوتیں اب قائد تحریک کی جان کے در پے ہیں اسی کے پیش نظر 1992میں کارکنان اور رابطہ کمیٹی کی جانب سے  قائد تحریک سے اصرار کیا گیا کہ وقتی طور پر جلاوطنی اختیار کرلی جائے
ایم کیوایم کے قائد کی جلاوطنی کے چند ماہ بعد جرائم پیشہ عناصر کی آڑ لے کر شہری سندھ خصوصا ْ کراچی میں 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا مگر جو آہستہ آہستہ بڑی مچھلیوں سے ہٹ کر ایک مخصوص طبقہ کی جانب موڑدیا گیا اور 19 جون 1992 کو ایم کیوایم اور مہاجروں کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع کیا گیا , بہت سے جعلی مقابلے کیے گئے ماورائے عدالت قتل عام شہری سندھ میں عام کردیا گیا , ملک دشمنی جیسے گھناؤنے الزامات لگائے گئے مگر کسی سطح پر اسے ثابت نہ کیا گیا تمام تر الزامات کے باوجود 1993 میں ہونے والے انتخابات میں پھرعوام نے الطاف حسین کے امیدواروں کو ووٹ دے کر اپنے اعتماد کا اظہار کیا جہاں ایم کیوایم کے کارکنان کے خلاف زیادتیاں کی جارہی تھیں وہی عام شہریوں کو بھی ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا جس میں بانی و قائد تحریک جناب الطاف حسین کے بھائی اور بھتیجے کو بھی نہ بخشا گیا 5 روز تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 9 دسمبر 1995 کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا
تمام تر ریاستی ظلم و بربریت کے باوجود ایم کیوایم کے قائد اور کارکنان کی جانب سے تحریک کو جاری رکھا گیا اور اپنی جدوجہد کو ایک منٹ کے لیے بھی نہیں روکا  بلکہ تمام تر سازشوں سے سرخروں ہوکر اپنی تحریک کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کے لیے مہاجر قومی موومنٹ کو 26 جولائی 1997 کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کرکے ملک میں موجود 98 فیصد مظلوم محکوم کے لیے اپنے دروازے کھولے تاکہ تمام قومیت کے مظلوم و محکوم عوام جناب الطاف حسین کے ساتھ مل کر اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے  عملی جدوجہد کرسکیں .
متحدہ قومی موومنٹ کو جب 2002 سے 2007 تک مشرف دور میں شہری سندھ کی خدمت کا موقع ملا تو کوئی کسرنہ چھوڑی , قائد تحریک نے عوامی نمائندوں , مئیر , ڈپٹی مئیر کے ساتھ مل کر عوام کی خدمت میں  دن رات ایک کرکے شہر کراچی کی عوام کی اس طرح سے خدمت کی  اسے نہ صرف قومی سطح پر  تسلیم کیا گیا بلکہ بین الااقومی سطح پر بھی اس کو سراہا گیا اور اس طرح سے جناب الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیوایم 29 سالہ جدوجہد میں صوبائی سطح کے بعد قومی اور بین الااقوامی سطح پر اپنی شناخت نہ صرف متعارف کروانے میں کامیاب رہے بلکہ اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا بھی لوہا منوایا
 

عوامی خدمت کی بات کی جائے تو ا ایم کیوایم  پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے سیاست میں خدمت کے کلچر کو فروغ دیا …… 2005 / 2008 کا زلزلہ ہو یا پھر 2009 کا سیلاب جہاں کہیں بھی ضرورت پڑی قائدتحریک نے کے کے ایف کے رضاکاروں کو ملک کے کونے کونے میں متاثرین کی امداد کے لیے فوری اقدامات کی نہ صرف ہدایت کی بلکہ اسکی مانیٹرنگ بھی کی , قائدتحریک کا فکرو فلسفہ شہری سندھ سے نکل کر دیہی سندھ , پنجاب , کے پی کے , گلگت بلتستان ,  ملک کے چپے چپے میں پھیل رہا تھا اور دوسری جانب میثاق جمہوریت کے نام پر مہاجروں کے خلاف سازشیں تیار کی جارہی تھیں , لوگ تیزی سے ایم کیوایم کے منشور فکرو فلسفہ سے متاثر ہورہے تھے عوامی مقبولیت کے پیش نظر 2010 میں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ایم کیوایم 2013 میں قومی سطح پر ابھر سکتی ہے ابھی یہ تاثر ابھر ہی رہا تھا کہ 2011 میں منصوبہ بندی کے تحت سازش کا آغاز کردیا گیا کراچی کے حالات تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہوگئے قتل و غارت کا بازار گرم کرکے اس کے الزامات ایم کیوایم پر لگا کر سندھ کے باہر دیگر صوبوں میں عوامی مقبولیت اور ساکھ کو خراب کرنے کے لیے مجرم بناکر پیش کیا جانے لگا اور نتیجہ یہ نکلا کہ جو جماعت ملک میں قومی سطح پر تیزی سے ابھر رہی تھی اسے شہری سندھ تک محدود کردیا گیا , اور پھر 2013 انتخابات کے فوری بعد سازشیں عیاں ہونے لگیں کراچی میں آپریشن شروع ہوا تو پھر وہی ہوا ماضی میں 72 بڑی مچھلیاں تھیں اس بار 458 دہشت گرد جرائم پیشہ عناصر کے نام پر کراچی آپریشن شروع کیا گیا اور مخصوص طبقہ اور جماعت کے خلاف موڑدیا گیا,پہلے بھی آپریشن کے نتیجے میں ایم کیوایم کو مختلف گروپس میں تقسیم کرنا چاہا تھا اور اس بار بھی وہی کھیل جاری ہے .
