کراچی میں کالعدم تنظیموں کی آزادانہ سرگرمیاں

 

شہر کراچی میں کالعدم تنظیموں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت تشویشناک بات ہے جوکہ آگے چل کر پورے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ ماہ رمضان سے قبل سندھ بھر میں کالعدم تنظیموں اہل سنت والجماعت ، جماعت الدعوة اور دیگر کی جانب سے کھلے عام پورے سندھ میں ریلیاں نکالی گئیں سیمینار منعقد کیے گئے اور ماہ رمضان میں کھلے عام جہاد کے نام پر چندہ جمع کیا جارہا ہے۔ کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر ایک وڈیو بہت زیادہ وائرل ہوئی جسے نجی نیوز چینلز کی جانب سے بھی نشر کیا گیا جس میں صاف دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ کس طرح کالعدم تنظیم کی جانب سے جہاد کے نام پر چندہ جمع کیا جارہا ہے اور چندہ جمع کرنے والے افراد کے پیچھے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار اطمینان سے کھڑے ہیں اور جہادی عوام سے بنا کسی رسید کے فنڈ جمع کررہے ہیں اور عوام میں دوسرے ملک کے لیے نفرت پرابھار رہے ہیں جوکہ انتیہا پسندی کے فروغ دینے کے مترادف ہے۔ کراچی میں کھلے عام کالعدم تنظیم کی جانب سے چندہ جمع کرنا، ریلیاں آرگنائزڈ کرنا اور دیگر آزادانہ سرگرمیاں نیشنل ایکشن پلان اور 26 دسمبر 2014 کو عسکری قیادت اور پارلیمانی جماعتوں کی نمائندوں کی موجودگی میں جن شقوں پر اتفاق رائے کیا گیا تھا اس مینڈیٹ اور اتفاق رائے کی توہین ہے۔

CmdzkI1VUAQMAa5.jpg

Banned.gif

Blog  published on Ary News

کراچی میں کالعدم تنظیموں کی آزادانہ سرگرمیاں

https://www.youtube.com/watch?v=mGBZ1-YG0ec

شہر قائد میں ایک طرف سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاونڈیشن کے لیے زکٰوة فطرہ جمع کرنے والوں کو تو گرفتار کیا جارہا ہے مگر دوسری جانب دیگر سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور دیگر انتہاپسند کالعدم تنظیموں کو چندہ اور فنڈ جمع کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے جوکہ اس بات کو تقویت بخشتا ہے کہ کراچی آپریشن جرائم پیشہ عناصر اور کالعدم تنظیموں کے خلاف نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کے خلاف ہورہا ہے۔ حالانکہ کے کے ایف ایک رجسٹرڈ فلاحی ادارہ ہے ‘ ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے نے ملک میں ہر قومی سانحہ پر افواج پاکستان کے ساتھ مل کر انسانیت کی خدمت کی ہے مگر اس کے باوجود اس کے لیے زکٰوة فطرہ جمع کرنے پر غیر اعلانیہ پابندی سراسر زیادتی ہے۔ کراچی آپریشن کی حساسیت اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہےکہ جرائم پیشہ عناصر دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کے خلاف بلاتفریق کاروائی ہونا چاہیے خواہ وہ کسی بھی مذہبی و سیاسی جماعت یا پھر کسی بھی ادارے سے ہی کیوں نہ تعلق رکھتا ہو کراچی آپریشن کو کسی سیاسی جماعت کے خلاف کرکے شہر کی عوام سے زیادتی نہ کی جائے۔
سبط جعفر صاحب ، سانحہ صفورا گوٹھ میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں 45سے زائد افراد کی ہلاکت ، شکیل اوج صاحب ، پروین رحمان ، سبین محمود ، خرم زکی ، امجد صابری اور دیگر کے قتل کی زمہ داری انتہاپسندوں اور دہشتگردوں کی جانب سے قبول کی گئی مگر اس کے باوجود ان سے منسلک لوگوں سے پوچھ گچھ نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔امجد فرید صابری کی شہادت کے بعد عوام میں کراچی آپریشن کے حوالے سے بہت سے تحفظات جنم لے رہے ہیں اور اب ہمارے ملک کے فنکار آرٹسٹ بھی اپنی سیکورٹی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں ،

کراچی میں آپریشن کے باوجود تین سالوں میں سینکڑوں معصوم اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں مگر ہم آج بھی وہی پر کھڑے ہیں جہاں پہلے کھڑے تھے جسکی سب سے بڑی وجہ اصل مجرموں کو کھلی آزادی دینا ہے۔ شہر قائد میں جاری آپریشن اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک انتہا پسند عناصر اور انکی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہ کی جائے۔ شہر قائد اور ملک میں امن و امان کو بہتر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپریشن کا دائرہ کار ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا جائے اور ایسے لوگوں کے خلاف کریک ڈاون کیا جائے جو مختلف قسم کی انتہاپسندی اور جہادیوں کی صنعتیں لگاکر بیٹھے ہیں ۔

Advertisements