محرم کی 7 تاریخ کو کربلا والوں پر پانی بند کردیا گیا ,روایت ہے کہ جب یزیدی فوج کے اس حکم پر کہ حسینیوں کو ایک قطرہ پانی نہ ملنے پاۓ تو امام زمانہ نواسئہ رسول ؐ  نے یزیدی لشکر کے کمانڈر عمروابن سعد کو طلب کرکے تمام حجت کی خاطر تلقین کی کہ بےگناہوں کا خون بہانے سے وہ بازرہے اور یزیدی فوج اور حسینی قافلہ  دونوں کو یہیں کربلا چھوڑ کر صرف ان کو تنہا یزید کے پاس لے کر چلے تو یقین ہے کہ یزید توبہ کرلےگا اور بےجا ضد ترک کردےگا مگر عمرو نے کہا کہ مجھے صرف یہ حکم ملا ہے کہ میں قافلہ حسینی اور  فرات کے درمیان مسلح فوجوں کو اس طرح حائل کردوں کہ ایک قطرہ پانی بھی حسین والوں کو نہ مل سکے اس کے سوا میرا اور کوئی کام نہیں اگر میں آپ کو لے کر دربار یزید گیا تو آمروقت یزید میرا گھر کھدوا کر تباہ کردے گا ۔ اس پر امام حسین ؓ  نے کہا کہ میں تمہیں اس کے بدلے نیا اور بڑا گھر بنوادوں گا عمرو نے کہا یا حسین وہ میری سب زمین جائیداد بحق سرکارطضبط کرلےگا تب امام زماں ؓ  نے کہا کہ میں اس سے زیادہ زمین جائیداد تم کو اپنی مجاز کی جائیداد سے دے دوں گا اس پر عمروبن سعد نے کہا کہ حضور !مصلحت کو سمجھیں یزید کے نام پر بعیت کرکے اس آفت کو ابھی تو ٹالیں جو موت بن کر آپ کے اور آپ کے اہل بیت کے سروں پرمنڈلا رہی ہے تب حسین ؓ  عالی مقام نے اسے کہا کہ حق کی راہ میں غیر اللہ کے سامنے سرکٹ تو سکتا ہے جھک نہیں سکتا اس کا لب لباب یہی ہے کہ حق پرستی اور مصلحت پرستی دو الگ الگ راہیں ہیں کیونکہ حق حق ہے اور مصلحت باطل پرستی ہے ۔ 

Advertisements