پاکستان کرکٹ ٹیم پرفارمنس, بائی چانس

پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے یہ تاثر پایا جاتاہے کہ پاکستان ٹیم دنیا کی واحد کرکٹ ٹیم ہے جس کے لیے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے جیسے کرکٹ بائی چانس ہے ویسے ہی پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹیم پرفارمنس کے لیے بھی یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہماری ٹیم کی پرفارمنس بھی بائی چانس ہے اگر اچھا کھیلے تو بڑی سے بڑی ٹیم کو شکست دے دےدیں اور اگر نہ کھیلیں تو کسی بھی چھوٹی ٹیم سے عبرتناک شکست کھاکر سب کو حیران بھی کرسکتے ہیں .
پاکستان کرکٹ ٹیم نے دورہ اسڑیلیا 2016/17 میں 15 تا 19 دسمبر تک تین ٹیسٹ میچز کی سریز کے پہلے ٹیسٹ میں جو کھیل پیش کیا وہ قابل تعریف تھا حالانکہ پہلی اننگ میں پاکستان کرکٹ ٹیم اچھا پرفارم نہ کرسکی مگر دوسری اننگ میں لور آرڈر میں اسد شفیق اور دیگر ٹیل اینڈرز نے شائقین کرکٹ کے ہوش اڑادیے اور ایک وقت ایسا آیا کہ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ پاکستان اسڑیلیا سے جیتا ہوا میچ چھین لےگا مگر جیت چند قدم دور تھی کہ ہماری ٹیم کے سارے کھلاڑی آوٹ ہوگئے.
دی گابا برسبن میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگ میں اسڑیلیا نے 429 رنز اسکور کیے جس کے جواب میں پاکستان ٹیم 142 پر ڈھیر ہوگئی , اسڑیلیا نے دوسری اننگ کا آغاز 287 رنز کی برتری کے ساتھ کیا اور اپنی دوسری اننگ 202 رنز 5 کھلاڑیوں کے نقصان پر ڈیکلئیر کرکے پاکستان کو جیتنے کے لیے 490 رنز کا ہدف دیا جس کے جواب میں پاکستان ٹیم شروع میں ہی لڑکھڑا گئی اور 200 رنز سے قبل ہی آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی ٹاپ آرڈر میں صرف اظہر علی نے مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور 71 رنز اسکور کیے , مشکل وقت میں مڈل آرڈر پر بلے بازی کرنے والے اسد شفیق نے اپنی صلاحیتوں کا بروقت استعمال کرتے ہوے اسڑیلیا کی تیز پچ پر انکے باولرز کے چھکے چھڑادیے اور ٹیل اینڈرز کے ساتھ زمہ دارانہ اننگ کھیلتے ہوے سینچری اسکور کی جس میں انکے ساتھ محمد عامر , وہاب ریاض نے بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کیا , پاکستان کو جیت کے لیے 40 رنز چاہیے تھے کہ بس اسد شفیق پویلین لوٹ گئے اور یوں فتح پاکستان کے ہاتھ آتے آتے رہ گئی اور اسکے چند بالز بعد یاسر شاہ بھی وکٹ گنوا بیٹھے اور پاکستان 39 رنز سے ٹیسٹ میچ ہار گیا.
اسد شفیق نے کیرئیر کی 10 ویں اور چھٹے 6 نمبر پر کھیلتے ہوے 9ویں سینچری اسکور کرکے گیری سوبر کی 6 چھٹے نمبر پر 8 سینچری کا ریکارڈ توڑ دیا اور وہ اب پہلے نمبر پر آگئے ہیں ..

پاکستان کرکٹ ٹیم کی پہلے ٹیسٹ میچ میں پرفارمنس بہت ہی متاثر کن تھی جس میں ٹیم پرفارمنس نے شکست کے باجود ٹیم کو شاباشی دینے پر مجبور کردیا تھا, پہلے ٹیسٹ میں ہماری ٹیم ہار کر بھی قوم کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی اور قوم کو ایسا لگنے لگا تھا کہ پاکستان ٹیم اس بار اسڑیلوی سرزمین پر میزبان ٹیم کو شکست دینے میں کامیاب ہو ہی جاے گی .. مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا اور پہلے ٹیسٹ میں قوم کے ہیرو دوسرے , تیسرے ٹیسٹ میں زیرو ہوگئے..

