پاکستان میں ماہ فروری میں ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد عوام کی جانب سے  حکمرانوں کی کارکردگی پر سوال اٹھایا جارہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام کیوں نہیں کیا جارہا ہے , اسی کے پیش نظر ملک بھر میں آپریشن  رَدُّالفَسَاد  کا آغاز کیا گیا , دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد پاکستان سپر لیگ ٹو کا فائنل جوکہ پہلے سے طے شدہ تھا کہ لاہور میں ہوگا اسکا انعقاد کھٹائی میں پڑتا جارہا تھا ……   لاہور دھماکے کو بہت سے لوگ پی ایس ایل سے جوڑ رہے تھے جس کے باعث پی ایس ایل ٹو کے فائنل کا انعقاد پاکستان میں کرانا ایک دہشت گردی کے خلاف کامیابی سے جوڑدیا گیا کہ اگر ہم پاکستان سپر لیگ ٹو کا فائنل لاہور میں کرادیں تو ہم دہشت گردوں کو شکست دے دیں گے جوکہ حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے , اگر لاہور دھماکہ پی ایس ایل کے خلاف سازش تھی تو پھر سہون سندھ , حیات آباد , اور کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کونسے کھیل کے خلاف سازش تھی ؟
پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر پر عوام کے غم و غصہ کو کم کرنے  کے لیے پنجاب میں آپریشن شروع کردیا گیا اور عوام کی توجہ کو اہم ایشوز سے ہٹانے کے لیے حکمرانوں نے اپنی تمام تر توجہ پی ایس ایل ٹو کے فائنل کو لاہور میں کرانے پر مرکو ز کرکے کوششیں تیز کردیں , اور پھر تمام سیکورٹی اداروں کی معاونت کے بعد اعلان کردیا گیا کہ فائنل لاہور میں ہوگا , عوام جوکہ کافی عرصہ سے اپنے ہوم گراونڈز میں اسٹار کرکٹرز کو کھیلتا دیکھنے کے لیے بے قرار تھی وہ فائنل کے ٹکٹ کے حصول میں لگ گئی , میڈیا پر بھی ہر  چینل نے لاہور میں ہونے والے فائنل کے لیے بھرپور تشہیری کی جس سے حکمرانوں کا عوام کی توجہ دیگر معمولات سے ہٹانے کا کام تھوڑا مزید آسان ہوگیا , فائنل میں پہنچنے والی ٹیم کے غیرملکی کھلاڑیوں نے منع کیا تو دیگر کھلاڑیوں سے رجوع کرلیا گیا اور بآسانی لاہور پہنچ گئے
بالآخر تمام سیکورٹی کے  انتیظام مکمل کرلیے گئے پورے پاکستان کی سیکورٹی اس ایک پی ایس ایل ٹو کے فائنل پر مامور کردی گئی ,
میچ سے دو روز قبل ہی گراونڈکے اطراف میں موجود مارکیٹیں , اور مساجد بند کرنے کے بعد اور سخت سیکورٹی میں اللہ کے فضل و کرم سے یہ اہم ترین میچ اپنے انجام کو پہنچا اور دن بھی اختیتام پزیر ہوگیا……
کیا اتنی سیکورٹی اور کرفیو جیسے ماحول کے ساتھ کرکٹ میچ کرانا دہشت گردوں کو شکست دینا ہے ؟
پاکستان سپر لیگ ٹو کے فائنل دیکھنے کے لیے ملک کے سیاسی و مزہبی رہنماؤں , شوبز اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے بھی گراؤنڈ کا رخ کیا, پاکستان میں پی ایس ایل کے فائنل سے قبل اور دوران میڈیا کا کردار بہت ہی غیر زمہ دارانہ رہا , پی ایس ایل کے فائنل سے کچھ روز قبل ہی میڈیا پر پی ایس ایل کی اس طرح  تشہیری مہم  کی جارہی تھی جیسے ملک میں ہر طرف سے کرکٹ کی خبریں آرہی تھیں , میڈیا کی جانب سے  یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی رہی کہ عوام  بس ہر صورت  میں کرکٹ دیکھنا چاہتی ہے , , میچ کے روز ہر چینل پر صرف پی ایس ایل کے فائنل کا تذ کرہ تھا  جیسے پاکستان میں اگر کچھ ہورہا ہے تو وہ صرف پی ایس ایل ٹو کا فائنل ہے تمام اہم خبریں ترجیحات میں بالکل نچلی سطح پر جاپہنچی بس اگر کچھ اہم تھا تو وہ فائنل تھا ,

کیا یہ دھوکہ نہیں کہ عوام کی طرف سے یہ تاثر دینا کہ عوام ہر صورت میں کرکٹ چاہتی ہے جوکہ بالکل غلط ہے عوام کرکٹ ضرور چاہتی ہے مگر مصنوعی امن کے ساتھ یا غیر معمولی سیکورٹی اور خوف کے ماحول میں نہیں بلکہ حقیقی امن کے ساتھ جس کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کاروائیاں کی جائیں انتیہا پسندوں , دہشت گردوں کے خلاف حقیقی معینوں میں بھرپور کاروائی کی جائے تاکہ ملک میں کھیل اور دیگر سرگرمیاں بحال ہوں اور اس طرح ایمرجنسی کی سی صورتحال سے بچا جائے……
اگر سانحہ اے پی ایس کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان , اور جسٹس فائز عسیی’ کی سانحہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ پر مکمل عمل درآمد کرلیا جاتا , لاپرواہی برتنے والوں کو برطرف کردیا جاتا تو آج ملک کے حالات یکسر مختلیف ہوتے , اگر کالعدم تنظیموں کی آماجگاہیں پنجاب سے ختم کردی جاتیں تو اس طرح غیر معمولی سیکورٹی حصار میں پی ایس ایل ٹو کا فائنل کرانے کی نوبت ہی نہ آتی , لیکن اب آپریشن  رَدُّالفَسَاد کے لیے دعا ہے کہ اس بار حقیقت اور صحیح معینوں میں کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں , انتیہا پسندوں کی نرسریز کو ختم کرکے ملک سے دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے گا تاکہ ملک بھر میں امن قائم ہوسکے ……

Advertisements