شہر کراچی میں آپریشن کے دوران ماورائے عدالت قتل , مسلسل کارکنان کی گرفتاریوں اور ایم کیوایم کی سیاسی سرگرمیوں پر  غیراعلانیہ پابندی کے خلاف جب ایم کیوایم کے قائد نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا تو ریاست کی جانب سے عدالتی احکام کے زریعے 2015 میں انکی تقریر کی نشرواشاعت پر مکمل پابندی عائد کردی گئی , سڑکوں اور اہم شاہراہوں پر لگی تصاویر کو ہٹادیا گیا ,  عزیزآباد میں  ضمنی انتخاب سے چند روز قبل پھانسی کی سزا کے  قیدی کی جانب سے جناب الطاف حسین کے خلاف الزامات کی پونچھاڑ کروائی گئی مگر ضمنی انتخاب کے نتیجے پر کچھ بھی اثر انداز نہ ہوسکا اور عوام نے  عزیزآباد میں 23 اپریل 2015 کو این اے 246 کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں بڑی تعداد میں ووٹ دے کر تمام الزامات کو مسترد کردیا……مگر ریاستی رویہ تبدیل نہ ہوا
تمام تر سازشوں , سختیوں کے باوجود ایم کیوایم کے قائد کی قیادت میں ایم کیوایم نے 2015  کے  بلدیاتی انتخابات میں شہری سندھ میں بھرپور کامیابی حاصل کی اور کراچی حیدرآباد اور میرپورخاص میں ایم کیوایم کے مئیرز ڈپٹی مئیرز اور چیرمین, وائس چئیرمین منتخب ہوئے,
تمام تر سختیوں اور پابندی کے باوجود کوئی نتیجہ نہ  نکلا توایم کیوایم کے قائد کی 22 اگست 2016 کی تقریر کو جواز بناکر 90 کے سیل ہوجانے , مختلف دفاتر مسمار کیے جانے , اور پھر 23 اگست 2016 کو ایم کیوایم کے اارکانِ اسمبلی کی جانب سے قائد سے لاتعلقی جیسے اقدامات , اور ایم کیوایم کے سابقہ ارکان کی جانب سے نئی جماعت بنانے کے بعد  یہ کہا جارہا ہے کہ ایم کیوایم قائد کا چیپٹر کلوز ہوگیا ہے  ü  حالانکہ زمینی حقائق یہ کہتے ہیں کہ ایم کیوایم سے علیحدہ ہوجانے والے ارکان اسمبلی اور چند افراد ایم کیوایم نہیں بلکہ ایم کیوایم وہ ہے جہاں نام الطاف حسین اور قائد الطاف حسین ہے  , جس کی حمایت پر گرفتاری کا خدشہ ہونے کے باوجود اسکے چاہنے والے کسی بھی قسم کی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں
ایم کیوایم قائد سے لاتعلقی اختیار کرنے والے گروپ کی جانب سے کہا جاتا رہا ہے کہ 70 فیصد کارکنان انکے ساتھ ہیں مگر یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ شہری سندھ میں ایم کیوایم کے جتنے بھی صوبائی و قومی اسمبلی اور بلدیاتی نمائندگان ہیں سب ہی الطاف حسین کے نام پر منتخب ہوئے ہیں , اور جہاں تک عوام اور کارکنان کی حمایت کی بات ہے یہ تو 2018 کے عام انتخابات ہی میں سب کو معلوم ہوجائے گے کہ کس کا چیپٹر شروع ہوا اور کس کا ختم ہوا……
ایم کیوایم کے 18 مارچ 1984 سے 2017 تک  ان 33 سالوں  میں مختلف سانحات میں ہزاروں شہید , سینکڑوں زخمی ہوئے , مختلف آپریشن کے نتیجے میں سینکڑوں لاپتہ کیے گئے , کتنے آج بھی مشکلات سے دوچار ہیں……متحدہ قومی موومنٹ کی حقوق سے محروم عوام کے حق کے لیے چلنے والی اس تحریک کو 33 سالہ  جدوجہدمیں بہت سے مشکل ترین ادوار سے گزرنا پڑا ہے ۔بہتر مستقبل کے لیے تحریکی  جدوجہد کرنا انسان کا کام ہے اور یہ کب تکمیل کو پہنچے گی اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا لیکن جدوجہدتکمیل کو ضرور پہنچتی ہیں بشرطیکہ اس جدوجہدمیں تحریک سے وابستہ ہر فرد تحریک کے مشن و مقصد سے مکمل طور پر آگاہ ہو , کیونکہ  حقوق  کے حصول کے لیے اُٹھنے  والی  تحریکوں کو جتنا دبایا جاتا ہے وہ اتنی ہی تیزی سے ابھر کر سامنے آتی ہیں کیونکہ ظلم و ستم سے تحریکوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس سے تحریکیں مزید منظم ہوتی ہیں اور انھیں مزید طاقت ملتی ہے……

Advertisements