سانحہ 26 اور 27 مئی پکا قلعہ حیدرآباد

آج سے 26 سال قبل شہر حیدرآباد پکا قلعہ کے مکینوں پر جو ظلم ڈھایا گیا وہ قابل مذمت ہے۔ اس تاریخی شہر کے تاریخی قلعہ کے مکینوں پر 26 اور 27 مئی کی درمیانی شب پولیس کی وردی میں ملبوس اہلکاروں نے وہ ظلم کی داستان رقم کی جس کی چیخیں آج بھی پکا قلعہ حیدرآباد میں سنی جاسکتی ہیں ۔ 26 اور 27 مئی 1990کی درمیانی شب پکا قلعہ کے رہاشی اپنے گھروں میں سورہے تھے کہ پولیس کی تقریباً 100گاڑیوں نے قلعے کو چاروں اطراف سے گھیر لیا ۔ جرائم پیشہ عناصر کی آڑ میں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا ، شہریوں کے گھروں میں گھس کر لوٹ مار کی گئی ، قلعہ کے مکینوں کو پانی فراہم کرنے والی ٹنکی میں شراب ڈال دی گئی ، بجلی ، گیس ، پانی کی فراہمی معطل کردی گئی ، ٹیلی فون کی تاریں کاٹ دی گئی پکا قلعہ کے رہاشیوں کا دیگر علاقوں سے رابطہ بالکل منقطع کردیا گیا ، پورے شہر میں کرفیو کا سمائ تھا ۔ درندہ صفتوں نے وہ دہشت گردی کا مظاہرہ کیا جس میں نہ بچے کا لحاظ کیا گیا ، نہ بزرگ کا ، نہ خواتین کا۔۔درندہ صفت اہلکاروں نے گھروں میں داخل ہوکر نہ صرف خّواتین کی بےحرمتی کی گئی بلکہ بہت سی خواتین کو انکے اہل خانہ کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ، بہت سے بچوں کو انکے ماں باپ کے سامنے شہید کردیا گیا کئی گھنٹوں تک یہ ظلم ہوتا رہا مگر کوئی مدد کو نہ پہنچا ، بچے بزرگ سسک سسک کر مرگئے مگر انہیں پانی بھی میسر نہ آسکا۔

Blog also published on ARY News

سانحہ پکا قلعہ کے متاثرین کی داد رسی کون کرے گا

CjYCO8bVEAAwtsW.jpg

http://www.juraat.com/editorial.php

Roznama Juraat 26 May 2016 –

Daily Juraat26 May Pacca Qila Massacre

پورے شہر میں کرفیو کا سمائ تھا نہ کوئی قلعہ سے باہر آسکتا تھا اور نہ کوئی دوسرے علاقے سے قلعہ میں داخل ہوسکتا تھا۔ قلعہ کے لوگوں نے بہت کوشش کی کہ وہ دوسرے شہروں اور علاقے میں رہنے والے لوگوں کو اس ظلم و ستم سے آگاہ کردیں مگر انکے پاس معلومات اور حالات کا تبادلہ کرنے کے لیے کوئی سہولت نہیں تھی جس کے باعث شہری بہت لاچار محسوس کررہے تھے ،شیر خوار بچے دودھ سے محروم تھے ، گھروں میں فاقہ کشی ہوگئی ، بجلی کی عدم فراہمی اور پانی کی قلت سے پکا قلعہ میں محصور آبادی کی زندگی اجیرن ہوگئی ۔ پکا قلعہ کے مکینوں کی دادرسی کرنے والا کوئی نہ تھا جب کوئی راستہ نہ بچا تو خواتین پاکستان کا پرچم اور قرآن پاک سر پر اٹھائے باہر نکلی شائد قرآن کا تقدس کی وجہ سے انکی جان بچ جائے مگر ایسا بھی نہ ہوسکا ، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتی معصوم بزرگ خواتین قرآن پاک اٹھاکر اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کی بھیک مانگتی رہیں مگر درندہ صفتوں کو رحم نہ آیا ، قرآن پاک سر پر اٹھانے والی نہتی خواتین پر بھی مشین گنز سے حملہ کردیا گیا اور یوں پکا قلعہ کے ہنستے کھیلتے گھر اجاڑ دیے گئے۔ شہر میں کرفیو نافذ تھا نہ کوئی قلعے میں داخل ہوسکتا تھا اور نہ باہر جاسکتا تھا ، جب قلعے کے باہر دیگر علاقوں میں اس بربریت کی خبر گئی تو دوسرے علاقوں کی خواتین نے اس درندگی پر احتجاج کیا تو ان خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنا یا گیا ۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے پکا قلعہ کے شہیدوں کو وہیں سپرد خاک کردیا گیا جن کی قبریں آج بھی پکا قلعہ میں موجود ہیں ۔

اگلے روز 28 مئی 1990کو روزنامہ جنگ نے سانحہ پکاقلعہ حیدرآباد میں ہونے والی درندگی کو کچھ اس طرح شائع کیا ” حیدرآباد میں پولیس آپریشن 57 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ۔ خواتین نے فائرنگ بند کروانے کے لیے قرآن پاک کا واسطہ دیا جس پر پولیس نے خواتین کو بھی رائفلز کی بٹوں سے لہو لہان کردیا ” ۔
سانحہ 26 27 مئی 1990ئ، پکا قلعہ میں متاثر ہونے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم جب بھی کہیں طالبان دہشتگردوں کی کاروائی کا سنتے ہیں تو ہمارے زخم تازہ ہوجاتے ہیں اور سانحہ پکا قلعہ کا منظر آنکھوں میں گھومنے لگتا ہے کہ کس طرح چند گھنٹوں میں حکومتی سرپرستی میں ہمارے گھروں کی خوشیوں کو آگ لگادی گئی تھی ، ریاست سانحہ 26 27 مئی 1990ئ میں شہید ہونے والے ہمارے بچوں ، بھائی ،بیٹے بیٹیوں ، اور ماں باپ کو واپس تو نہیں لاسکتی مگر ان درندہ صفت دہشت گردوں کی بربریت پر کوئی اعلی سطح کی تحقیقات کرواکر ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچاکر ہمارے زخموں پر مرہم تو رکھ سکتی ہے۔
شہر حیدرآباد میں 26 سال پہلے درندگی سے متاثرہونے والے خاندان آج بھی اپنے پیاروں کو یاد کرکے آنسو بہاتے ہیں فاتحہ خوانی کرتے ہیں انکے پیاروں کو بچھڑے سالوں گزر گئے مگر آج تک نہ انکی کسی نے دادرسی کی اور نہ ہی انکے زخموں پر مرہم رکھا مگر آج بھی متاثرہ آفراد انصاف کے منتظر ہیں۔ میں یہاں ارباب اختیار سے حیدرآباد کا شہری ہونے کی حیثیت سے یہ پوچھنا چاہو گا کہ کیا سانحہ پکا قلعہ میں شہید ہونے والے پاکستانی نہیں تھے ؟ کیا وہ انسان نہیں تھے ؟ کیا اس پر کوئی تحقیقاتی کمیشن نہیں بننا چاہیے تھا ؟ کیا چیف آف آرمی اسٹاف ، وزیراعظم پاکستان ، وزیراعلی سندھ ، چیف جسٹس آف پاکستان اور دیگر حکام اس سانحہ میں متاثر ہونے والے خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرینگے ؟

http://www.juraat.com/editorial.php

Roznama Juraat 26 May 2016 –

Daily Juraat26 May Pacca Qila Massacre.jpg

Advertisements