طلبہ تنظیم سے سیاسی جماعت تک

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے ابتدائسے لیکر آج دور حاضر تک بڑے بڑے نامور ، طاقتور ، ظالم و جابر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے رعب دبدے اور دہشت پھیلائی رکھی اور گزرتے ہوئے زمانے نے انکا نام و نشان تک مٹادیا اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ جو زمینوں کے حکمران و فاتح بنے وہ دلوں کو فتح نہ کرسکے دنیا نے انہیں فراموش کردیا لیکن جنہوں نے انسانی فلاح و بہبود اور انسانی خدمت کو بلاتفریق رنگ و نسل اپنا شعار بنالیا وہ ہر زمانے کے لیے مثال بن گئے۔آج سے 38 سال قبل کسی کے وہم گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک نوجوان طالب علم ایک جامعہ سے ایک ایسے انقلاب کی بنیاد رکھے گا جس کی آواز ملک کے کونے کونے میں سنائی دے گی۔ پاکستان میں 38 سال قبل شہر کراچی اور پاکستان میں کوئی غریب طالب علم یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ حکمرانوں کے اعلی ایوانوں میں اسکے حق کے لیے بات کی جائے گی ،11جون 1978 ایک تاریخی دن تھا جس دن ایک نوجوان طالب علم الطاف حسین نے 24 سال اور 9 ماہ کی عمر میں ایک طلبہ تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا مقصد طلبہ کے مسائل اور انکے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا تھا، آج اے پی ایم ایس او اپنا 38 واں یوم تاسیس منارہی ہے اور 38 سالوں کی اس جدوجہد میں ہزاروں نوجوانوں ، بزرگوں ماوں بہنوں کا لہو شامل ہے جنہوں نے قوم کے بہتر مستقبل کے خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا مگر ظالم و جابر حکمران کے سامنے جھکے نہیں ، الطاف حسین صاحب نے 11 جون 1978 کو طلبہ تنظیم کی بنیاد رکھ کر طلبہ و طالبات کو ایسا پلیٹ فارم دیا جہاں سے ناصرف طلبا ئ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے بلکہ ملک و قوم کی خدمت کے لیے نوجوان قیادت بھی ابھر کر سامنے آتی ہے ۔

الطاف حسین نے مہاجر طلبہ کے حقوق کے لیے اس وقت آواز اٹھائی جب کوئی مہاجروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف بات کرنے والا نہ تھا ۔الطاف حسین کی قیادت میں مہاجر طلبہ کے حقوق کے لیے بننے والی طلبہ تنظیم کو جامعہ کراچی کے طلبہ طالبات نے بھرپور خوش آمدید کہا جوق در جوق مہاجر طلبہ الطاف حسین کا ساتھ دینے کے لیے آتے رہے اور کچھ عرصے میں ہی مہاجر طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او اور الطاف حسین نے طلبائ کا اعتماد حاصل کرکے سیاسی جماعتوں کی بغل بچہ طلبہ تنظیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی جو اسٹیٹس کو کی جماعتوں کو بالکل ہضم نہ ہوا۔ مہاجر طلبا کا اتحاد دیگر طلبہ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کو ایک آنکھ نہ بھایا اور مذہبی طلبہ تنظیم اسلامیہ جمعیت طلبہ کے تھنڈر اسکواڈ کی جانب سے اے پی ایم ایس او کے داخلہ کیمپس پر حملے کرنا شروع کردیے گئے اور مہاجروں کو مغلظات کہہ کر اکسانے کی کوشش کی جانے لگی ، اور جب سب حربے ناکام ہوئے تو طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے تھنڈر اسکواڈ کے غنڈہ عناصر نے 3 فروری 1981 کو اے پی ایم ایس او کے لگے داخلہ کیمپ پر حملہ کرکے کیمپ پر موجود اسٹوڈنٹس پر دھاوا بول دیا جس سے متعدد طلبہ طالبات زخمی ہوئے جس کے بعد انتظامیہ نے جمیعت کے غنڈوں کے خلاف کاروائی کے بجائے اے پی ایم ایس او کے کارکنان اور الطاف حسین کے جامعہ میں داخلے پر پابندی عائد کردی جس سے نہ صرف ان طلبائ کی پڑھائی متاثر بلکہ مہاجروں کے ساتھ ناانصافیوں میں مزید اضافہ کردیا گیا۔ آمر جنرل ضیائ الحق کی جانب سے 1983ئ میں طلبہ تنظیموں پر پابندی اور الطاف حسین اور اے پی ایم ایس او کے کارکنان کو یونیورسٹی سے نکال دیے جانے کے بعد الطاف حسین اور انکے کارکنان نے اپنا پیغام گلی گلی محلے محلے میں ہر مہاجر تک پہچانے کا فیصلہ کیا ، گلی محلوں میں ماوں ، بہنوں اور بزرگوں نے بھی الطاف حسین کو اسی طرح ویلکم کیا جس طرح جامعہ کراچی کے مہاجر طلبائ نے کیا تھا اور پھر جیسے جیسے پیغام پھیلتا گیا ، لوگ الطاف حسین صاحب کے قافلے میں آتے گئے اور پھر وہ وقت آ ن پہنچا جب ایک طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس سے ایک تحریک کی بنیاد رکھی گئی ، 18 مارچ 1984کو الطاف حسین کی قیادت میں مہاجر قومی موومینٹ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ الطاف حسین صاحب کے مہاجروں کے حقوق کے حصول کے لیے بننے والی تحریک کی گونجیں کراچی سے نکل کر حیدرآباد تک پہنچی اور پھر آہستہ آہستہ لوگ الطاف حسین کے ساتھ جڑنے لگے اور مہاجر قومی موومینٹ کے قیام کے 2 سال بعد الطاف حسین اور مہاجروں نے ایک تاریخی جلسہ کرکے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا ، مہاجر قومی مومنٹ کا پہلا جلسہ 8 اگست 1986 , اور پھر دوسرا بڑا جلسہ حیدرآباد میں 31اکتوبر 1986 میں ہوا ہے 1984 سے قبل مہاجروں کی کوئی نمائندہ جماعت نہ تھی جس کے باعث مہاجر ان جاگیردار وڈیروں اور سرمایہ داروں کو مجبوراً ووٹ دیا کرتے تھے اور وہ مہاجروں کا ووٹ حاصل کرنے کے باوجود انکے مسائل پر ایوانوں میں آواز تک نہیں اٹھاتے تھے۔ ، سانحہ قصبہ عالیگڑھ 1986 و دیگر سانحات کے زریعے عوام کو الطاف حسین سے دور کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ایم کیو ایم نے 1987 میں پہلی مرتبہ بلدیاتی انتیخابات میں حصہ لیا اور کراچی حیدرآباد میں ایم کیوایم کے مئیر اور ڈپٹی مئیرز منتخب ہوئے ، اسکے بعد 1988 کے عام انتخابات سے ایم کیوایم نے اپنی پارلیمانی سیاست کا آغاز کیا، مہاجر نوجوانوں کو ملک کی خدمت کا موقع فراہم کرنے اور اعلی ایوان میں جاکر مہاجروں کے حقوق کے لیے باقاعدہ آواز بلند کرنے کا آغاز کیا جو ایک تاریخ ساز فیصلہ تھا۔۔

