بابائے خدمت عبدالستار ایدھی

بےشک انسانیت کی خدمت ہی بہترین عبادت ہے . کراچی کے باسیوں اور پورے پاکستان میں انسانیت کے لیے ہمدردی رکھنے والوں کو  غم نے آگھیرا جب لاکھوں لوگوں کی دیکھ بھال اور خدمت میں مصروف رہنے والی شخصیت عبدالستار ایدھی صاحب 8 جولائی 2016کو 88 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے جس کے باعث ہر شخص کی آنکھ اشکبار ہے دنیا بھر سے لوگوں کی تعزیت بھی دیکھنے میں آئی بہت سے جریدوں کی جانب سے ایدھی صاحب کے انتیقال کی خبر کو فرنٹ پیج پر جگہ دی گئی جس سے انکی شخصیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر سے تمام مذاہب و مکاتب فکر کے لوگوں کی جانب سے خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے ہر انسان آج انہیں سلام پیش کررہا ہے۔ ایدھی صاحب کی وفات پر دنیا بھر سے لوگوں نے پاکستان سے تعزیت کا اظہار کیا ، پاکستان کی مختلیف سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ، انسانیت کی خدمت میں اپنی تمام عمر صرف کرنے والے مرحوم عبدالستار ایدھی صاحب یکم جنوری 1928 کو بھارتی ریاست گجرات کے شہر بنٹوا میں پیدا ہوئے اور پھر 1947 میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد خاندان کے ہمراہ ہجرت کی اور کراچی میں آکر مقیم ہوئے ۔

عبدالستار ایدھی صاحب نے 1951 میں ایدھی فاونڈیشن کی بنیاد رکھی ، ایدھی صاحب اور بلقیس ایدھی 1965 میں شادی کے بندھن سے بند گئے ، اولاد میں دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں ۔ ایدھی صاجب 2013 میں گردے کے مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود انسانیت کی خدمت کو جاری رکھا اور 8 جولائی 2016کو اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے ،  آہوں اور سسکیوں میں ایدھی ولیج ( ایدھی صاحب نے اپنی آخری آرام گاہ کی جگہ 25 سال قبل وصیت کی اور اپنی آخری آرام گاہ  اپنی زندگی حیاتی میں ہی تیار کروالی تھی ) میں سپردخاک کرد یا گیا۔

عبدالستار ایدھی صاحب کی تدفین 9 جولائی 2016 کو شہر کراچی میں ہوئی جس میں ملک کے مختلف سیاسی و سماجی رہنماوں ، چیف آف آرمی اسٹاف اور دیگر عسکری سربراہان، شہر کراچی کے باسیوں اور پاکستان کے دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے آفراد نے شرکت کی اور انکے اہل خانہ سے تعزیت کی ۔  آج تمام طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ایدھی صاحب کی وفات پر غم سے نڈھال ہیں کیونکہ وہ ایک روحانی باپ کی حیثیت رکھتے تھے یہ ہی وجہ ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے طریقے سے انہیں خراج عقیدت پیش کررہا ہے ۔ عبدالستار ایدھی صاحب کی خواہش تھی کہ انکے انتقیال کے بعد انکے جسم کا کوئی اعضائ کسی انسان کے کام آسکتا ہو تو اسے عطیہ کردیا جائے اور انکی اس وصیت اور خواہش کے مطابق یہ ہی کیا گیا ، انکی جسم کے کئی اعضائ علالت کے باعث ایسے نہیں تھے کہ وہ عطیہ کیے جاتے تاہم انکی آنکھیں عطیہ کردی گئیں۔

Blog published on ARY NEWS – 

ClQHby6WYAEqNIy.jpg 

ایدھی صاحب نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت میں گزاری اور اپنے ایدھی فاونڈیشن کے قیام سے بے سہاروں کو سہارا دیا یتیموں کو باپ کی شفقت دی اور آج انکے جانے سے ہزاروں ایک بار پھر یتیم ہوگئے۔ ایدھی صاحب کے انسانیت کی خدمت کے جذبے کے پیش نظر بہت سے ایوارڈ سے نوازا گیا 1986 میں رمن مگسیی ایوارڈ سن 1988 میں لینن امن پرائز ، 1989 میں نشانہ امتیاز ، بھارت نئی دہلی میں سن 2000 پیس اینڈ ہارمنی ایوارڈ سے نوازا گیا سن 2004 ممبئی میں پیس ایوارڈ دیا گیا ، سن 2005 میں حیدرآباد دکن میں امن ایوارڈ اور پھر 2007 میں دہلی میں گاندھی ایوارڈ دیا گیا ، ، 2010 میں احمدیہ مسلم نوبل پرائز دیا گیا اس کے اعلاوہ بہت سی یونیورسٹیز اور انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے اعزازی ڈگری بھی دی گئیں ، ایدھی صاحب کی خدمت کو زمانہ آج سلام پیش کررہا ہے ،مگر یہاں سوال یہ ہے کہ جب عبدالستار ایدھی صاحب اکیلے اتنے لوگوں کی خدمت کرسکتے ہیں تو ہمارے ملک کی حکمرانی ایدھی فاونڈیشن اور دیگر فلاحی اداروں کو کیوں نہیں دے دیتے ؟ جب ایدھی صاحب غریب غربائ ، یتیموں ، بیواو¿ں اور دیگر افراد کی کفالت کا بیڑا اٹھا سکتے ہیں تو ریاست کیا کررہی ہے ؟۔ ایدھی صاحب کے جانے سے جو خلائ پیدا ہوا ہے وہ تو کبھی پر تو نہیں کیا جاسکتا مگر انکے مقصد اور مشن کو آگے لےکر چلا جاسکتا ہے جیسے انھوں نے رنگ و نسل ، مسلک ، مذہب کی تفریق کے بغیر انسانیت کی خدمت کی اگر ہر شخص ہزاروں نہیں بلکہ صرف اپنے ارد گرد اپنے آس پڑوس میں مصیبت زدہ لوگوں کی پریشانیوں کو کم کرنے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنے لگیں تو معاشرے میں کافی حد تک بہتری آسکتی ہے ۔

Advertisements