مزید صوبوں کا قیام ضروری ہے

پاکستان کی چھٹی مردم شماری 2008 میں ہونا تھی مگر پیپلزپارٹی کی حکومت اسے ممکن نہ بناسکی. اس کے بعد وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی 2013ئ میں حکومت بننے کے بعد اعلان کیا گیا کہ مارچ 2016 میں مردم شماری کی جائے گی اور مارچ 2016 بھی گزر گیا مگر اب تک معلوم نہیں کہ کب مردم شماری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے . غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق آئیندہ چند سال میں پاکستان کی آبادی 23 کروڑ سے تجاوز کرجائیگی جس سے ملک میں مزید بےروزگاری اور معاشرتی بگاڑ کا خدشہ ہے جس کے لیے اب پاکستان میں مزید صوبوں کا قیام ناگزیر ہوتا جارہا ہے . پاکستان جب وجود میں آیا تب پاکستان کے 5 صوبے تھے جس کی کل آبادی 3 کروڑ 25لاکھ تھی . پاکستان کے قیام کے 8 سال بعد 1955میں پاکستان کو ون یونٹ میں تبدیل کردیا گیا تھا جسے یکم جولائیء1970 کو جنرل یحیٰی خان کے مارشل لائ کے نتیجے میں ون یونٹ توڑدیا گیا اور پھر اقتدار کی کھینچا تانی کی جنگ کے نتیجے میں سانحہ مشرقی پاکستان 1971رونما ہونے اور پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد 4 صوبے ہی رہ گئے اور جب سے اب تک پاکستان میں وہی چار صوبے ہیں حالانکہ گلگت بلتستان کو انتیظامی یونٹ بنادیا گیا ہے مگر اس کے باوجود اسے وہ حیثیت حاصل نہیں جو دیگر صوبوں کو حاصل ہے .

2june2016.jpg

03-06-16EditorialStoriesEditorialimage.jpg

Roznama Juraat Karachi 2/3 june 2016 

پاکستان کو اس وقت بہت سے مسائل کا سامنا ہے جس میں سب سے بڑا مسلہ صوبوں اور شہروں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ملک میں بسنے والی دیگر قومیتوں کے احساس محرومی کو ختم کرنا ہے . 3 کروڑ کی آبادی پر وجود میں آنے والا ملک جو آج 2016ئ میں 20 کروڑ سے زائد کی آبادی پر مشتمل ہیں آج بھی اسی طرح چلایا جارہا ہے جیسے 50 سال پہلے چلائے جارتھا . پاکستان میں مختلیف قومیتیں آباد ہیں جو دیگر صوبوں میں رہتے ہوئے احساس محرومی کا شکار ہیں . پنجاب پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جسکی کل آبادی 12 کروڑ کے لگ بھک ہے, اور 36 اضلاع پر مشتمل ہے جس پر صرف ایک چیف ایگزیکٹیو وزیراعلی ہے . یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک چیف ایگزیکٹیو باآسانی اتنی بڑی آبادی کے مسائل کو سن سکے یا انہیں حل کرسکے جس کی وجہ سے وہ تمام اضلاع میں توجہ نہیں دے سکتا .
صوبہ پنجاب اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر لاہور ہے۔ وزیراعظم پاکستان , وزیراعلی پنجاب , اور دیگر اہم وفاقی وصوبائیءوزرائ بھی وہی سے منتخب ہوتے ہیں تو سب کی توجہ کے باعث شہر لاہور میں زبردست ترقیاتی کام ہوتے دکھائیءدیتے ہیں جس سے صوبے میں دیگر شہروں میں رہنے والوں میں احساس محرومی پائی ءجاتی ہے اور اسی احساس محرومی کو ختم کرنے کے لیے پنجاب کے 22 اضلاع میں بسنے والے سرائیکی عوام کا کہنا ہے کہ انہیں ایک علیحدہ صوبہ دے دیا جائے تاکہ وہ اپنے مسائل خود حل کرسکیں . شہر لاہور کے باہر پنجاب کے مختلیف اضلاع میں بسنے والے عوام اپنے بنیادی حق سے محروم ہیں جہاں نہ بہتر تعلیم کے لیے اسکولز، یونیورسٹیز ہیں اور نہ ہی کوئی بہتر ہسپتال ہے جس کے باعث انہیں اپنے بچوں کے لیے علیحدہ صوبے کا مطالبہ کرنا پڑرہا ہے جوکہ کوئیءایک غیرآئینی یا پھر غیر قانونی بھی نہیں کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ اتنی بڑی آبادی کو ایک چیف ایگزیکٹیو سے چلایا جائے . یہ صورتحال صرف پنجاب میں ہی نہیں دیگر صوبوں میں ہی یہ مسلہ درپیش ہے پختونخواہ میں ہزاروال بھی تحفظات رکھتے ہیں اسی طرح سندھ میں بھی اردو بولنے والے مہاجر گزشتہ 38 سالوں سے اپنے بنیادی حقوق کے لیے تحریک چلارہے ہیں . سندھ کے شہری علاقوں میں کوٹہ سسٹم ، وسائل کے غیر منصفانہ تقسیم ، ملازمت کے مساوی مواقعے نہ ہونا ، کئی اضلاع میں طلبہ کے لیے یونیورسٹیز کا نہ ہونا ، شہری اضلاع میں صحت و صفائی کے حوالے سے بہتر سہولیات نہ ہونا اور دیگر مسائل کے باعث اردو بولنے والے سندھیوں میں احساس محرومی پائی جاتی ہے جوکہ دن بہ دن ذور پکڑتی جارہی ہے جس کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں مزید صوبے یا انتظامی یونٹس بنائے جائیں تاکہ ملک میں بسنے والی تمام قومیت کا احساس محرومی کو دور کیا جائے۔ چند سال قبل جنرل مشرف کے دور اقتدار میں بااختیار مقامی حکومت کے قیام سے عوام کے مسائل کے حل کے لیے جو تجربہ کیا گیا وہ ایک کامیاب تجربہ تھا جس سے عوامی مسائل کو کم کرنے کے لیے پورے ملک میں بہتر اقدامات دیکھنے کو ملے تھے مگر جنرل مشرف کی حکومت اور 2005 کی مقامی حکومت کے ختم ہونے کے بعد سے کم ہونے والے مسائل میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور مزید بڑھتا جارہا ہے جس کے لیے اب پورے ملک میں نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ 7 سالوں میں ہم نے ایوانوں میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے قرارداد جمع ہوتی دیکھیں جس پر بہت سی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سخت مخالفت کا اظہار بھی کیا گیا اور کچھ سیاسی حلقے نئے صوبوں کے قیام کو ملک دشمنی یا پھر ملک توڑنے کے مترادف قرار دیتے دکھائی دیے اور کچھ اسے را کا ایجنڈا قرار دیکر اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس قرارداد کو پاس نہیں ہونے دیتے ہیں ۔ حالانکہ اگر ہم دنیا کے بیشتر ممالک کی مثال لیں تو دنیا میں پاکستان سے کم آبادی والے ممالک میں بھی پاکستان سے زیادہ صوبے ہیں ،

