میر صادق اور مصطفی کمال

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جو دھڑے بندی کا شکار نہ ہوئی ہو ۔ دھڑے بندی ، گروپنگ اور سازشی عناصر کچھ وقت کے لیے عوام کی توجہ تو حاصل کرلیتے ہیں مگر بہت جلد ہی انکی حقیقت عوام کے سامنے آجاتی ہے ، ماضی میں پاکستان مسلم لیگ ایک ہی جماعت تھی مگر اب نہ جانے کتنی ہی مسلم لیگ بن چکی ہیں ، اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی کو ہی دیکھ لیجیے 1980 تک تو ایک ہی پارٹی تھی مگر اب ایک پارٹی سے نہ جانے کتنے گروپ میں بٹ چکی ہیں۔ جس طرح ماضی میں بننے والے دھڑے عوام کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے اسی طرح مصطفی کمال کی سرزمین پارٹی بھی دیگر گروپوں کی طرح کچھ وقت کے بعد میڈیا کی ملنے والی کوریج سے بھی محروم ہوجائے گی مگر انکی جانب سے جو زبان انکے سابق قائد کے لیے استعمال کی جارہی ہے وہ انہیں ہی نہیں انکی آنے والی نسلوں کے مستقبل پر بھی خوب اثر انداز ہوسکتی ہے کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ وہ آج جس شخصیت کے لیے زہر اگل رہے ہیں اگر وہ نہ ہوتا تو سٹی ناظم تو دور کی بات مصطفی کمال کبھی کونسلر تک منتخب نہیں ہوسکتے تھے۔

سلطان ٹیپو کو جس نے دھوکہ دیا وہ میر صادق تھا ، اس نے سلطان سے دغا کیا اور انگریز سے وفا کی ، انگریز نے انعام کے طور پر اسکی کءپشتوں کو نوازا ،انہیں ماہانہ وظیفہ ملا کرتا تھا ۔۔ اور جب میر صادق کی اگلی نسلوں میں سے کوئی نہ کوئی ہر ماہ وظیفہ وصول کرنےآتا تھا تو چپڑاسی صدا لگایا کرتا۔۔ ” میر صادق غدار کے ورثا حاضر ہوں ” . .
ایک آنسو انکی آنکھوں سے ٹپکا اور تکیے میں جذب ہوگیا۔۔ ” بیٹے میری بات یاد رکھنا جیسے شہید قبر میں جاکر بھی سینکڑوں سال زندہ رہتا ہے اسی طرح غدار کی غداری بھی صدیوں یاد رکھی جاتی ہے ، دن کے اختیتام پر فرق صرف اتنا پڑتا ہے کہ انسان تاریخ میں صحیح طرف تھا یا غلط۔
نمرہ احمد کے ناول جنت کے پتے سے اقتباس ..

معاشرے میں انسان کے سامنے دو طرح کی راہیں ہوتی ہیں حق پرستی اور مصلحت پرستی۔ راہ حق میں مصائب ، دکھ ، تکلیفیں ، معمول کا حصہ ہوتی ہیں اور مصلحت پرستی میں انسان وقتی فائدے آرام ، آسائش ، سکھ اور خوشیاں حاصل کرلیتا ہے،مگر وقتی فائدے بےایمانی ، اور بے ضمیری کے راستے سے ملنے والی ہر آسائش باعث زلت و عار ہوتے ہیں اور قیامت تک کے لیے نفرت و حقارت میر صادق جیسے کرداروں کا مقدر بن جاتی ہے۔

Advertisements