پاکستانی تہذیب                                                                         

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان میں انسان چار لاکھ سال سے آباد ہے۔اور وہ اس طویل مدت میں پتھر کی تہذیب، کانسے کی تہذیب، اور لوہے کی تہذیب کے دور سے گزرا ہے۔ یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ اس دوران میں دراوڑ، آریہ ، ساکا ، ایرانی، یونانی ، کشن ، سہن ، عرب، ترک، افغان ، اور مغل قوموں کے لوگ وقفے وقفے سے یہاں آکر آباد رہتے رہے ہیں۔ چنانچہ امری ، موئنجودڑو ، ہڑپہ، ٹیکسیلا، پشاور،ملتان ،اوچھ، لاہور ، اور ٹھٹھہ وغیرہ میں ان قوموں کی تہذیبی آثار اب تک موجودہیں ۔

پاکستانی تہذیب کے بارے میں عام طور پر لوگوں کی جانب سے یہ نظریہ پیش کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی تہذیب کی اساس اسلام کے نام پر رکھی گئی ، انکے نزدیک پاکستانی تہذیب سے مراد اسلامی تہذیب ہےاور انکی طرف سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ اسلامی تہذیب اس دن وجود میں آئی جس دن محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست دی لہٰذا محم بن قاسم سے پیشتر کی تہذیب سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں ہے کیونکہ وہ کفار کی تہذیب تھی۔ محمد بن قاسم کی اسلامی تہذیب کی روایت کو سلطان محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، اور شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے فروغ دیا۔ سلطنت مغلیہ کے زوال زمانے میں شاہ ولی اللہ اور مجدلف ثانی جیسے بزرگوں نے اسلامی تہذیب کو بادحودث کے جھونکوں سے بچایا۔ سر سید احمد خان نے نیچری اور مغرب پرست ہونے کے باوجود مسلمانوں میں قومی انفرادیت کا شعور پیدا کرکے ہمیں خود شناسی کی طرف مائل کیا۔ اور بالاخر علامہ اقبال کی فکری کاوشوں اور قائداعظم کی مدبرانہ کوششوں سے پاکستان وجود میں آیا۔اس طرح دوڈھاءصدی کے بعد پہلی بار اسلامی تہذیب کو ترقی دینے کا موقع ملا۔ پاکستان میں اسلامی تہذیب کے نظریے کے مطابق زبانوں میں اردو ، موسیقی میں قوالی ، مصوری میں چغتائی آرٹ ، شاعری میں فردوسءاسلامحضرت حفیظ جالندھری کا کلام ، ناول میں اسلامی تاریخی ناول، فلموں میں اباّ حضور اور امی حضور کہنے والے رائس زادے ، فن تعمیر میں مغلیہ طرز کے گنبد و محراب ، مردوں کے لباس میں جناح کیپ ، شیروانی اور چوڑی دار پجامہ ، اور عورتوں کے لباس میں غرارہ اسلامی تہذیب کی علامتیں قرار دی گئیں۔ ان دنوں تعلیم و تفریح کا سب سے موثر زریعہ ریڈیو تھا۔ چنانچہ ریڈیو سے قوالیاں اور عارفانہ نظمیں دن رات نشر ہوتیں، بالخصوص علامہ اقبال کی۔ البتہ شاعر مشرق کے انقلابی شعروں کو ریڈیو اسٹیشن کے احاطے میں بھی داخل ہونے کی اجازت نہ تھی.ریڈیو والوں نے اسی پر اتفاق نہ کی بلکہ کلاسیکی گانوں کے ہندی بولوں کو بھی ” مشرف بہ اسلام ” کرنا چاہا جو حضرت امیر خسرو اور میاں تان سین کے وقت سے مسلمان موسیقاروں کی زبان پر چڑھے ہوئے تھے۔
ساری کوششیں ناکام ہوگیئں کیونکہ ارباب اختیار نے نہ تو پاکستان کے باشندوں کے طرز معاشرت اور فکر و احساس کے نظام کا خیال کیا اور نہ انکی تہذیبی تقاضوں کو درخور اعتنا سمجھا۔۔۔
مذہب تہذیب کا جز تو رہا ہے اور ہوسکتا ہے مگر تہذیب کا”کل ” کبھی نہیں رہا ہے۔

اسلامی تہذیب سے اگر مراد اسلامی عقائد و رسوم ہیں تو پاکستان کیا ایشیا اور افریقہ کے اکثر ملکوں میں تہذیب موجود ہے اس میں پاکستان کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ ہر ملک کا مسلمان ایک خدا کو مانتا ہے رسول اکرم کو آخری نبی گردانتا ہے قرآن کو کلام الہیٰ تسلیم کرتا ہے۔ احادیث نبوی کو بطور سند پیش کرتا ہے۔ نماز ، روزہ ، اور حج و زکوٰة کو بھی مذہبی فریضہ سمجھتا ہے، عید بقرعید کے تہوار مناتا ہے ، ختنہ ، بسمہ اللہ اور نکاح کی رسمیں ادا کرتا ہے۔ تمام دنیا بلخصوص مغربی ایشیا کے مسلمانوں کے روایتی طرزو فکر و احساس پر بھی اسلام کی چھاپ بہت گہری ہے اور انکی تہذیبی قدروں، تلمیحوں ، استعاروں ، اور علامتوں میں بھی بہت سی باتیں مشترک ہیں مگر اس اشتراک کے باوجود کوئی صحیح الدماغ شخص عربوں کی تہذیب اور انڈونیشی تہذیب کو ایک نہیں کہے گا۔ حالانکہ دونوں مسلمانوں کی تہذیبیں یکساں نہیں ہیں کیونکہ مذہب تہذیب کا جز تو ضرور ہے لیکن نہ تو تہذیب کی بنیاد مذہب پر قائم ہے اور نہ مذہب کے حوالے سے اس کو پہچانا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مراکش سے ملایا تک مسلمانوں کی تہذیبوں میں کوئی فرق نہ ہوتا۔

( سبط حسن صاحب کی کتاب “پاکستان میں تہذیب کا ارتقائ ” ، صفحہ نمبر 400 تا 402. )

Advertisements