ایک سازش کے تحت حیدرآباد میں سانحہ 30 ستمبر 1988رونما ہوا اور 1990 میں سانحہ 26 27 مئی میں بےگناہ معصوم شہریوں کا خون بہاگیا مگر اسکے باوجود عوام نے الطاف حسین کا ہاتھ تھامے رکھا۔۔
الطاف حسین کی قیادت میں جب مہاجر یکجائ ہونے لگے تو اسٹیٹس کو کی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو اپنی ہار نظر آنے لگی جس پر استحصال قوتوں نے مہاجر قوم کی قیادت اور رہنمائی کرنے والے الطاف حسین صاحب کو خریدنے کی کوشش کی تاکہ مہاجروں کو غلام بناکر رکھا جاسکے مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا ، الطاف حسین کو خریدنے کے لیے نوٹوں سے بھرا بریف کیس بھیجا گیا جسے الطاف حسین صاحب نے ٹھکرادیا ( جس کا اعتراف چند سال قبل ایک ریٹائرڈ جنرل نجی نیوز چینل پر بیٹھ کر کرچکے ہیں ) . اسٹیبلشمنٹ کی آفر ٹھکرانے کے بعد الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف سازشیں تیز ہونے لگیں ملک دشمنی جیسے گھناونے الزامات لگائے جانے لگے ، ایم کیو ایم اور اے پی ایم ایس او کی قیادت پر جھوٹے مقدمات بنائے جانے لگے ، الطاف حسین پر کئی مرتبہ قاتلانہ حملہ بھی ہوا جس میں خوش قسمتی سے وہ بچ گئے ملکی حالات اور ایم کیو ایم مخالف قوتوں کی سازشوں کے جال تیز ہونے کے باعث ایم کیوایم قیادت اور کارکنان کے بےحد اصرار پر الطاف حسین صاحب کو ملک سے جلاوطن ہونا پڑا اور 92 سے الطاف حسین صاحب برطانیہ میں مقیم ہیں ۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے ملک سے باہر جانے کے بعد مقامی رہنماو¿ں پر سختیاں کی جانے لگیں ، جھوٹے الزامات کو جواز بناکر 92 ئ میں ایم کیوایم صفحہ ہستی سے مٹانے کےلیے ریاستی آپریشن کا آغاز کیا گیا جس میں ہزاروں نوجوان کو شہید کردیا گیا ریاست کی جانب سے مہاجروں ہر یہ ظلم ہوتا رہا مگر کوئی انکے ساتھ آواز اٹھانے والا نہ تھا ایم کیوایم کو مہاجروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جانے لگا، جب تشدد سے کچھ نہ ہوسکا تو مقامی ر رہنماوں کو خرید کر مہاجر قوم کو الطاف حسین کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی گئی اور آفاق احمد و دیگر پر مشتمل گروپ کو خفیہ اداروں کی سرپرستی میں مہاجر بستیوں پر ظلم وستم کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ، الطاف حسین سے وفاداری کرنے والوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جانے لگا ، ایم کیو ایم قائد کے بھائی بھتیجے کو بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی تحویل میں تشدد کا نشانہ بناکرماورائے عدالت قتل کردیا گیا ، مہاجروں کو آفاق احمد کے حقیقی گروپ میں شامل ہونے کے لیے دھمکیاں دی جانے لگیں اور شمولیت نہ کرنے پر مختلیف حربے استعمال کیے جانے لگے ، بہت سے لوگوں نے اپنی اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے آفاق احمد حقیقی گروپ میں شامل بھی ہوئے مگر کچھ ایسے بھی تھے جو ریاستی درندگی برداشت کرنے کے باوجود مہاجروں کے حقوق کے حصول کے لیے بننے والی تحریک سے وابستہ رہے اور الطاف حسین کی محبت میں شہید ہوگئے مگر اپنے ضمیر کا سودا نہ کیا اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار بنے۔