دوسرا ٹیسٹ میچ میلبرن میں سال کے آخری ہفتے میں 26 دسمبر تا 30 دسمبر 2016 تک کھیلا گیا مگر پہلی اننگ میں اظہر علی کی ریکارڈڈبل سینچری کے باوجود میچ میں شکست پاکستان کا مقدر بنی , پاکستان ٹیم نے اپنی پہلی اننگ میں 443 رنز 9 وکٹ کے نقصان پر ڈیکلئیر کی جس میں اظہر علی کے 205 رنز اور سہیل خان کے 65 رنز , اور اسد شفیق کے 50 رنز بھی شامل ہیں, اسڑیلوی سرزمین پر ڈبل سینچری اسکور کرنے والے اظہر علی پہلے پاکستانی کرکٹر اور میلبرن کے میدان پر ڈبل سینچری اسکور کرنے والے چوتھے کھلاڑی بن گئے ہیں ,2 روز بارش کی مداخلت کے بعد باعث محسوس ہورہا تھا کہ دوسرا ٹیسٹ ڈرا ہوجاے گا مگر اسڑیلیا کی بہترین حکمت عملی اور جارحانہ کھیل نے اس کو بے نتیجہ میچ سے نتیجہ خیز میچ میں تبدیل کردیا اسڑیلیا نے دوسرے ٹیسٹ کی اپنی پہلی اننگ تیسرے روز شروع کی اور دو روز میں 624 رنز 6 کھلاڑیوں کے نقصان پر بناکر سب کو حیران کردیا جس میں کپتان اسمتھ نے 165 رنز اور وارنر نے 144 رنز اسکور کیے , پاکستان کو آخری روز اسڑیلیا کی 181 رنز کی برتری ختم کرکے پھر ٹارگیٹ دینا تھا جس سے اندازہ لگایا جارہا تھا کہ پاکستان یہ میچ باآسا نی ڈ را کردیگا مگر پہلے ٹیسٹ میچ میں سینچری بنانے والے اسد شفیق ہوں یا پھر دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں ڈبل سینچری اسکور کرکے ہیرو بننے والے اظہر علی ہوں اسڑیلوی بالنگ کے سامنے تمام کھلاڑی دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگ میں زیرو نظر آے اسڑیلیا نے اس میچ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے بھرپور محنت کی اور اسڑیلیا کے بالرز نے اپنی بہترین بالنگ سے پاکستان ٹیم کو 163 رنز پر ڈھیر کرکے ایک اننگ اور 18 رنز سے شکست دےکر سریز اپنے نام کرلی ہ.دوسری اننگ میں پاکستان کی جانب سے کوئی بیٹسمین نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکا سواے اظہر علی اور سرفراز احمد کے دونوں نے 43, 43 رنز اسکور کیے.

