پھر وہی ہوگا جو آپ چاہتے ہیں

شہر کراچی میں گزشتہ چند روز قبل ریاستی ادارے کی حراست کے دوران ایک بزرگ ماں کا سہارا زندگی کی بازی ہار گیا . یکم مئی 2016 کو عزیزآباد سے متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے کورڈینیٹر آفتاب احمد کو رینجرز اہلکاروں نے گھر سے گرفتار کیا اور اگلے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جس میں عدالت نے آفتاب احمد کو تفتیش کے لیے پی پی او کے قانون کے تحت 90 روز کے لیے رینجرز کی تحویل میں دینے کے حکم جاری کردیے۔ یکم مئیءکو گرفتار اور 2 مئیءکو 90 روزہ رینجرز تحویل میں جانے والے آفتاب احمد کے حوالے سے 3مئی کو صبح 8 بجے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار صاحب کو رینجرز افسران کی جانب سے کال موصول ہوئی کہ آفتاب احمد ہارٹ آٹیک کی وجہ سے انتیقال کرگئے ہیں جناح ہسپتال سے میت لے جائیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار اپنی سیاسی سرگرمیوں کی باعث اسلام آباد میں تھے انھوں نے صبر کرتے ہوئے ایم کیوایم کے دیگر رہنماو¿ں سے کہا کہ وہ جناح ہسپتال جاکر دیکھیں سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان اور ممبر سندھ اسمبلی اظہار الحسن صاحب وہاں پہنچے تو رینجرز کے دعویٰ کی قلعی کھل گئی آفتاب احمد کے جسم پر جو زخم کے نشانات تھے اس سے آفتاب احمد پر ہونے والے ظلم کی داستان عیاں تھی اور لعش دیکھنے کے بعد صاف ظاہر تھاکہ یہ طبعی موت نہیں قتل تھا ۔ ایم کیو ایم اسی روز اپنے لاپتہ کارکنان کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے جارہی تھی مگر آفتاب احمد کی شہادت نے انکے غم و غہصے کو مزید بڑھادیا ، ایم کیوایم نے صبر کرتے ہوئے احتجاج کے طور پر نمائش چورنگی پر دھرنا دیا اور وہیں آفتاب احمد کی نماز جنازہ ادا کی گئی آہوں اور سیسکیوں میں شہید آفتاب احمد کو سپرد خاک کردیا گیا۔

imagesSGG

images (20)

آفتاب احمد پر ہونے والے تشدد کی تصاویر سوشل میڈیا پر آپ لوڈ ہی ہوئی تھیں کہ وہ تصاویر اس طرح پھیلی کہ میڈیا کو تمام تر ریاستی دباو کے باوجود آواز اٹھانا پڑی۔ سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے افراد نے بروقت سوشل میڈیا کا استعمال کرکے آفتاب پر ہونے والے ظلم کی تصاویر قومی و بین الاقوامی سطح پر اسطرح پھیلائی کہ ہر ذی شعور انسان کو اس وحیشیانہ تشدد کی مذمت کرنا پڑی ، ہر فرد اس تشدد پر افسوس اور مذمت کا اظہار کررہا تھا اگر کوئی خاموش تھا تو وہ جمہوریت “پاکستان کی جمہوری جماعتیں ” عدلیہ اور دیگر ادارے خاموش تماشائی بنے رہے ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی آفتاب احمد کی ماورائے عدالت قتل پر بھرپور مذمت کی اور تشویش کا اظہار کیا ، بین الاقوامی سطح پر آفتاب احمد کے ماورائے عدالت قتل پر تشویش کا اظہار آنے کے بعد پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے وقت ضائع کیے بغیر آفتاب احمد کے قتل کی انکوائری کا حکم دیا اور کہا کہ انصاف ہوگا۔ ابھی چیف آف آرمی اسٹاف کا بیان آیا ہی تھا کہ جمہوری چیمپئنز کی جانب سے بھی لفاظی مذمتیں آنا شروع ہوگئیں اور ماورائے عداقتل کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر اٹھنے کے باعث آفتاب احمد کے قتل کو ہارٹ آٹیک کہنے والے صاحب کو یہ قبول کرنا پڑا کہ آفتاب احمد پر رینجرز کی جانب سے تشددکیا گیا تھا اور ممکنہ ملوث اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے آواز اٹھانے کے باعث ہم نے پاکستان میں پہلی مرتبہ چیف آف آرمی اسٹاف ، سیاسی جماعتوں ، کالم نگاروں اور میڈیا کو انسانیت سوز عمل کی مذمت کرتے دیکھا مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس وحیشیانہ تشدد کی مذمت ہی کافی ہے ؟

