کوئی شرم ہوتی ہے حیائ ہوتی ہے

پاکستان تحریک انصاف کے قیام کو 20 برس گزر گئے اس کے باوجود ایک منظم جماعت نہ بن سکی جو کہ نہ صرف چیئرمین عمران خان صاحب بلکہ پوری جماعت کی ناکامی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا کہیں بھی کوئی جلسہ ہو یا دھرنا وہ انکے کارکنان کے لیے اس وقت تک نامکمل ہے جب تک اس جلسے یا دھرنے میں خواتین سے بدتمیزی نہ کی جائے ۔ اب تک تحریک انصاف کے جتنے بھی جلسے ہوئے اس میں خواتین سے ریکارڈ بدتمیزی دیکھنے میں آئی ہے جس سے نیوز چینلز کی مشہور اینکر پرسنز اور دیگر رپورٹرز بھی محفوظ نہ رہ سکیں انہیں بھی متعدد مرتبہ تحریک انصاف کے کارکنان کی بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تبدیلی کے دعویداروں نے ہر جلسے میں خواتین سے بدتمیزی کا ریکارڈقائم کرنے کا عزم کررکھا ہے۔

پی ٹی آئی کے یکم مئی 2016 کو ہونے والے جلسے کی ایک وڈیو کلپ چند روز قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سامنے آئی جس میں دیکھاگیا کہ کس طرح پی ٹی آئی کے ورکرز نے خاتون ورکرز سے بدتمیزی کی ، خواتین کو راستہ دینے کے بجائے انہیں ایک دوسرے پر دھکے دیے اور اس دھکم پیہل میں خاتون ورکرز چیختی رہیں ایسے میں پولیس افسران نے بیچ میں آکر رش میں پھنسی خواتین کو محفوظ طور پر نکالا۔. پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے خواتین کی بے حرمتی کوئی نئی بات نہیں کیونکہ یہ اس جماعت کی روایت بنتی جارہی ہے۔ ہر جلسے میں خواتین سے بدتمیزی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں مگر کبھی ہم نے نہیں دیکھا کے پارٹی کی سطح پر کوئی ایکشن ہوا ہو۔۔

https://twitter.com/PakPressWatch/status/727293656735035393

https://twitter.com/PakPressWatch/status/727292410129186816 

ChYwCVpVEAEZgvz.jpg

اگر ہم دیگر جماعتوں کی بات کریں تو ہمیں کبھی کسی سیاسی جماعت کے جلسوں میں اس طرح کی طوفان بدتمیزی دیکھنے کونہیں ملے گی حالانکہ تمام سیاسی جماعتوں کے  جلسوں میں خواتین کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے چاہے وہ پاکستان مسلم لیگ نواز , پیپلزپارٹی , متحدہ قومی موومینٹ ہو یا اے این پی کا کوئی اجتماع ہو مگر خواتین کی ایسی بے حرمتی کہیں ریکارڈ نہیں ہوئی جیسا پی ٹی آئی کے جلسوں میں ہورہا ہے ۔

متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کی  واحد منظم  جماعت ہے  ۔جس کے نہ صرف تنظیمی اجلاسوں  میں نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا جاتا ہے بلکہ جلسوں میں بھی مثالی نظم ضبط دیکھنے میں آتا ہے جسکی بہترین مثال چار سال قبل فروری 2012 میں ہونے والا خواتین کا جلسہ عام  ہے جس میں لاکھوں خواتین نے شرکت کی تھی اور ایک  بھی بدنظمی کا واقع پیش نہ آیا جو کہ پارٹی ﮈسپلن کا مظاہرہ اور قائد ایم کیو ایم کی تربیت کا نتیجہ تھا. پارٹی ﮈسپلن کی ایک اور مثال دیکھنی ہو تو پاکستان عوامی تحریک کے دھرنوں اور جلسوں کو ہی دیکھ لیجیے وہاں بھی بڑی تعداد میں خواتین شرکت کرتی ہیں وہاں کیوں ایسے واقعات پیش نہیں آتے ؟  تحریک انصاف کے جلسوں میں تواتر کے ساتھ ہونے والے  خواتین کی تذلیل کے واقعات ایک افسوسناک عمل ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔دنیا بھر میں خواتین کےاحترام پر ذور دیا جاتا ہے ، اسلام میں بھی خواتین کی عزت و احترام کا حکم دیا گیا ہے .

اسلام میں جس طرح سے عورت / خواتین کے مقام کو انسانی معاشرے میں بلند کیا ہے اسکی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اسلام کے نزدیک سب سےزیادہ بہتر معاشرہ وہ ہے جس میں خواتین /عورت کو سب سے زیادہ عزت و احترام کا مقام حاصل ہو۔
آپ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے مردوں کو ہمیشہ خواتین کی حیثیت بہتر کرنے کی بار بار تاکید فرمائی کہ خواتین سے بہتر سلوک کریں ۔ ہمیں آپ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے فرمان کو عملی زندگی میں اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں خواتین کو وہ عزت و احترام مل سکے جسکی وہ مستحق ہیں۔

تحریک انصاف کے جلسے کی وائرل ہونے والی متنازع ویڈیو کلپ وہ والدین جو اپنی بچیوں کو پی ٹی آئی کے جلسے میں جانے کی اجازت دیتے ہیں وہ وڈیو کلپ دیکھیں اور سوچیں اس میں تحریک انصاف کے کارکنان کی بدتمیزی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی جگہ آپ کی بچی ہو تو ؟ کیا آپ ایسی جگہ پر جانے کی اجازت دینگے جہاں آپکی بیٹی کو رش میں گھیر کر حراساں کیا جائے؟آپ خود فیصلہ کیجیے ،
جو جماعت اپنی خاتون ورکرز کا احترام نہ کرتی ہو , کیا وہ جماعت عام خواتین کو معاشرے میں عزت و احترام دلواسکتی ہے ؟
پاکستان کے ہر سیاسی کارکن کو چاہیے کہ وہ خواتین ورکرز کا احترام کرے خواہ وہ کسی بھی جماعت سے کیوں نہ ہو۔ لہٰذا یہاں والدین کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بڑوں سے ادب اور خواتین کی عزت و احترام کرنا سیکھائیں کیونکہ کسی بھی انسان کی پہلی تربیت گاہ اسکا گھر ہوتا ہے پھر اسکول ، کالج اور پھر اس کی صحبت . انسان کا ہر عمل و کردار اسکی تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔

Advertisements