پاکستان کا پانچواں اور سندھ کا دوسرا بڑا شہرحیدرآباد صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جس کے باعث اس شہر کی حالت کسی قدیمی شہر کی طرح خستہ سے خستہ ہوتی جارہی ہے, اگر حکمرانوں کا رویہ اس شہر کے ساتھ اسی طرح چلتا رہا تو یوں سمجھ لیجیے کہ وہ دن دور نہیں جب یہ شہر حیدرآباد بھی موہن جودڑو کی سی حیثیت اختیار کرجاے گا۔

شہر حیدرآباد کی اعداد و شمار کی بات کریں تو یہاں کی کل آبادی 28 سے 30 لاکھ کے لگ بھگ ہے اور اتنی بڑی آبادی کو مدنظر رکھا جاے اور بنیادی سہولیات پر نظر دوڑائی جاے تو عوام کو بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں جس کے وہ حق دار ہیں۔شہر میں سرکاری اسپتالوں کی حالت کچھ ایسی ہے کہ کوئی مریض علاج کے لیے جائے تو صحت مند ہونے کے بجاے مزید اس کی صحت خراب ہوجائے کیونکہ سرکاری اسپتالوں میں صفائی, ستھرائی کے لیے کوئی موثر اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں , گندگی , مچھر وغیرہ سے بچاؤ کے لیے نہ اسپرے کا انتظام ہے اور نہ ہی کوئی دیگر میعاری ادویات اور ایمبولینس کی سہولت موجود ہے جس کی وجہ سےمجبوری میں عام شہریوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی پرائیوٹ اسپتالوں , کلنکس کی جانب رخ کرنا پڑتا ہے۔

حیدرآباد کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار , سیوریج کا نظام بری طرح سے بگڑ چکا , جگہ جگہ پانی کھڑا ہے ,اہم شاہراہوں پر کچرے کا ڈھیر دکھائی دیتا ہے جس کو دیکھ کر محسوس نہیں ہوتا کہ یہ سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے جہاں ہر جگہ کوڑا کرکٹ بکھرا دکھائی دیتا ہے, سڑکوں پر بے تحاشا ٹریفک , بگڑتا ہوا انفرااسٹریکچر اور پھر سونے پر سہاگا تجاوزات کی بھرمار جس کا جہاں دل چاہے پتھارے لگا لیتا ہے جس کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے ,سرکاری اسکولوں میں کہیں فرنیچر نہیں تو کہیں اساتذہ نہیں , اور کہیں بچے نہیں سرکاری سطح پر تعلیمی شعبہ پر دھیان نہ دینے کی وجہ سے پرائیوٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جس سے غریب مزید غربت کی چکی میں پس رہا ہے۔

اعلیٰ تعلیمی شعبے کی بات کریں تو حیدرآباد کی 28 سے 30 لاکھ پر مشتمل آبادی پر صرف 3 جامعات ہیں مختلف سبجیکٹس کے لیے سندھ یونیورسٹی , انجینئرنگ کے طلبہ و طالبات کے لیے مہران یونیورسٹی , اور میڈیکل کے طلبہ و طالبات کے لیے لمس لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسس جوکہ شہری علاقوں سے کافی دور ہے جس کے باعث حیدرآباد کے بہت سے نوجوان اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں اور جو داخلے کے لیے ٹیسٹ دیتے ہیں وہ دیگر شہروں اور صوبوں کے کوٹہ سسٹم کی نظر ہوجاتے ہیں جوکہ حیدرآباد کے ساتھ ناانصافی ہے , سرکاری کالجز کے اساتذہ کرام لیکچرار کالج اوقات میں اکثر پرائیوٹ انسٹی ٹیوٹس میں پڑھارہے ہوتے ہیں نہ کوئی ان غلط چیزوں کا چیک اینڈ یلنس رکھنے کو تیار ہے اور نہ کوئی اسکی روک تھام کے لیے عملی اقدام کرنے کو تیار ہے۔

http://arynews.tv/ud/blogs/archives/68860

C3pP01yXAAAKzsk.jpg

کاروبار کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ شہر چوڑیوں کی کاریگری اور کاروبار میں نہ صرف قومی سطح پر جانا پہنچانا جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر اس شہر کو ایک خاص حیثیت حاصل ہے , مختلف اقسام کی چوڑیاں اور دیگر کانچ کے مصنوعات اس شہر سے ہی بن کر دیگر شہروں اور صوبوں میں بھیجی جاتی ہیں مگر افسوس کہ ہمارے حکمرانوں کی عدم دلچسپی کے باعث یہاں چوڑیوں کی کئی فیکٹریاں ختم کردی گئیں جس کے باعث نہ صرف مالکان بلکہ ملازموں کوبھی بہت نقصان پہنچا, اس سے شہر میں بیروزگاری میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور اسی بیروزگاری کی شرح میں اضافے کے باعث شہر میں جگہ جگہ لوگ روزگار کے لیے پتھارے لگا لیتے ہیں تاکہ ان کا اوران کے خاندان کا گزربسر ہوسکے.
کھیل اور تفریحی مقامات جوکہ کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں مگر یہاں پر کسی صحت مند معاشرے کو پروان چڑھانے کے لیے کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں, یہاں چند ایک پارک , گراونڈز تو موجود ہیں مگر انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور فنڈ کے نہ ہونے کے باعث تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

سندھ میں فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم سے جہاں شہر کراچی کو مسائل درپیش ہیں وہیں سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد بھی سندھ حکومت کی متعصبانہ طرز سیاست کی وجہ سے کھنڈر میں تبدیل ہوتا جارہا ہے . جنرل مشرف دور کے بلدیاتی نظام کے اختتام کے 6 سال بعد بلدیاتی انتخابات تو کروادیے مگر اختیارات آج بھی ان ہی لوگوں کے ہاتھ میں ہیں جنھوں نے گزشتہ 8 سالہ صوبائی و وفاقی حکومت میں رہتے ہوئے حیدرآباد تو دور اپنے حلقے تک میں بھی کوئی بڑا ترقیاتی کام نہیں کروایا, ایسے حاکم وقت معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کیسے کچھ کرسکتے ہیں ,شہر حیدرآباد میں 10 سالوں سے کسی بڑے پروجیکٹ کے لیے نہ کسی حکومت نے سوچا اور نہ شہریوں کے ووٹوں سے بننے والے ایم این اے , ایم پی ایز نے کوئی گرانٹ کے لیے آواز اٹھائی , جنرل ر مشرف دور کے بلدیاتی نظام کے ختم ہونے کے بعد سے کوئی ترقیاتی منصوبہ یا فنڈ کسی مد میں نہ دیا گیا , شہر حیدرآباد کی آج جو حالت ہے اس میں نہ صرف حکومت ذمہ دار ہے بلکہ اپوزیشن جماعتیں بھی برابر کی ذمہ دار ہیں۔

شہر حیدرآباد بھی پاکستان کا ہی ایک شہر جو کہ ملک کی کل آمدنی میں اپنا حصہ بھی ڈالتا ہے مگر اس کے باوجود بدلے میں اس کا ایک فیصد بھی اس شہر کو نہیں دیا جاتا جوکہ اس شہر کے ساتھ سراسر زیادتی ہے. ہم صرف اللہ سے دعا ہی کرسکتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو عوام کی تکالیف اور پریشانیوں کا احساس کرنے والا دل عطا کردے تاکہ عوام کی تمام مشکلات ختم نہیں تو کچھ کم ہی ہوجائیں۔

Advertisements