پاکستان ٹیم کو اچھی پرفارمنس کا تسلسل برقرار رکھنا چاہیے 

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلی جانے والی 24 ویں ٹیسٹ میچ سیریز کا اختتام ہوگیا۔ پاکستان دورہ انگلینڈ 2016 میں دونوں ٹیموں کے مابین 4 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے جس میں دو ٹیسٹ میچ انگلینڈ نے جیتے اور دو ٹیسٹ میچز پاکستان کے نام رہے اور یوں 4 ٹیسٹ میچز کی سیریز بغیر کسی ٹیم کے ہار جیت کے ختم ہوگئی ۔

پہلا ٹیسٹ میچ 14 جولائی سے 18 جولائی تک لارڈز میں کھیلا گیا جس میں انگلینڈ کو 75 رنز سے شکست کھانا پڑی ، لارڈز ٹیسٹ پاکستان کے نام رہا،
دوسرا ٹیسٹ میچ 22 جولائی سے 26 جولائی تک اولڈٹریفورڈ مانچسٹر میں کھیلا گیا جو کہ باآسانی انگلینڈ نے اپنے نام کیا اور 330 کے بھاری مارجن سے پاکستان کو مات دی اور سیریز میں بہترین واپسی کی، تیسرا ٹیسٹ میچ 3 اگست سے 7 اگست تک ایڈجبسٹن برمنگھم میں کھیلا گیا جسے انگلینڈ نے اپنی بہترین پرفارمنس کی بنیاد پر 141 رنز سے جیتا ، انگلینڈ تیسرے میچ میں فتح سمیٹ کر 4ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 2۔1 سے برتری حاصل کرنے اور پاکستان پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہا۔

چوتھا اور آخری ٹیسٹ میچ کننگٹن آوول لندن میں 11 سے 15 اگست تک کھیلا گیا جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کیجانب سے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا گیا ،بالنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں اچھی پرفارمنس نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو سیریز میں شکست کھانے سے بچا لیا۔   یونس خان کی ڈبل سینچری اور اسد شفیق کی سینچری نے انگلینڈ پر دباؤ بڑھایا اور بالنگ میں یاسر شاہ کی نپی تلی بالنگ نے دباؤ میں گھری انگلینڈ ٹیم کو سنبھلنے نہیں دیا اور یوں پاکستان ٹیم نے انگلینڈ کو چوتھے ٹیسٹ میچ میں 10وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 2۔2 سے برابر کردی اور پاکستان سیریز میں شکست سے بچ گیا۔

انویسٹک ٹیسٹ میچ سیریز کے 4 میچز میں پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ نے سیریز میں مجموعی طور پر بہترین بالنگ کا مظاہرہ کیا اور 4 میچز میں 20وکٹیں لیں ، سہیل خان نے دو ٹیسٹ میچز میں 13, اور محمد عامر نے 4 ٹیسٹ میچز میں 12وکٹیں لیں ، انگلینڈ کی جانب سے بالنگ میں کرس واکس نے بہت عمدہ بالنگ کا مظاہرہ کیا اور 4 میچزکی 8 اننگز میں 26وکٹیں لیں ، اسٹراٹ براڈ نے 13 وکٹیں لیں ، معین علی نے 11 وکٹیں لیں ، بیٹنگ میں پاکستان کی جانب سے یونس خان ایک کامیاب بیٹسمین رہے انہوں نے 7 اننگز میں 340 رنز اسکور کیے اور ایک اننگ کا بہترین اسکور 218 ہے ، اسکےعلاوہ مصباح الحق نے 7 اننگز میں 282رنز اسکور کیے اور بہترین اسکور 114 ہے ، اسد شفیق نے 7 اننگز میں 274رنز اسکور کیے اور بہترین اسکور 109رہا۔

انگلینڈ کی جانب سے جوئے روٹ ایک بہترین بیٹسمین کی شکل میں ابھر کر سامنے آئے انھوں نے 8 اننگز میں 512رنز اسکور کیے اور ایک اننگ میں بہترین اسکور 254 رہا ، انگلینڈ کے کپتان ایلسٹر کک نے 8 اننگز میں 423 رنز اسکور کیے اور بہترین اسکور 105 رہا۔ بہترین بالنگ کرنے کے پیش نظر کرس واکس کو مین آف دی سیریز کا اعزاز دیا گیا۔

ٹیسٹ میچز کی سیریز کے اختتام کے اب پاکستان انگلینڈ کے درمیان 24 اگست سے ایک روزہ میچز کی سیریز کا آغاز ہونا ہے جس میں دونوں کے مابین 5 ایک روزہ میچز کھیلے جانے ہیں۔ اگر ہم پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اب تک کھیلے جانے والے ایک روزہ میچز کے اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انگلینڈ کا پلڑا بھاری ہے دونوں ٹیموں کے درمیان مجموعی طور پر 76میچز کھیلے گئے ہیں جس میں سے 45 میچز میں انگلینڈ کامیاب رہا ، 29 میچز میں پاکستان کامیاب رہا اور 2 میچز کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کا دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتا ہے مگر بعض اوقات ٹیم پرفارمنس ٹیم کو بہترین سے بدترین کیطرف لے جاتی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ بیٹسمینوں کی غیر زمہ دارانہ بیٹنگ ہے جو کہ شروع سے ٹیم کے لیے ایک چیلنج رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔

کرکٹ شائقین نے یقیناً یاسر شاہ ، سہیل خان ، کرس واکس ، اسٹراٹ براڈ کی عمدہ بالنگ اور جوئے روٹ ، یونس خان ، ایلسٹر کک ، مصباح الحق کی بیٹنگ سے خوب لطف اندوز اٹھایا ہوگا اور امید ہیکہ ایک روزہ میچز میں بھی دونوں جانب سے اچھا کھیل دیکھنے کو ملے گا اور کامیابی اچھا کھیل پیش کرنے والی ٹیم کے نام رہے گی۔

دورہ انگلینڈ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی کافی متاثر کن رہی ہے سمیع اسلم جیسے نوجوان کھلاڑی کی بہترین کارکردگی سے محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستانی اوپننگ پئیر کا مسلہ بھی حل ہوجائے گا اور ٹاپ آرڈر میں یونس خان اسد شفیق اور مصباح الحق کا زمہ دارانہ کردار ادا کرنا خوش آئیند ہے ،ٹاپ آرڈر کا پرفارم کرنا اور بالرز کا ردھم میں آنا اچھی بات ہے مگر یہاں تسلسل کی ضرورت ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان کرکٹ ٹیم یہی پرفارمنس برقرار رکھے گی یا پھرعوام کو ماضی کی طرح دوبارہ فتح کے بعد شکستوں کا سامنا کرنا پڑیگا۔

Advertisements