شائقین کرکٹ کے لیے لولی پاپ ، سرفراز ٹی 20 کپتان مقرر

بھارت میں ہونے والے چھٹے آی سی سی ورلڈٹی 20 کا فائنل ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے درمیان 3اپریل کو دہلی میں کھیلا گیا جس میں ویسٹ انڈیز نے شاندار پرفارمنس دے کر انگلینڈ کو شکست دی اور دوسری مرتبہ ورلڈ ٹی 20 چیمپئن بن گیا۔
پاکستان کی اگر ہم بات کریں تو پہلے انگلینڈ کے خلاف ٹی 20 میچز میں شکست ، نیوزی لینڈ سے شکست اور پھر ایشیا کپ ٹی 20 میں بدترین شکست کا منہ دیکھنے کے باوجود ہماری ٹیم نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور نہ ہی اپنی غلطیوں پر قابو پایا اور مسلسل شکست کا سلسلہ بھارت میں ہونے والے ورلڈ ٹی 20 میں بھی جاری رہا اور پہلے ہی راونڈ میں ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا ، پاکستان ٹیم نے 4 میچز کھیلے جس میں صرف بنگلہ دیش کو شکست دینے میں کامیاب ہوا اسکے بعد بھارت نیوزی لینڈ اور پھر اسڑیلیا سے لگاتار شکست دیکھنا پڑی اور پھر ٹیم پاکستان واپسی کا پروانہ لے کر بھارت سے روانہ ہوگئی۔ اگر میچز کی اعداد شمار کی طرف نگاہ ڈالی جائے تو پاکستان ٹیم نے گزشتہ 1 سال کے دوران 18 میچز کھیلے ہیں جس میں سے پاکستان صرف 3 میچز جیتا ہے اور باقی 15 میچز ہارا ہے ۔ گزشتہ ٹی 20 میچز میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بات کی جائے تو کوئی کھلاڑی ایسا نہیں جس نے ایک سال کے دوران تسلسل کے ساتھ اچھی کرکٹ کا مظاہرہ کیا ہو۔ مسلسل 2سریز میں شکست اور پھر دو بڑے ایونٹ ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی 20 کپ میں بدترین کارکردگی کے بعد صاف ظاہر ہے کہ شاہد خان آفریدی ایک ناکام کپتان ثابت ہوئے جنہیں قوم اور کرکٹ بورڈ نے آخری حد تک موقع دیا مگر وہ اپنے آپ کو بطور کپتان منوانہ سکے ، یہاں بدترین شکستوں کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ وزیراعظم پاکستان ہنگامی بنیادوں پر کرکٹ کے معاملات پر توجہ دیتے چیئرمین بورڈ ، ٹیم مینجمنٹ سلیکشن کمیٹی اور کپتان کو فارغ کرکے ایڈہاک کمیٹی تشکیل دیتے اور تینوں فارمیٹ کی طرز کی کرکٹ کو بہتر کرنے کے لیے 3 سالہ پالیسی بنائی جاتی اور تمام فارمیٹس میں ردوبدل کی جاتی مگر ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آیا ، بورڈ نے مسلسل شکستوں پر عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے کوچ اور ٹیم مینجر سے شکست کی وجوہات پر رپورٹ طلب کی ، ٹیم مینجر اور کوچ نے لمبی چوڑی رپورٹ بورڈ کے سامنے پیش کردی جسکے لیک ہونے پر پتہ چلا کہ تمام ملبہ صرف کپتان پر ڈال دیا گیا اور ٹیم انتظامیہ نے بھی تمام زمہ داری لینے کے بجائے کھلاڑیوں اور کپتان پر عائد کردی جو کہ کسی مزاق سے کم نہیں کیونکہ شکست پر جتنی زمہ داری کپتان اور کھلاڑیوں کی تھی اس سے کہیں زیادہ زمہ داری انتیظامیہ پر تھی۔

