سانحہ 30ستمبر 1988 حیدرآباد

پاکستان کی 69سالہ تاریخ میں آج تک غریب آدمی کو انصاف نہ مل سکا ،یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مراعات یافتہ طبقہ پچھلے 69©سالوں سے غریب محکوم عوام پر حکمرانی کررہا ہے۔اگر غریب محکوم عوام کو پاکستان میں انصاف اور انکے حقوق ملنا شروع ہوجائیں تو پاکستان میں نہ ظلم رہے گا اور نہ ظالم حکمران۔ پاکستان کو انگریزوں سے آزادی حاصل کیے ہوئے 69سال گزر جانے کے باوجود پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم نہ کی جاسکی جس کی بنیادی وجہ پاکستان کی عدالتوں کا دوہرا نظام جہاں غریب کے لیے قانون الگ اور امیر ، اشرافیہ کےلیے قانون الگ ہے۔ پاکستان میں اگر کوئی عام شہری اپنا جائز مطالبہ لے کر عدالت چلا جائے تو اس عام شہری کو اپنا جائز حق حاصل کرنے میں کیئ سال گزر جاتے ہیں اور کچھ تو اپنے حق کے لیے لڑتے لڑتے مرجاتے ہیں اور وہی کیس اسکی کیئ نسلوں تک چلتا رہتا ہے اسکے باوجود ہماری عدالتیں کسی نتیجے پر نہیں پہنچتی ہیں۔
آج پاکستان میں جتنی بھی معاشی و سماجی برائیاں پھیل رہی ہیں یا پھیل گئی ہیں اس میں ہمارے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ہماری عدلیہ بھی برابر کی شریک ہے۔
عدلیہ کے دوہرے نظام اور رویے کی وجہ سے پاکستان میں غریب محکوم اور مظلوم عوام کی خون کی اہمیت کو ایسا کردیا ہے جیسے انکے خون کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ پاکستان میں آے دن کسی نہ کسی طرح غریب آدمی کی زندگی سے کھیلا جاتا ہے چاہے وہ تھر میں بھوک سے مرتے ہوئے بچے،بوڑھے ، جوان، مرد،خواتین ہو یا پھر جاگیردار وڈیروں کے بیٹوں کی گولیوں سے مرتے ہوے شاہ زیب جیسے پڑھے لکھے بچے ہوں، اور یا پھر سیلاب و بارشوں سے متاثرہونے والے غریب عوام ، سب 2 فیصد مراعات یافتہ طبقے کی عیاشیوں کی وجہ سے اپنی زندگی اور اپنے بنیادی حقوق سے محرومی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اور ہماری عدلیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، بس عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے ایک نوٹس کا شوشہ چھوڑ کر سب پھر اپنی زندگی میں مگن ہوجاتے ہیں۔
ستمبر پاکستان کے عدالتی نظام کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے آج سے 28 سال پہلے پاکستان کے ساتویں بڑے شہر حیدرآباد میں معصوم عوام کے خون سے وہ ہولی کھیلی گئی تھی جس کے ثمرات آج بھی موجود ہیں، اور اسکے عینی شاہد بھی موجود ہیں یہ وہ سانحہ جسے کبھی نہ میڈیا پر دکھاگیا اور نہ ہی نصابی تاریخ میں بچوں کو پڑھایا گیا مگر آج بھی اس سانحہ کے متاثرین میں اس سانحہ کے زخم تازہ ہیں جن پر نہ کبھی کسی حکومت وقت نے مرہم رکھا نہ عدالتوں میں بیٹھے آئین و قانون کی کتابیں پڑھنے والوں نے۔

