منی لانڈرنگ کیس اور مائنس ون فارمولا

متحدہ قومی موومینٹ اور انکے قائد پر کافی الزامات لگاے جاتے رہے ہیں میڈیا ٹرائل بھی کیا جاتارہا ہے مگر جب بھی بات ثابت کرنے کی آتی ہے تو ثبوت کوئی نہیں دے پاتا اور سب اپنی بغلیں جھانکتے رہ جاتے ہیں۔ ایم کیوایم کے سینئر رہنما عمران فاروق کی شہادت سے ایم کیوایم کو بے حد نقصان تو ہوا ہی تھا مگر چند عناصر کی جانب سے انکے قتل کے بعد سے بار بار یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ کسی طرح ایم کیو ایم قیادت کو اس میں ملوث کردیا جائے مگر ہر بار اللہ تبارک و تعالی اپنی قدرت سے ایم کیوایم قائد کو سرخرو کردیتا ہے ۔
ڈاکٹر عمران فاروق قتل کی تفتیش کے دوران دسمبر 2012 میں ایم کیوایم کے آفس پر اسکاٹ لینڈ یارڈ نے چھاپہ مارا گیا ، چھاپے کے دوران کچھ پونڈز ملے جس کے بعد عمران فاروق قتل کیس کے ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ کے حوالے سے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ،جولائی 2013 میں سرفراز مرچنٹ نامی شخص سے برطانوی ایجنسی اسکاٹ لینڈ یارڈ نے پوچھ گچھ کی مگر کوئی ٹھوس دلائل یا ثبوت نہ مل سکے جس کے بعد 3 جون 2014 کو ایم کیو ایم کے بانی و قائد کے گھر چھاپہ مارا گیا اور حراست میں لےکر باضابطہ طور پر متحدہ قائد الطاف حسین کو شامل تفتیش کیا گیا ، 3 جون سے 7 جون 2014 تک متحدہ قائد زیر حراست رہے اور پھر ضمانت ہر رہا کردیا گیا ، متحدہ قائد کو 7 جون کے بعد 4 مرتبہ جولائی 2014, دسمبر 2014 , اپریل 2015, جولائی 2015 ضمانت میں توسیع دی گئی۔ 2 فروری 2016 کو جب ایم کیوایم قائد کی ضمانت ختم ہورہی تھی تو اس روز میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے ایم کیو ایم قائد کی پولیس اسٹیشن حاضری سے چند گھنٹے قبل یہ بیان سامنے آیا کہ الطاف حسین صاحب اور دیگر کو اب پولیس اسٹیشن آنے کی ضرورت نہیں انکی ضمانت کینسل کردی گئی ہے اور سلسلے میں جو بھی شرائط عائد کی گئی تھیں وہ بھی ختم کردی گئی ہیں ، حاضری سے استثنائ کی باوجود ایم کیوایم قائد و دیگرکے خلاف تفتیش جاری تھی ، چند عناصر کی جانب سے کافی کوشش کی گئی کہ متحدہ قائد پر منی لانڈرنگ کیس میں فردجرم عائد کردی جائے مگر کسی کی خواہش پر یہ خبر نہ بن سکی اور 13 اکتوبر 2016 کو برطانوی تحقیقاتی ایجنسی اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر ایم کیوایم قائد الطاف حسین اور دیگر 5 افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا اور یوں ایم کیوایم بانی و قائد الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کے حوالے سے ہونے والے پروپیگنڈے کا نتیجہ “زیرو ” ہی رہا، بے شک اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت ،

برطانیہ میں ہونےوالی منی لانڈرنگ کی تفتیش کے دوران میڈیا کی جانب سے بعض اوقات فیصلہ سنانے کی کوشش کی گئی ، کچھ کا خیال تھا کہ برطانیہ میں قانون سخت ہے تو اب ایم کیوایم قائد کو مائنس کر ہی دیا جائے گا ، ایک ہمارے چوہدری صاحب نے تو بے حد کوشش کی ، کافی مرتبہ اپنا انٹرسٹ شو کیا مگر کچھ نہ ہوسکا اور نتیجہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات ختم ہونے پر سب سے زیادہ مایوسی بھی موصوف کو ہی ہوئی جیسے کسی مالک نے ملازم کا کام محدود کردیا ہو۔