570375cf6338f

ٹیم مینیجر اور کوچ کی رپورٹ کے بعد آفریدی نے بھی کپتانی کو الوداع کہہ دیا بورڈ نے کوچ اور مینجر کی چھٹی کرکے سلیکشن کمیٹی تحلیل کردی اور عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے اور اپنی فیس سیونگ کے لیے وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد کو ٹی 20 کپتان مقرر کردیا ، سرفراز احمد گزشتہ چند سریز سے مسلسل اچھی پرفارمنس دے رہے ہیں مگر انہیں صحیح موقع نہیں مل پارہا ہے ، سرفراز احمد اس وقت ٹیم کے واحد کھلاڑی ہیں جو غیرمتنازع ہیں ان کے اعلاوہ دیگر بیٹسمین عوامی تنقید کی زد میں ہیں ، 2006 میں سرفراز احمد اپنی قیادت میں انڈر 19 ٹیم کو ورلڈ کپ بھی جیتو چکے ہیں ، سرفراز احمدحال ہی میں یواے ای میں ہونے والی پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈ ئیٹرز کی قیادت کے فرائض انجام دے چکے ہیں جس میں انکی قیادت میں ٹیم نے فائنل تک رسائی حاصل کی جسے پوری قوم نے سراہا ، سرفراز احمد نے اب تک 21 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں جس میں 29 کی اوسط سے 291 رنز بناچکے ہیں اور بہترین اسکور 76 ہے۔ سرفراز احمد 21 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کے اعلاوہ 58 ایک روزہ میچز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں  اب تک انھوں نے 43 اننگز کھیل کر 30 کی اوسط سے 1077 رنز اسکور کیے ہیں جس میں بہترین اسکور 101 ناٹ آوٹ رہا ہے ، اور ٹیسٹ میچز اسٹیٹسکس کی طرف دیکھیں تو سرفراز نے اب تک 21 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے اور 37 اننگز میں 46کی اوسط سے 1296 رنز بنائیں ہیں اور بہترین اسکور 112 ہے۔ 

گزشتہ ایک سال سے تینوں فارمیٹ میں نائب کپتان کے فرائض انجام دینے والے سرفراز احمد اب ٹی 20 میں بطور کپتان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائنگے جس کے لیے انہیں ابھی مزید 5 ماہ انتیظار کرنا ہوگا ، اور اگلے 8 ماہ کے دوران پاکستان ٹیم صرف تین ٹی 20 میچز کھیلے گی 1 انگلینڈ کے خلاف 7 ستمبر 2016 کو اور دو ٹی 20 میچز سال کے اختیتام میں ویسٹ انڈیز کےخلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلے جانے ہیں۔ یہاں دیکھا جائے تو سرفراز کو صرف ٹی 20 کا کپتان بناکر کرکٹ بورڈ نے شائقین کرکٹ کو لولی پاپ دینے کی کوشش کی ہے کیونکہ ایک روزہ میچز میں بھی ٹیم کو سرفراز جیسے نوجوان کھلاڑی کی ضرورت ہے جو وقت پڑنے پر کسی بھی نمبر پر بیٹنگ کرنے آسکے اور اپنا قائدانہ کردار ادا کرے جو ہمیں ون ڈے فارمیٹ کے کپتان اظہر علی میں نظر نہیں آتا ، اگر بورڈ اور متعلقہ ادارے پاکستان کرکٹ کو بہتری کی جانب لےجا نا چاہتے ہیں تو ایسے ہی کھلاڑی کو کپتان بنانا ہوگا جو ٹیم کو اپنی پرفارمنس سے لیڈ کرسکے۔5 اپریل کو سرفراز احمد کو ٹی 20 کا کپتان مقرر کرکے نئے ہیڈ کوچ کی تقرری کے لیے اشتہار دے دیا گیا ہے، اب تجربہ کار کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی سے جان چھڑانے کا وقت آچکا ہے لہذا متعلقہ حکام کو چاہیے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں پرانے کھلاڑیوں پر تجربہ کرنے کے بجائے نوجوان کھلاڑیوں کو بلاکسی رنگ و نسل جوہر دکھانے کا موقع دے اور اگلے ورلڈ کپ کی ابھی سے تیاری کرنے کےلیے پالیسی ترتیب دی جائے اور تمام فیصلے پرفارمنس کی بنیاد پر کیے جائیں ورنہ صدیوں تک پاکستان کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس میں بہتری نہیں آسکے گی۔

images (13)

Advertisements