گزشتہ 15 ماہ کے دوران 11 افراد کو پولیس اور رینجرز کی تحویل میں ہلاک کردیا گیا اس کے اعلاوہ گزشتہ 2 ڈھائی سال کے دوران یہ ایم کیو ایم کا 59 واں کارکن تھا آفتاب احمد جو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ہے 171 کارکنان آج بھی لاپتہ ہیں . ، یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ جب جب ایم کیو ایم نے اپنے لاپتہ کارکنان کی بازیابی ، اپنے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل اور کارکنان کی بلاجواز گرفتاریوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے تب تب متحدہ قومی موومنٹ کا یا تو میڈیا ٹرائل شروع کردیا جاتا ہے یا پھر لاپتہ کارکنان میں سے کسی کارکن کی لعش پھینک دی جاتی ہے۔آخر یہ ماجرا کیا ہے ؟ ریاستی ادارے ایم کیو ایم سے چاہتے کیا ہیں ؟
گزشتہ 3 سالوں میں آفتاب احمد جیسے نہ جانے کتنے آفتاب اس طرح کے بیہمانہ تشدد کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور انکے لواحقین آج تک انصاف کے منتظر ہیں جنہیں قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکار انکے بچوں ، بوڑھے بزرگ ماں باپ کے سامنے اٹھاکر لے گئے مگر وہ زندہ نہ لو ٹ سکے ، اسی طرح گزشتہ برس  2015  میں رینجرز کی تحویل ایک مزہبی جماعت کے رہنما طارق محبوب صاحب کو بھی ماوراے عدالت کیا جاچکا ہے انہیں بھی انکے گھر سے گرفتار کیا گیا عدالت میں پیش کیا اور انہیں بھی عدالت نے 90 روز کے لیے رینجرز کی تحویل میں دیا تھا اور پھر انکی لعش بھی ہسپتال پہنچادی گئی تھی جوکہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی تھی کتنے ہی مہینے گزر گئے مگر کہیں زکر تک نہیں . . جنرل راحیل شریف صاحب ملوث اہلکاروں کے ساتھ ساتھ تحقیقات تو ان ججز کی بھی ہونی چاہیے جو ملزم کو 90 روز کےلیے رینجرز کی تحویل میں تو دیتے ہیں مگر پوچھتے نہیں کہ فلاں ملزم آپ کی تحویل میں دیا تھا دوبارہ پیش کیوں نہیں ہوا ¿ ملزمان کو 90 روز کے وحیشیانہ تشدد کے لیے رینجرز تحویل میں دینے والے ججز کو بھی تحقیقت میں شامل کرنا چاہیے جن کی وجہ سے ماوراے عدالت قتل جیسے جرائم قانون کی چھتری میں رونما ہوتے ہیں ماضی میں تو کسی آفتاب کو انصاف نہ ملا دیکھتے ہیں ا ب راحیل شریف صاحب انصاف کرتے ہیں یا نہیں ۔۔

کیا آفتاب کے قتل میں ملوث اہلکاروں کو قرار واقعی سزا ملے گی یا پھر ماضی کی طرح صرف بیانات کی حد تک ہی باتیں ہونگی ؟ شہر کراچی اور اندرون سندھ کی عوام کا کہنا ہے کہ ملوث رینجرز اہلکاروں کو عبرتناک سزا دے کر مثال قائم کی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسا کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے۔۔ یہ تو عوام کے تاثرات ہیں جسے بڑے لوگ سننے کو تیار نہیں ۔۔ انکوائری کا حکم دینے والے اگر حقیقت میں ایکشن کرنا چاہتے تو فوراً ہوسکتا تھا کیونکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق آفتاب احمد پر اتنا تشدد کیا گیا تھا کہ مرنے کے کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی جسم پر نیل کے نشانات تھے۔
آفتاب ریاستی تشدد کی وجہ سے دم توڑ گیا تمام طبقات کے افراد نے اس کی بھرپور مذمت کی مگر بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب آفتاب کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج ہی نہیں تھی تو اس کے باوجود اتنا تشدد کیوں کیا گیا ؟ کسی انسان کے جسم پر کیلے ٹھوکنا کھلی بربریت نہیں ؟ کیا ماورائے عدالت قتل ماورائے آئین نہیں ؟ کیا پاکستان کا آئین و قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ تفتیش کی آڑ میں کسی کو بھی اٹھا کر تشدد کیا جائے اور من پسند بیان دلوایا جائے ؟ سوال تو یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ ہمارے اداروں نے گزشتہ چند ہفتے قبل بھارتی ایجنٹ گرفتار کیا تھا آخر اسے کیا گھٹی پلائی تھی جو ایک تربیت یافتہ ایجینٹ نے بنا کسی دباو یا تشدد کے سب کچھ کہہ ڈالا ؟ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ آفتاب احمد بھی کل بھوشن یادیو کی طرح اداروں کی مرضی کے مطابق بیان دینے کے لیے راضی ہوجاتے تو آج آفتاب احمد اپنے گھروالوں کے ساتھ ہوتے۔ اگر اسی طرح کا رویہ رہا تو وہ دن دور نہیں جب شہر کراچی اور بلوچستان کا ہر شہری وہی کہہ رہا ہوگا جو ہمارے ادارے سننا چاہتے ہیں کیونکہ جان ہے تو جہان ہے۔

Advertisements