ایک طرف ایم کیوایم قائد کواطمینان ہوگا کہ ان کے خلاف ہونے والی منی لانڈرنگ کی تفتیش اب ختم ہوگئی ہے تو دوسری جانب ایم کیوایم میں ماضی کی طرح ایک بار پھر مائنس ون فارمولے کو پروان چڑھانے کی سازش کی جارہی ہے ، مارچ 2016 میں مصطفی کمال کو لایا گیا ، جب مصطفیٰ کمال ناکام ہوئے تو بانی و قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کی 22 اگست 2016کو پریس کلب کراچی پر ہونے والی تقریر کو جواز بناکر پھر مائنس ون فارمولے کے لیے ماحول بنایا گیا ، ڈاکٹر فاروق ستار و دیگر کی گرفتاری نے مقامی رہنماو¿ں کو بھائی سے بانی کی جانب لاکھڑا کیا ، ایم کیوایم قائد نےبھی کھلے دل کا مظاہرہ کیا اور کچھ اختیارات ڈاکٹر فاروق ستار کے سپرد کیے اور اپنے 22 اگست کے بیان پر معافی مانگی ، الطاف حسین کے بیان کے بعد کارکنان نے بھی فاروق ستار کو اپنی مشروط حمایت دی ، مگر دیکھتے ہی دیکھتے بلی تھیلے سے باہر آگئی اور مصلحت پسندی غداری کی مرتکب ہونے لگی ، فاروق ستار اینڈ گروپ نے پہلے ایم کیوایم کے آئین میں تبدیلی کی ، قائد کا ویٹو پاور ختم کیا اور پھر اسمبلییز میں ایم کیوایم قائد کے خلاف آرٹیکل چھ کا مطالبہ کردیا جسے نہ صرف لندن رہنماو¿ں کی جانب سے مسترد کیاگیا، بلکہ کارکنان نےبھی عملی طور پر اسے مسترد کردیا فاروق ستار سے دوری اختیار کرلی ، ایم کیوایم پاکستان اور لندن کے بیانات میں تضاد کی وجہ سے کارکنان میں کنفیوڑن پائی جاتی تھی جسے ایم کیوایم قائد نے اپنا ویڈیو بیان کے توسط سے دور کیا اور ساتھ ہی تمام پارلیمنٹیرین سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا جس کے بعد صورتحال واضح ہوگئی کہ فاروق ستار اب ایم کیوایم کے پیج پر نہیں رہے وہ اپنا واضح گروپ بناچکے ہیں

شہر کراچی میں الطاف حسین کی تصاویر ہٹ جانے اور ڈاکٹر فاروق ستار اور دیگر کے اپنے قائد سے منحرف ہوجانے کے بعد اگر کوئی اس سوچ میں ہے کہ الطاف حسین کو ایم کیوایم سے علیحدہ کردیا ہے اورالطاف حسین کا چیپٹر کلوز کردیا گیا ہے اور کافی حد تک ایم کیوایم کے کارکنان نے بھی مائنس ون فارمولا کے فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے تو وہ خام خیالی میں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پی آئی بی خالی نہ ہوتا۔

بار بار زبردستی ایم کیوایم میں مائنس ون فارمولا استعمال کرنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے ، کیونکہ ہر بار ایک فارمولے کے استعمال سے نتائج تبدیل نہیں ہوتے ، اگر حقیقت میں کوئی فارمولا اپنانا ہے تو پاکستان میں تمام قومیت کو مساوی حقوق دینے کا فارمولا اپنائیں ، ملک میں کرپشن ، میرٹ کے قتل کے خاتمے کا فارمولا لےکر آئیں ، بےروزگاری کا خاتمے کا کوئی فارمولا لائیں ، متعصبانہ رویہ ختم کرنے اور وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا فارمولا لے کر آئیں ، خدارا اب اس کھیل کو ختم کرکے کس کو مائنس اور کس کو پلس کرنا ہے یہ فیصلہ عوام پر ہی چھوڑدینا چاہیے ۔

Advertisements