کراچی آپریشن کی کاروائیاں .. اور تفتیش کا نتیجہ ..

پاکستان کے سابق صدر گزشتہ 18 ماہ کی خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آرہے تھے کہ 23 دسمبر 2016 کو انکی پاکستان واپسی سے عین چند گھنٹے قبل رینجرز کی جانب سے اطلاعات کی بنیاد پر مختلیف اومنی گروپس کے آفسیس پر چھاپے مارے گئے جس پر پاکستان کے مختلیف نیوز چینلز پر یہ کہا جاتا رہا کہ جس اومنی گروپ کے آفس پر چھاپہ مارا گیا ہے اور 5 افراد اور مختلیف دستاویزات کو قبضے میں لے لیا گیا ہے اور وہاں سے مختلیف اقسام کا اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے جس کی تفصیلات رینجرز کی جانب سے پریس ریلیز کے زریعے بھی جاری کی گئی ہیں , کہا جارہا تھا کہ وہ سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست انور مجید کی اومنی گروپ آف کمپنی ہے مگر جب آئی آئی چندریگڑھ روڈ پر واقع جن دفاتر پر چھاپہ مارا گیا تھا اسکے اونر کی جانب سے ردعمل کے طور پر احتجاج سامنے آیا تو انکشاف ہوا کہ جس اومنی گروپ سے رینجرز نے اسلحہ برآمد کیا وہ یو بی ایل بینک کا اومنی تھا نہ کہ انور مجید کی اومنی کمپنی , یو بی ایل کی اومنی کمپنی کے مالکان کا کہنا تھا کہ جو اسلحہ دکھایا گیا وہ انکا نہیں ہے اور نہ ہی انکا اس سے کوئی تعلق ہے, گرفتار کیے گئے 5 افراد مین سے تین کا تعلق یو بی ایل اومنی بینک سے ہے اور 2 کا تعلق اومنی گروپ آف کمپنی سے ہے جس کے مالک انور مجید ہیں , دوسری جانب مختلیف زرائع سے معلومات نجی نیوز چینلز سے موصول ہوئی تو پتہ چلا کہ انور مجید کی اومنی کمپنی کا آئی آئی چندریگڑھ روڈ کے قریب انکی کمپنی کا کوئی آفس نہیں ہے .
شہر کراچی میں اومنی طرز کی کاروائی پہلی مرتبہ سامنے نہیں آئی اس سے پہلے بھی کئی متعدد پہلیاں ہمیں دیکھنے کو ملیں جو آج تک نہ سلجھ سکیں مگر اس سے کسی کو کچھ ملا ہو نہ ہو مگر ہمارے میڈیا کو مرچ مصالحہ ملا اور شہر کراچی میں جاری آپریشن کے دوران ہونے والی کاروائیوں اور تفتیش پر سوالیہ نشان ضرور کھڑا کردیا ہے .
چند ماہ قبل 5 اکتوبر 2016کو شہر کراچی میں متحدہ قومی موومینٹ کے گڑھ 90 عزیزآباد میں ایک 120 گز کے مکان میں کاروائی کی گئی اور مکان کی ٹنکی سے جو اسلحہ برآمد کیا گیا وہ کرچی آپریشن میں برآمد ہونے والا تاریخی اسلحہ تھا کہ اتنا اسلحہ اتنی سی ٹنکی میں کیسے ممکن ہے , اس پر یقین کرنا بہت مشکل ہے اگر یقین نہ کریں تو پھر ہماری پولیس اور انٹیلی جنس پر سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے کہ پھر انھوں نے اس کاروائی کے بعد پریس کانفرنس کرکے جو اسلحہ نمائش کے لیے پیش کیا وہ کس کا تھا ¿ اگر یقین کر بھی لیں تو شہر کراچی میں تین سال سے جاری سخت ترین آپریشن کے باوجود اتنا اسلحہ وہاں لےجایا کیسے گیا اور کسی کو پتہ کیوں نہیں چلا , حالانکہ 22 اگست 2016 کے بعد سے ایم کیوایم کا مرکز سیل ہونے کے باعث پورے عزیزآباد میں بہت بڑی تعداد میں وہاں پولیس تعینات رہتی ہے اسکے باوجود وہاں سے اسلحہ برآمد ہونا بھی بہت بڑا سوال ہے , سونے پر سہاگہ کے کاروائی میں اسلحہ تو ملا مگر اس کا مالک 2 ماہ کی تفتیش میں بھی نہ مل سکا اور اسکا ڈراپ سین یہ ہوا کہ تفتیشی آفسر کی جانب سے 29 نومبر 2016 کو عدالت درخواست کی گئی کہ اسلحہ رکوری کیس بند کردیا جاے .
اس سے قبل انکاونٹر اسپیشلسٹ پیپلزپارٹی کے نور نظر متعدد مرتبہ ایس ایس پی کے عہدے سے فارغ ہونے اور بحال ہونے والے راو انور کی جانب سے اپریل 2016 میں ایک پریس کانفرنس کی گئی جس میں جاوید لنگڑا , طاہر لمبا کو پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ مزمان نے اعتراف کیا ہے کہ یہ لوگ را ایجنٹس ہیں اور انکا تعلق سندھ کی دوسری بڑی جماعت سے ہے اور ایک پریس کانفرنس میں عدالتی کاروائی سے قبل ہی فیصلہ سنا دیا کہ ملزم نہیں مجرم ہیں , مزید کاروائی کے لیے جب ان ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو چند ماہ بعد اگست میں عدالت میں فیصلہ سنایا اور انہیں عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کردیا گیا .. مگر نتیجہ کچھ بھی سامنے نہیں آیا سواے نیوز چینلز کو مصالحے کے اور ایک مخصوص کمیونٹی کی تضحیک کے ,
اس سے قبل کراچی آپریشن کے دوران جب مارچ 2014 میں متحدہ مرکز پر چھاپہ مارا گیا اس میں بھی بہت بڑی تعداد میں اسلحہ نمائش کے لیے پیش کیا گیا مگر اس کا نتیجہ بھی ہمارے اداروں کی انٹیلی جنس پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہی ہے اور اس آپریشن کے سیاسی مقاصد کو آشکار کررہی ہے کہ اس کا مقصد شروع دن سے اپنے مخالفین کو سیاسی انتیقام کا نشانہ بنانا ہے .
اگر شہر کراچی میں اسی طرح کی معلومات پر چھاپوں کے بعد کسی جماعت , شخص , یا پھر کسی کمیونٹی کا میڈیا ٹرائل کا سلسلہ جاری رہا تو اصل مجرموں کو نہ صرف پنپنے کا موقع ملے گا بلکہ 2013 کے بعد سے جو کراچی میں آپریشن جاری ہے وہ امن و امان کے حوالے بے معنی ہوکر رہ جاے گا بہت سے شہری حلقوں کی جانب سے اب تین سال بعد 2016 میں آواز اٹھتی دکھائی دے رہی ہے کہ کراچی آپریشن کے دوران دہشت گردوں , کالعدم تنظیموں اور انتہا پسندوں کو پنپنے کا موقع اور کھلے عام سرگرمیوں میں اشتعال انگیزی کا موقع دیا جاتارہا ہے اور کراچی آپریشن کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرکے عوام کو بے یارو مددگار چھوڑا جارہا ہے.امید کرتے ہیں کہ نئے سال 2017 میں شہر کراچی میں عوام کو حقیقی امن میسر آ? اور کراچی پھر سے روشنیوں کا شہر بن کر ترقی کی جانب گامزن ہوسکے۔

Advertisements