Cyf11r8XcAA5v15kmjk.jpg

تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ دونوں ٹیموں کے درمیان سڈنی میں 3 جنوری سے شروع ہوا جس میں میزبان ٹیم کی جانب سے عمدہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا گیا اور پہلی اننگ میں 8 وکٹ کے نقصان 538 رنز کا ٹوٹل بناکر اننگ ڈکلئیر کردی جس میں رین شاہ کے 184 اور وارنز کے 113 رنز شامل ہیں , پاکستان کرکٹ ٹیم نے اپنا آغاز پھر وہی ہرانے طریقے سے ہی کیا حالانکہ ٹیم میں بطور اوپنر شرجیل خان کو سمیع اسلم کی جگہ موقع دیا گیا مگر نتیجہ تبدیل نہ ہوسکا اور 6 رنز کے اسکور پر دو کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے جس کے بعد اظہر علی اور یونس خان نے ٹیم کو سنبھالا اور مسلسل چار ٹیسٹ میچز میں ناکام اور بری پرفارمنس دینے والے یونس خان نے بالآخر کم بیک کیا اظہر علی اور یونس خان کے درمیان تیسری وکٹ پر 146 رنز کی شراکت داری رہی اور اظہر علی 71 رنز بناکر واپس لوٹ گئے اور اسکے بعد آنے والے کھلاڑی ریت کی دیوار ثابت ہوے اور کوئی بھی ٹک کر نہ کھیل سکا اور دوسری جانب یونس خان ڈٹے اور جمے رہے اور انکی ریکارڈ بریکنگ سینچری 175 رنز کی ناٹ آوٹ اننگ کی بدولت پاکستان کرکٹ ٹیم پہلی اننگ میں 315 رنز بناسکی .تیسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز اسڑیلوی بلے بازوں نے 223 رنز کی برتری کے ساتھ دوسری اننگ کا آغاز کیا اور اپنی دوسری اننگ میں جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوے 2 وکٹوں کے نقصان پر 32 آورز میں 241 رنز پر اننگ ڈکلیئر کرکے پاکستان کو جیت کے لیے 465 کا ہدف دیا , اسڑیلیا کی جانب سے عثمان خواجہ نے ناٹ آوٹ 78 رنز بناے اور اسٹیو اسمتھ نے 59 رنز اسکور کیے , ٹیسٹ میچ کے پانچویں اور آخری روز پاکستانی ٹیم 465 رنز کے ہدف کے تعاقب میں تو چل میں آیا کی طرز پر کریز پر آتے رہے اور وکٹ گنواتے رہے اور دن کے اختیتام سے قبل 244 رنز پر تمام کھلاڑی پویلین لوٹ گئے اور یوں اسڑیلیا ایک بار پھر ٹیسٹ سریز میں پاکستان کو وائٹ واش شکست دینے میں کامیاب ہوگیا اور سریز تین 3 – 0 صفر سے اپنے نام کرلی , پاکستان کی جانب سے دوسری اننگ میں سرفراز احمد نے 72 اور اظہر علی نے 40 اسکور کیے .
بہترین کاکردگی پر اسٹیو اسمتھ کو سریز کا بہترین کھلاڑی قراردیا گیا .
یونس خان نے اپنے کیرئیر کی تیز ترین 115 ٹیسٹ میچز میں 34 ویں سینچری اسکور کرکے گواسکر , برائن لارا , جئے واردینا کو پیچھے چھوڑدیا ہے اور سب سے زیادہ ٹیسٹ سینچری بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں چھٹی پوزیشن پر آگئے ہیں.پاکستان کرکٹ ٹیم اسڑیلوی سرزمین پر 21 سالوں سے شکست کا سامنا کررہی ہے آخری فتح 1996 میں حاصل کی تھی جس میں کینگروز نے پاکستان کو سریز میں 2-1 سے شکست دی تھی . پاکستان کی اسڑیلوی سرزمین پر وائٹ واش شکست پہلی نہیں اس سے قبل 2009 , 2004/5 , اور 1999میں بھی کینگروز شاہین کو وائٹ واش شکست دے چکے ہیں.
پاکستان ٹیم نے اسڑیلیا سے شکست ضرور کھائی مگر چند ایک لحاظ سے سریز میں کچھ ایسا بھی تھا جس نے مجموعی طور پر سریز کو تاریخی بنایا جو پاکستان کے لیے کافی یاد گاررہےگا جس میں اسد شفیق کی پہلے ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگ میں 6 نمبر پر سینچری ,محمد عامر , وہاب کی بہترین بلے بازی ,
دوسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگ میں اظہر علی کی ڈبل سینچری اور سہیل خان کی جانب سے بہترین بلے بازی ,
تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگ میں یونس خان کی ریکارڈ بریکنگ 34 ویں سینچری تھی .
یونس خان سڈنی میں سینچری اسکور کرکے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جس نے 11 ممالک میں سینچری اسکور کی ہو , یونس خان کے اعلاوہ جئے وردینا , راہول ڈریوڈ 10,10 ممالک میں سینچریز اسکور کرچکے ہیں .
پاکستان کرکٹ ٹیم مسلسل چھ ٹیسٹ میچز ہار چکی ہے مگر شائقین کرکٹ کو یہاں مایوس ہونے کے بجاے اس ہار سے اپنی زندگی کے لیے مثبت سبق حاصل کرنا چاہیے کہ زندگی کے کسی بھی شعبہ میں کسی کڑے امتحان میں اگر ہم ہمت , حوصلہ , جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے کے باوجود ناکام ہوجائیں تو دنیا ہماری ناکامی پر بھی ہمیں داد دےگی اور اگر ہم بنا کسی مقابلے کے ہی شکست سے پہلے ہی ہمت ہار جائیں گے تو دنیا ہمیں نہ صرف تنقیدکا نشانہ بناے گی کہ ہم کامیابی کے قابل نہیں ہیں بلکہ نااہل, بزدل اور کاہل بھی کہے گی کہ ہمارے اندر لڑنے کی سکت نہیں ہے.

Advertisements