سمندر پار برطانیہ کے شہر لندن میں 6 مئی  2016 کو  مئیر کے انتیخاب کے لیے ووٹنگ ہوئی جس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ کے بھائی زیک گولڈ اسمتھ اور دوسری طرف  پاکستانی نژاد صادق خان مدمقابل تھے ۔ دنیا کے سب سے بڑے شہر میں مِئیر کا انتیخاب ہونے جارہا تھا  جس کے باعث سب کی نگاہیں لندن پر ٹکی تھیں کہ شہر لندن کا مئیر کون ہوگا !! یوں تو انتیخاب سے قبل   ہی  مبصرین اندازہ لگا رہے تھے کہ صادق خان ہی لندن کے مئیر ہونگے اور ان ہی تجزیوں اور اندازوں کو عوام نے اپنے ووٹ سے حقیقت میں تبدیل کردیا اور بھاری مینڈیٹ سے صادق خان کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا جب صادق خان کی کامیابی کا اعلان کیا گیا جوکہ دراصل اشرافیہ کی شکست تھی ۔ صادق خان ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں ، صادق خان صاحب  اور انکے اجداد  نے بھی شہری سندھ کے دیگر اردو بولنے والے مہاجروں کی طرح ہندوستان سے پاکستان  ہجرت کی تھی اور شہر کراچی  میں کافی عرصہ مقیم  رہے  ۔

مئیر الیکشن میں  جیسے ہی لندن میں صادق خان کی کامیابی کا اعلان ہوا تو دنیا بھر سے انکے لیے نیک خواہشات اور مبارکباد کے پیغامات ریکارڈ ہونا شروع ہوگئے  ، دنیا کے ہر کونے سے مبارکباد کی پوسٹس دیکھنے میں آرہی تھی پاکستان بھی فخر محسوس کررہا تھا کہ کبھی ہمارے ملک میں رہنے والا شہری آج لندن کے تمام معمولات سنبھالے گا ، پاکستان کی خوشی دیدنی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ ۔ ۔

IMG_20160507_230539.JPG

images (17)

صادق خان صاحب اور لندن کی عوام کو بہت بہت مبارک ہو مگر   ایسی بھی کیا خوشی بھائی یہ اچھی بات ہے کہ ایک پاکستانی نژاد کو اتنا بڑا اعزاز ملا مگر بات  تو  یہاں اپنے ملک میں جھانکنے کی ہے   ہمارے ملک میں بھی تو لوکل گورنمنٹ کے انتیخابات ہوئے تھے ؟ شہر کراچی میں بھی تو بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں چند ماہ پہلے ، برطانیہ میں تو بلدیاتی انتخابات کے فوری بعد ہی مئیر کا  الیکشن بھی ہوگیا اور تو اور اگلے ہی دن لندن کے مئیر نے حلف بھی لے لیا اور یہاں انتخابات کو چھ ماہ اور مئیر کو نامزد ہوئے بھی کئی ماہ گزر گئے  مگر اب تک نہیں پتہ کہ دنیا کے ساتویں بڑے شہر میں مِئیر کے الیکشن کب ہونگے اور وہ کب عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پالیسی متعارف کروائے گا۔  شاید  یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کو بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ بننا پڑتا ہے کیونکہ  تاریخی واقعات یہاں ہوتے ہی نہیں  ، دنیا میں غیر مسلم ایک مسلمان کو  حکمرانی کا موقع دے رہے ہیں اور یہاں پاکستان میں آج بھی ریاست کی جانب سے  زبان کی بنیاد پر تعصب کا نشانہ بنادیا جاتا ہے ۔ ریاست برطانیہ نے عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جھٹ پٹ ہی مئیر کو مسائل حل کرنے کی زمہ داری سونپ دی مگر  یہاں شہری الیکشن کے کئی ماہ گزرجانے کے بعد بھی  منتظر ہیں کہ کب ہماری ریاست مئیر کے الیکشن کروا کر شہر کے معمولات مئیر  کے سپرد کرینگے۔ 

Advertisements