ایم کیو ایم قائد نے 25 جولائی 1997 کو مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا مگر ریاست کا رویہ الطاف حسین صاحب کے لیے پھر بھی تبدیل نہ ہوا ، ایم کیوایم اور الطاف حسین کے پیغام کو ملک بھر میں پھیلنے نہ دیا گیا ۔ الطاف حسین کے نظریے فکرو فلسفے پر چلتے ہوئے اے پی ایم ایس او اور ایم کیوایم کے کارکنان تحریک کےمشن و مقصد کو آگے لیکر چلتے رہے ،، ایم کیو ایم کی پوری سیاسی تاریخ میں کبھی اسے آزادانہ ساسی سرگرمیاں کرنے کا موقع نہیں ملا۔ جب 2002 میں جنرل مشرف کے دور میں ایم کیوایم کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا موقع ملا اور پھر 2005 کے بلدیاتی انتیخابات میں ووٹ دے کر عوام نے منتخب کیا اور اسی اعتماد کا پاس رکھتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ماضی کی تمام تلخیوں کو بھلاکر عوام کے فلاح کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا اور پھر الطاف حسین کے ویڑن اور ایک منظم اسٹریکچرکی بدولت 2005 کے بلدیاتی دور میں جو کراچی حیدرآباد نے ترقی کی وہ سب کے سامنے ہے۔ الطاف حسین اور ایم کیوایم نے عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کے لیے دن رات محنت کی اور اپنی انتھک محنت سے شہری سندھ کا نقشہ بدل دیا جسے دنیا نے سراہا۔۔ ایم کیوایم کی چیریٹی ونگ خدمت خلق فاونڈیشن نے الطاف حسین کی تعلیمات اور ہدایت پر بروقت عمل کرتے ہوئےہمیشہ دکھی انسانیت کی خدمت کی ، جسکی واضح مثال 2005 اور 2008 کے زلزلہ متاثرین کی امداد اور پھر اندرون سندھ میں آنے والے سیلاب اور تھر میں قحط سے متاثرہ خاندان کی امداد اور دیگر فلاحی اقدامات ہیں ۔ 11 جون 1978 کو مہاجر طلبہ کے حقوق کے حصول کے لیے بننے والی طلبہ تنظیم آج 2016 میں ملک کے تمام مظلوم قومیت کے طلبہ کی نمائندہ ہے اور ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت ہے ۔

اے پی ایم ایس او اور ایم کیوایم کے کارکنان کو ریاستی تشدد کا نشانا بنایا گیا مگر آج بھی پوری جماعت اتنی ہی منظم ہے جتنی پہلے تھی۔ مہاجروں کے اتحاد کو پارا پارا کرنے کے لیے پہلے بھی سازشیں ہوتی رہیں ہیں اور آج بھی ہورہی ہیں ماضی میں بھی ایم کیوایم میں سے لوگوں نے میر جعفر اور میر صادق جیسے کرداروں کی کہانی دہرائی تھی اور آج 2016 میں بھی کچھ اسی طرح کی کہانی دہرائی جارہی ہے اور ایک بار پھر قوم کی طاقت کو آزمایا جارہا ہے۔ مہاجر قوم نے الطاف حسین پر جیسے 1987 میں بلدیاتی انتیخابات میں اعتماد کی مہر لگائی تھی وہ مہر اور اعتماد آج بھی قائم ہے۔ حال ہی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات 2015 میں نتائج نے واضح کردیا ہے کہ الطاف حسین صاحب صرف ایم کیوایم کے قائد ہی نہیں بلکہ بابائے مہاجر قوم ہیں ۔ الطاف حسین کے پیغام کو دوسرے صوبوں تک پھیلنے سے روکنے کے چکر میں ہمارے اداروں نے ایم کیوایم الطاف حسین کے پیغام کو ناصرف ملک کے چپے چپے میں پھیلادیا ہے بلکہ دنیا کے مختلیف ممالک میں بھی اب الطاف حسین کا نظریہ پھیل چکا ہے کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ حق کو جتنا دبایا جاتا ہے وہ اتنا ہی ابھرکر سامنے آتاہے۔

Advertisements