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں 30ستمبر 1988 کو شہری علاقوں میں حکومتی سرپرستی میں دہشت گردوں نے عام شہریوں کے خون سے وہ ہولی کھیلی جس کو تاریخ کبھی بھلا نہیں سکتی۔ سانحہ 30ستمبر 1988کے عینی شاہد آج بھی اس منظر کو یاد کرتے ہیں تو انکی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں جس میں انہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا۔ سانحہ حیدرآباد 30ستمبر کےروز کاروباری حضرات اپنے کاروبار میں مصروف تھے لوگوں کی آمدورفت جاری تھی بچے اپنے کھیل میں مگن تھے کہ 30ستمبر 1988 کو شام کے 6 بجتے ہی حیدرآباد میں ایک قیامت سی برپا ہوگئیئ امن دشمنوں کے ایجنٹ نام نہاد قوم پرست قادر مگسی اور گل محمد جاکھرانی نے لاکھوں کی نقدی کے عوض حیدرآباد کے شہری علاقوں میں کھلے عام ریاستی سرپرستی میں اردو بولنے والوں کو خون میں نہلادیا۔ 30ستمبر 1988 کو شام 6بجے سے 6:30 بجے کے درمیان گل محمد جاکھرانی اور قادر مگسی کی سربراہی میں 10 ، 11 گاڑیوں میں سوار افراد کلاشنکوف اور دیگر جدید اسلحہ سے لیس مسلح دہشت گرد حیدرآباد شہر کے گنجان علاقوں ،بازاروں گاڑی کھاتہ،ہیرآباد،مارکیٹ چوک،پریٹ آباد،پکاقلعہ،اور لطیف آباد اور شہر کے دیگر علاقوں میں داخل ہوئے اور مختلیف علاقوں میں بٹ کر بازاروں ،مارکیٹوں میں عام شہریوں راہ گیروں،اور دیگر خریداری کرنے والوں پر آندھادھند فائرنگ شروع کردی۔ گاڑیوں میں سوار تمام دہشت گرد وائرلیس کے زریعے آپس میں رابطے میں تھے۔ ایک گھنٹے تک حیدرآباد گولیوں اور دھماکوں کی آوازوں سے گونجتا رہا، حیدرآباد کے شہری علاقوں کی جان و مال سے ایک گھنٹے تک دہشت گرد قادر مگسی اور گل محمد جاکھرانی کی سربراہی میں خون کی ہولی کھیلتے رہے مگر کسی کو ان پر رحم نہ آیا۔ مسلح دہشت گردوں کی فائرنگ سے سانحہ حیدرآباد30 ستمبر 1988 میں 200 سے زائد اردو بولنے والے مہاجر شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
مسلسل ایک گھنٹے تک حیدرآباد میں قیامت صغریٰ برپا کرنے والے دہشت گردوں کے فرار ہوجانے کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے بیان سامنے آیا تھا کہ حیدرآباد کے شہری علاقوں میں فائرنگ کرنے والوں کی شناخت ہوگئی ئ ہے جس میں قوم پرست جماعت کے ڈاکٹر قادر مگسی اور گل محمد جاکھرانی اور ایک بدنام زمانہ ڈاکو جانوآرائیں بھی شامل تھا۔
سانحہ 30ستمبر 1988 کے دوران حیدرآباد کے میئر اور ڈپٹی میئر نے سینکڑوں مرتبہ ڈی سی حیدرآباد شفیق پراچہ اور ایس ایس پی حیدرآباد عمر عالم اور دیگر حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر انتظامیہ کا کوئی زمہ دا ر فر د رابطے میں نہیں آیا اور یوں سینکڑوں معصوموں کو کھلے عام روندیا گیا۔ سانحے کے اصل مجرموں کے نام اور اس وقت کے پولیس افسران کے ناموں اور کاموں کا علم ہوتے ہوئے بھی نہ ریاست نے انکو سزا دی اور نہ ہی ہماری عدالتوں نے اس پر کوئی دلچسپی دکھای۔ ستمبر 1988 سے آج ستمبر 2016 تک اس سانحہ کو 28سال گزر گئے مگر ان 200 سے زائد شہید اور سینکڑوں کو زخمی کرنے والے مجرم آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔
سانحہ حیدرآباد کے ان لوگوں کا کیا جو نہ زندہ میں شامل ہیں اور نہ مردہ میں بہت سے لوگ آپاہیچ ہوگئے،کچھ اپنے پیاروں کو کھو بیٹھے ، کسی کا بھای شہید تو کسی کی بہن ، کسی کا بیٹا شہیدتو کسی کا باپ، کوئی اولاد سے محروم ہوا تو کسی نے اپنے والدین کو کھو دیا مگر افسوس ہمارے سٹسم نے انھیں انصاف تک نہ دیا۔ س حضرت علی کا قول ہے کہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں۔ پاکستان کے آئین کے مطابق حکومت وقت کی زمہ داری ہے کہ ہر شخص کی جان و مال کی حفاظت کرے اور ہر شخص اسکے بنیادی حقوق دیے جائیں جس کا وہ آئینی اعتبار سے حقدار ہے۔ پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی میں ہونے والے سانحات کے مجرموں یا ملزموں کے خلاف بھی کوئی کارروائی عمل لائیءجانا چاہیے جس سے عام شہریوں کے قتل میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جاے اور عام آدمی کو بھی اپنے تحفظ کا احساس ہو۔
سانحہ پکا قلعہ 26،27 مئی 1990، سانحہ قصبہ عالیگڑھ 14دسمبر 1986 ، ان جیسے دیگر سانحات پر عدلیہ کو ازخود نوٹس لے کر متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے جیسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے عام آدمی کو احساس ہو کہ پاکستان میں بھی کوئی عدالتی نظام قائم ہے انکے پیاروں کو ان سے بچھڑے کی ء سال گزر گئے اور نہ جانے کتنے آج بھی ان زخموں کی وجہ سے تکالیف میں ہیں مگر وہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں ورنہ بےشک اللہ بہتر انصاف دینے والا ہے۔

Advertisements