ملک میں دہشت گرد حملے , زمہ دار کون ؟

یوں تو دنیا کے تمام ممالک ہی دہشت گردی جیسے ناسور سے متاثر ہیں لیکن اس دہشت گردی کی جنگ میں دنیا کے مقابلے میں کسی نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں ہیں تو وہ پاکستان ہے. آج سے 16 سال قبل امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد سے دنیا نے سبق حاصل کیا اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے اس کے باوجود ہم نے دیکھا کہ اکہ دکہ واقعات ضرور یورپ میں دیکھنے میں آے لیکن اس طرح سے کسی اور ترقی پسند ممالک نے نقصان نہیں اٹھایا جس طرح سے اس دہشت گردی کی عالمی جنگ میں پاکستانی قوم نے اٹھایا جس کی بنیادی وجہ متعلقہ حکام اور اداروں کی جانب سے غیرزمہ دارانہ رویہ ہے جس کا خمیازہ معصوم عوام کی جانوں کے ضیاع کی شکل میں اٹھانا پڑا ہے.
دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں 50 ہزار سے زائد پاکستانیوں کے قربانی دینے کے بعد آج سے 3 سال قبل آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا جس میں بہت سی کامیابیاں بھی ملہں مگر جب یہ آپریشن ضرب عضب نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا تو سیاست کی بھینٹ چڑھادیا گیا , سیاسی جماعتوں کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی انتیقام کے لیے استعمال کیا جانے لگا , نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی اور انکی مالی معاونت روکی جانی تھی مگر عملی طور پر اسکے برعکس دکھائی دینے لگا , پنجاب , کےپی کے اور اندرون سندھ میں جہاں انتیہا پسندوں کی آماجگاہیں ہیں وہاں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آیا , نیپ اور کراچی آپریشن کی آڑ میں شہری سندھ میں سیاسی جماعت میں توڑ پھوڑ کے عمل سے انتیہا پسندوں , کالعدم تنظیموں کو کھلی چھٹی دےکر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش شروع کردی گئی اور دوسری جانب دہشت گرد کالعدم تنظیمیں منظم ہوتی رہیں اور کھلے عام چندہ بٹورنے لگیں اور کچھ ریلیوں اور دیگر اجتماعات کے زریعے اپنا مشن و مقصد کو فروغ دینے میں مصروف رہیں اور آج فروری 2017 کے دوسرے ہفتہ میں چند روز میں اٹھنے والی دہشت گردی کی لہر نے نیپ اور دیگر کاروائیوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے.
کیا واقعی ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے یا پھر دہشت گردوں نے قوم کی کمر توڑ دی ہے , کب ہم جھوٹے دعووں سے باہر نکل کر حقیقت سے نظریں ملائینگے ..

فروری 2017 کے دوسرے ہفتہ پورے ملک کے کے لیے سوگوار رہا , پہلے کراچی میں نجی نیوز چینل کی وین پر دہشت گردی کا حملہ ہوا جس میں نوجوان ٹیکنیشن زندگی کی بازی ہار گیا , اس کے بعد لاہور , کوئٹہ, حیات آباد , وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں مختلیف دہشت گرد حملے ہوے ابھی انکا دکھ درد کم نہ ہوا تھا کہ 16 فروری کو سندھ میں سہون شریف لعل شہبار قلندر کے مزار کے احاطہ میں دہشت گرد نے خودکش دھماکہ کرکے فضا مزید سوگوار کردی , حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں 75 سے زائد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہیں . لاہور , پارہ چنار , حیات آباد اور دیگر حالیہ دہشت گرد حملوں پر جس طرح متعلقہ حکام کی طرف سے بیانات اور عزم کا اظہار کیا گیا تھا اسی طرح ایک بار پھر سندھ میں سہون شریف میں ہونے والے دہشت گرد حملے پر بھی وہی گھسے پٹے بیانات اور کھوکلے عزم سے عوام کو بہلایا گیا مگر زمینی حقائق یہ کہتے ہیں کہ عوام اب ان بیانات اور کھوکلے عزم سے اکتا چکی ہے کیونکہ عوام بھی اب دیکھ رہی ہے کہ جب ایک اہم عہدے پر بیٹھا شخص کھلے عام کالعدم جماعتوں کے نمائندوں سے خوش گپیاں کررہا ہو وہ دہشت گردوں کے خلاف کیا کاروائی کرےگا.
گزشتہ 6 روز میں ملک بھر میں 8 دہشت گرد حملے ہوچکے ہیں جس میں 100 سے زائد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہیں , پاکستان کی سیکورٹی سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے عوام میں غم و غصہ متعلقہ حکام کو محسوس ہو یا نہ ہو لیکن عوام کا اب اعتماد متاثر ہورہا ہے کیونکہ سچ نظر آرہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی عزائم پورے کرنے کے لیے ہر طاقت ور تیار بیٹھا ہے لیکن عوامی مسائل پر کسی کی توجہ نہیں ہے سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ لاہور بم دھماکہ , پارہ چنار , حیات آباد دھماکہ کے بعد ملک بھر میں ہائی الرٹ تھا اس کے باوجود سندھ میں دہشت گرد حملہ ہوجانا عوام کی حفاظت میں ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے.
دنیا بھر میں اتنے بڑے واقعات پر لوگ عوام کے دکھ درد کا احساس کرتے ہوے اپنی ناکامی کو تسلیم کرتے ہیں اور احتساب کے لیے اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں مگر پاکستان میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی نے کبھی زمہ داری کا مظاہرہ کیا ہو , کسی بھی اہم ایشو پر قوم کی داد لینے کے لیے تو ہر شخص پہلے پہنچ کر اپنے آپ کو قوم کا خیر خواہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکامی پر کوئی اخلاقی زمہ داری سمجھتے ہوے یہ نہیں کہتا کہ یہ ہماری زمہ داری تھی جو ہم پوری نہ کرسکے.
اے حکمرانوں خدارا اب سیاسی جوڑ توڑ سے نکل کر حقیقی دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کیجیے بیانات نہیں اب عملی اقدام کرنا ہوگا ورنہ ایسا نہ ہو قوم سب کا احتساب کرنے میدان عمل میں آجاے.

Advertisements