کراچی کو آپریشن نہیں , ترقیاتی بجٹ کی ضرورت ہے

پاکستان کا سب سے بڑا شہر جوکہ کبھی روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا آج اسکی روشنیاں حکمرانوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے دھندلا گئی ہیں . بدقسمتی سے جس شہر کو وفاق اور صوبائی حکومت کی جانب سے ترقیاتی بجٹ دینے چاہیے تھے اس شہر کو ہر جمہوری دور میں سواے آپریشن کے کچھ نہ مل سکا. حال ہی میں کچھ سال قبل 2013 سے کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تھا, مگر 3سال سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود حالات جوں کہ توں ہیں , ہاں صرف فرق اتنا پڑا ہے کہ انتیہا پسندوں, کالعدم تنظیموں کا ہر جگہ راج اور مکمل آزادی ہے وہ جہاں چاہیں ریلی جلسہ جلوس کرسکتی ہیں مگر عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جمہوری سیاسی جماعت سے ان تین سالوں میں یہ حق کافی حد تک چھین لیا گیا ہے.
شہر کراچی میں جاری آپریشن کے دوران آپریشن کی سمت پر سوالیہ نشان کھڑا ہونے کی سب سے بڑی وجہ ناقص تفتیش ہے جس سے کسی کو نقصان ہورہا ہو نہ ہو مگر مقامی شہریوں کو ضرور ہورہا ہے . شہر کراچی میں ناقص یا پھر کمزور تفتیش کی وجہ سے ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ میڈیا کوریج کے لیے بڑی بڑی پریس کانفرنس میں الزام تراشیاں اور ملزمان سے دھواں دار انکشافات تو کرواے جاتے ہیں مگر جب کیس عدالت میں جاتا ہے تو سب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے . کچھ ماہ قبل 5 اکتوبر 2016 کو عزیزآباد ایم کیوایم کے مرکز 90 کے قریب واقع 120 گز کے مکان کی ٹنکی سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے اس کیس کو سیاسی رخ دینے کی کوشش کی گئی مگر کوئی اس بھاری اسلحہ کا نہ تو مالک خود سامنے آیا اور نہ ہمارے ادارے اسکے مالک کو قوم کے سامنے لاسکے اور پھر ہوا یوں کہ تفتیشی آفسر کی جانب سے عدالت میں اس کیس کو درخواست دے دی گئی جسے کچھ روز بعد 13 جنوری 2017 کو وتفتیشی افسر کی درخواست پر اسلحہ برآمدگی کیس باضابطہ طور پر بند کردیا گیا اور یوں یہ کیس کھودا پہاڑ نکلا چوہا کہ مترداف انجام کو پہنچا.
اسلحہ برآمدگی کیس سے قبل اسی طرح سنسنی خیز انکشافات پر مبنی پریس کانفرنس اپریل 2016میں راو انور صاحب کی جانب سے کی گئی تھی جس میں انھوں نے کچھ افراد کو میڈیا کے سامنے عدالت سے قبل پیش کیا اور کہا کہ انھوں نے غیر ملکی ایجینٹس ہونے کا انکشاف کیا ہے وغیرہ وغیرہ .. ملزمان کے بیانات پر کچھ روز ٹاک شوز ہوے ایک مخصوص جماعت کے خلاف مہم چلائی گئی مگر جب یہ کیس میڈیا ٹرائل کے بعد عدالت گیا تو وہاں عدم ثبوت کی بنائ پر عدالت کی جانب سے ملزمان کو رہا کردیا گیا اور پھر اس پر بھی سب ٹائی ٹائی فش ہوگیا. کیا اس طرح سے کراچی میں امن قائم ہوسکے گا ¿
اب اس آپریشن کی سمت درست کرنی ہو گی اور سوچنا ہو گا کہ آیا ان تین سالوں میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا ¿
بہت سے ایسے کیسیس بھی ہیں جو رپورٹ نہیں ہوپاتے , معززشہریوں کو عادی مجرموں کی طرح گرفتار کیا جاتا ہے ,معاشرے میں انکے خاندان کی تضحیک کی جاتی ہے , منفی خبریں نشر کی جاتی ہیں , مگر جب مہینوں حراست میں تفتیش کے بعد کچھ نہیں ملتا تو خاموشی سے رہا کردیا جاتا ہے . یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے.
شہر میں ہر طرف انفرااسٹریکچر بگڑتا جارہا ہے , غیرقانونی آبادیاں قائم کی جارہی ہیں , سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں , مقامی حکومت کے نمائندگان اپنے حلقوں میں چھوٹے چھوٹے مسائل کے لیے ادھر ادھر بھاگتے نظر آرہے ہیں مگر کوئی سنوائی نہیں ہے , شہر کراچی کے لیے ہمارے ملک کے بااختیار سربراہان , وفاقی و صوبائی حکومتیں حقیقی معینوں میں کچھ کرنا چاہتیں ہیں تو کراچی میں سیاسی ری انجینئرنگ کرنے کے بجاے صرف اتنا کرلیں کہ مقامی حکومت اور بلدیاتی نمائندگان کو مکمل اختیار دے دیں تاکہ وہ اپنے شہریوں کی امیدوں پر پورا اتر سکیں, عوام کے بنیادی مسائل حل کرسکیں اور اپنا جمہوری حق ادا کرسکیں جس کی عوام ان سے امید کرتی ہے.ّ

Karachi needs Budget not Operation copy.jpg

Advertisements