ہم کتنے ہیں؟ مردم شماری میں شفافیت ضروری ہے

کسی بھی ملک میں بہتر طرز حکمرانی کے لیے اگر کوئی بات یا چیز اہمیت کی حامل ہے تو وہ ملک کی آبادی کا صحیح اعداد و شمار ہے جس سے ہمیں مسائل کے حل میں مدد ملتی ہے کہ آیا کس جگہ کس بات کو بہت زیادہ اہمیت دینی ہے ۔ پاکستان میں سب سے پہلی مردم شماری پاکستان کے قیام کے 4 سال بعد 1951 میں ہوئی اور پھر دوسری 1961 , تیسری مردم شماری 1971 میں ہونا تھی مگر سانحہ سقوطِ ڈھاکہ پیش آجانے کے باعث ایک سال کی تاخیر سے 1972 میں ہوئی , چوتھی 1982 , اور پھر 1998 میں پانچویں مردم شماری کی گئی۔

مردم شماری ہردس سال بعد ہونا تھی مگر بعض اوقات سیکورٹی کی ناقص صورتحال یا پھر ملک میں نافذ مارشل لاء اور ایمرجنسی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتی رہی مگر المیہ یہ ہے کہ 2008 سے 2016 تک کسی کی جانب سے نہ اس پر سنجید گی سے توجہ دی گئی اور نہ ہی اس پر کسی اور ادارے کی جانب سے توجہ دلوائی گئی۔

CENSUS POST 2

ہمارے ملک میں گزشتہ 9 سالوں سے جمہوریت کا دور دورہ ہے مگر اس کے باوجود اس کے ثمرات عام عوام تک پہنچنا تو دور اس کے قریب بھی نہیں بھٹکے ۔ پاکستان میں گزشتہ 9 سالوں سے جمہوری طاقتیں حکومت کررہی ہیں مگر ہمیں پھر بھی کوئی ایسا اقدام ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا۔ جس سے عام شہریوں کو آمریت اور جمہوریت میں فرق سمجھ آسکے۔ جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوری جماعتیں خود جمہوریت کے حقیقی مطلب یا تعریف سے ہی آگاہ نہیں ہیں کہ جمہوریت صرف کسی سیاسی جماعت کی طرز حکمرانی کا نام نہیں بلکہ ایسے نظام کو جمہوریت کہتے ہیں جس میں عام شہری خود بھی شامل ہو۔

سپریم کورٹ کے حکم پر ملک بھر میں جمہوریت کی نرسری کے طور پر جانی پہچانی والی مقامی حکومتیں تو بنادی گئیں مگر ان سے تمام اختیارات چھین کر جمہوریت کا لبادہ اوڑھے حکمرانوں نے اپنی تجوری میں رکھ لیے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے حکم پر جس طرح بے دلی کے ساتھ 2015 میں مقامی حکومت کے قیام کے لیے انتخابی عمل مکمل کیا گیا تھا اسی طرح پاکستان کے جمہوری حکمرانوں کی جانب سے عدالتی احکامات کو مسلسل ٹالتے ٹالتے اب 9 سال کی تاخیر سے ہی سہی مگر 2017 میں پاکستان کی چھٹی مرتبہ مردم شماری کا آغاز کردیا گیا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ 19 سال میں بغیر سمت بنا کسی اعداوشمار کے تصوراتی گنتی پر وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کی جاتی رہی ہے ۔ اس عمل سے جو حصہ سب سے زیادہ متاثرہ ہوا ہے وہ ہمارے ملک کے شہری علاقے ہیں ۔ پاکستان میں ترقیاتی کاموں کے لیے بجٹ اِدھر سے اُدھر تو ہوتا رہا اور ہر سال وفاقی اور صوبائی بجٹ بھی بنتا رہا مگر کسی نے اس پر کان نہیں دھرا کہ کسی بھی صوبے کے کس شہر میں کتنی آبادی پر اسکول، اسپتال , کالج یا دیگر انسانی ضروریات ہونی چاہیں۔ جس شہر میں جو آبادی 1998 میں ظاہر کی گئی تھی اسی اعداوشمار کو کئی سالوں تک استعمال کیا جاتا رہا اور 1998 کے بعد جتنی بھی آبادی اور معاشرتی تبدیلیاں آئیں اس پر کچھ سوچ بچار نہیں کیا گیا جس کے باعث شہروں میں مسلسل بگاڑ بڑھتا رہا ہے۔