Cjr4tlIUkAAPQVc

نئے صوبوں کا قیام کیا واقعی ضروری ہے؟

also pulished on Ary News 30 May 2016 

دو سال قبل 2 جون 2014 کو بھارت میں ایک نیا صوبہ بنایا گیا ہے تلنگانہ کے نام سے تو کیا صوبے کے قیام سے بھارت کمزور ہوگیا ، یا پھر بھارت ٹوٹ گیا ؟ یا پھر بھارت میں نئے صوبے کے قیام کے پیچھے کوئی دوسرے ملک کی خفیہ ایجنسی تھی جس نے وہاں کے عوام کے مطالبے پر انکے صوبے کے قیام میں اپنا کردار ادا کیا ؟

دیگر ترقی یافتہ ممالک جو پاکستان سے بھی کم آبادی پر مشتمل ہیں وہاں بھی 20 سے زائد صوبے ہیں جیسے افغانستان 3کروڑ کی آبادی پر 34 صوبے ہیں ،
ملائشیا کی 3 کروڑ کی آبادی پر 24 صوبے ہیں ،
ایران 8کروڑ کی آبادی پر 31 صوبے ہیں ،
ترکی 8 کروڑ کی آبادی پر 81 صوبے ہیں۔۔
دنیا میں سب سے زیادہ صوبے جنوبی امریکہ کے ایک چھوٹے سے ملک پیرو کے ہیں جن کی تعداد 195 ہے اور آبادی ساڑھے تین کروڑ کے اریب قریب ہے۔
سویئزر لینڈ بہت کم آبادی والا یورپی ملک ہے اور وہاں 26 صوبے ہیں , اس کی آبادی کراچی کی آبادی کا ایک تہائی کے برابر ہے.
تو کیا ان ممالک میں صوبوں کے قیام سے انکا ملک مزید مضبوط ہوا یا پھر کمزور ؟ نئے صوبوں کے قیام کو مزید سیاست کی بھینٹ چڑھانے سے بہتر ہے اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے کیونکہ پاکستان وفاقی ریاست ہے وفاق اسی صورت میں مضبوط ہوگا جب عوام کو مساوی حقوق حاصل ہونگے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ملک میں مزید صوبے بناکر شہروں میں آبادی کے بگڑتے عدم توازن کو ٹھیک کیا جائے ورنہ حقوق سے محروم قومیتوں کے احساس محرومی کو احساس بیگانگی میں تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

Advertisements