پاکستان ٹیم کو بس کھلاڑیوں کی پرفارمنس میں مستقل مزاجی کی ضرورت ہے

پاکستان میں بسنے والے شائقین جو پہلے انگلینڈ کے خلاف کھلاڑیوں کی پرفارمنس سے مایوس تھے اب ویسٹ انڈیز کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانے والی ہوم سریز میں قدرے بہتر پرفارمنس سے تھوڑے مطمعین نظر آتے ہیں۔ جولائی -اگست – ستمبر 2016 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلی جانے والی سریز میں جس طرح سے ہماری پاکستان ٹیم نے پرفارم کیا وہ بہت زیادہ مایوس کن تھا جس کے بعد قومی ٹیم ایک روزہ ورلڈ رینکنگ میں انتہائی نیچے درجے پر آگئی ہے جس کے بعد چھوٹی ٹیموں سے ورلڈکپ کوالیفائنگ راونڈ میچز کھیلنے کی نوبت بھی آسکتی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم نے جہاں گزشتہ 6 ماہ میں اچھی بری پرفارمنس دی وہیں ایک مثبت پوائنٹ بھی واضح ہوا ، مثبت پوائنٹ یہ ہے کہ شاہد آفریدی کی ریٹائرمینٹ کے فیصلے کے بعد اس بات کو شدت سے محسوس کیا جارہا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں کوئی اسٹار پلیئر نہیں ہے مگر اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ آگے چل کر بہت سے کھلاڑی اس سوال کا جواب اپنی پرفارمنس سے دے دینگے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے اسد شفیق ، عماد وسیم ، بابر اعظم ، حارث سہیل ، سرفراز احمد ایسے ابھرتے ہوئے کھلاڑی ہیں جو مستقبل میں پاکستان کرکٹ کو بہت اچھا مقام دلا سکتے ہیں۔ اگر ہم ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی جانے والی سریز پر نگاہ ڈالیں تو آپ کواندازہ ہوگا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ ہے مگر صحیح طرح سے انکی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو بھرپور وقت اور موقع دینے کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنا لوہا منواسکیں جس طرح موقع ملنے پر عماد وسیم نے آل راونڈ پرفارمنس دی اور بابر اعظم نے اپنا زمہ دارانہ کھیل پیش کرکے لگاتار تین سینچریز کا ریکارڈ بنا ڈالا۔
آنڈر 19 میں کپتانی کے فرائض انجام دینے والے 21 سالہ بابر اعظم نے قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں 2016 میں کھیلی جانے والی پاکستان کی ہوم سریز میں تین ایک روزہ میچز میں لگاتار تین سینچریز اسکور کرکے تاریخی ریکارڈ بناڈالا ، بابر اعظم لگاتار تین سینچریز بنانے والے دنیا کے آٹھویں کھلاڑی بن گئے ہیں,
اسکے اعلاوہ تین ایک روزہ میچز کی سریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا ، بابر اعظم نے تین میچز میں 360 رنز بناکر ڈی کوک ، مارٹن گپٹل کو پیچھے چھوڑدیا اس سے قبل یہ اعزاز ڈی کوک کے پاس تھا ڈی کوک نے 2013 میں انڈیا کے خلاف سریز میں 342 رنز اسکور کیے تھے ، مارٹن گپٹل نے 2013 تین ایک روزہ میچزمیں انگلینڈ کے خلاف 330 رنز اسکور کیے تھے,

بابر اعظم نے اپنے کیریئر کے آغاز کی 18 اننگز میں تیز ترین 886 رنز اسکور کرکے لیجنڈ ویو رچرڈز کا ریکارڈ بھی توڑدیا ویو رچرڈز نے اپنے کریئر کے آغاز کی 18 اننگز میں 883 رنز بنائے تھے۔۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین ہوم سریز میں 3 ٹی 20 اور 3 ایک روزہ میچز کھیلے گئے ہیں جس میں پاکستان ٹیم نے دونوں فارمیٹس میں وائٹ واش کرکے کالی آندھی کو چت کردیا ،یہاں پاکستان ٹیم کو تھوڑا سنبھنلنے کا تو موقع ملا مگر ہمیں خواب خرگوش میں نہیں رہنا چاہیے اور جیتنے کے باوجود مزید بہتری کی طرف بڑھنا چاہیے ، پاکستان کے کھلاڑی اگر مستقل مزاجی کے ساتھ پرفارمنس دینا شروع کردیں تو ہماری ٹیم ٹاپ 4 رینکنگ سے کبھی نیچے نہ آئے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں بھی کئی ڈی ویلیئرز ، ویرات کوہلی ، برنڈن مککلم ، جیسے بہترین پلیئرز موجود ہیں۔
ویسٹ انڈیز ناتجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کی بیٹنگ پیچز پر ہماری ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو ایک روزہ میچز کی سریز میں 3-0 تین صفر سے شکست دے کر ورلڈ رینکنگ میں کچھ پوائنٹس میں تو اضافہ کر کے رینکنگ میں 9 ویں پوزیشن سے 8ویں پوزیشن تو حاصل کرلی مگر ابھی کوالیفائنگ راونڈ کھیلنے کا خوف ختم نہیں ہوا ہے کوالیفائنگ راونڈ سے بچنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اسڑیلیاکے خلاف تیز پیچز پر ایک روزہ میچز میں بھی اچھی پرفارمنس دینا ہوگی۔

Advertisements