CENSUS POST 1
پاکستان میں اگر ہم صرف سندھ کی بات کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی ایسے علاقے (تھرپارکر , دادو , لاڑکانہ وغیرہ ) میں بھی موجود ہیں جہاں دور دور تک نہ کوئی سڑکیں ہیں اور نہ ہی کوئی تعلیمی یا اسپتال وغیرہ کی سہولیات ہیں ۔ ایسے شہروں کے لوگ جب حکمرانوں کی بے حسی کا شکار ہوتے ہیں تو وہ دیگر بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور یہ ہی عمل وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم میں سب سے اہم وجہ بنتا ہے ۔کیونکہ جس شہر میں لوگ ملازمت یا دیگر غرض سے نقل مکانی کرتے ہیں وہاں اس شہر کو اسی وسائل میں گزر بسر کرنا مشکل ہوجاتا ہے جوکہ اس کی آبادی پر مشتمل نمائندوں یا اداروں کو دیا جاتا ہے اور جہاں سے نقل مکانی کا عمل ہورہا ہوتا ہے وہاں وسائل کا کاغذی استعمال تو ہورہا ہوتا ہے مگر حقیقت میں ان شہروں میں نقل مکانی کے عمل سے گزر کر شہر اور گاؤں میں صرف زمین رہ جاتی ہے اور لوگ دیگر بڑے شہر منتقل ہوجاتے ہیں۔

پاکستان کی آبادی کے حوالے سے غیرسرکاری اعداوشمار کو دیکھا جائے تو بعض مبصرین اور دیگر کا دعوی ہے کہ ملک کی آبادی 20 بیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور اس میں ملک کے بیشتر شہر ایسے بھی ہیں جہاں دنیا کے بہت سے ممالک سے بھی زیادہ آبادی ہے جیسے مثال کے طور پر کراچی اور لاہور کو ہی لے لیجیے یہ وہ شہر ہیں جن کی آبادی دنیا کے بہت سے ممالک کے برابر یا زیادہ ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو پاکستان میں بڑھتی ہوئی شہری آبادی کو دیکھتے ہوئے اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں مزید صوبوں کے قیام کے لیے بھی کوئی عملی اقدام کیا جائے۔

پاکستان میں اس وقت سب سے اہم اور بنیادی فرض کو انجام دیا جارہا ہے اور اس میں ہر طبقہ آبادی کو چاہیے کہ وہ مردم شماری میں بھرپور حصہ لے اور عملے کے ساتھ مکمل تعاون کرے تاکہ خوش اسلوبی کے ساتھ مردم شماری کا عمل اختتام کو پہنچے کیونکہ مردم شماری سے ہمارے تھنک ٹینکس یا پالیسی سازوں کو صحیح اندازہ ہوگا کس شہر اور صوبے میں کتنی آبادی ہے کتنے لوگ ملازمت یا تعلیم سے محروم ہیں اور کنتی فیصد آبادی کو بنیادی سہولیات میسر ہیں اور کتنی فیصد آبادی اپنے بنیادی حقوق سے ہی محروم ہیں۔  پاکستان  میں وسائل کی  غیرمنصفانہ تقسیم  کی ہی وجہ سے ملک میں  امیر  امیر ترین  اور غریب  غریب  تر ہوتا جارہاہے ü

ملکی آبادی کے صحیح اعداوشمار کی مدد سے ہی ہر شہری کو بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جاسکیں گے ……
ہم  نے ماضی  میں  دیکھاہے کہ مردم شماری جیسے  اہم ایشو پر بھی بعض  عناصر کی جانب سے انتحابی سیاست میں برتری حاصل کرنے کے لیے اعداوشمار میں ردوبدل کیا جاتا رہا ہے  ……
۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بارمردم شماری جیسے اہم ترین عمل کی  شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر اقدامات کرکے عام شہری کو بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر شہری کا صحیح شمار کیا جائے گا!۔ پاکستان میں کئی سالوں سے غریب متوسط طبقہ کی آبادی کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے ہر بار سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مردم شماری کے عمل کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اگر کوئی بات یقینی بنانے کی ہے تو وہ اس عمل کی مکمل شفافیت ہے جوکہ کسی بھی قسم کے اہم فرض کو سرانجام دینےکے لیے بہت ضروری ہے۔

Advertisements