پانامہ پیپرز

جولین اسانج کے وکی لیکس کے بعد اب پانامہ لیکس نے بین الاقوامی سطح پر ہنگامہ مچادیا ہے۔ لائ فرم موساک فونسیکا کی جانب سے 11.5 ملین خفیہ دستاویزات شائع کیے گئے ہیں جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ 40 سال کے دوران کس طرح سے دنیا کے مختلیف ممالک کے سربراہان ، سیاسی شخصیات ، ،شوبز کے ستارے اور دیگر نے ٹیکس سے بچنے کے لیے آف شورز کمپنیز کے زریعے خفیہ طور پر دولت اور پروپرٹی / جائیداد بنائی ، ایک کروڑ سے زائد دستاویزات ایک جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کرکے تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی فورم کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شئیر کیے، جوکہ 76 ممالک کی 109 صحافتی تنظیموں کے صحافیوں پر مشتمل ہے جس میں برطانیہ کا مشہور اخبار گارڈین بھی شامل ہے۔ کنسورشیم کو ان دستاویزات کی تحقیقات مکمل کرنے میں ایک سال لگا۔
پانامہ لیکس کے شائع ہونے کے بعد بہت سے ممالک کے سربراہان کی حکومتیں خطرے میں پڑ گئی ہیں ، بہت سے ممالک میں پانامہ لیکس کے انکشافات کے بعد وہاں کی تحقیقاتی اداروں نے ان ڈاکیومینٹس کی جانچ پڑتال کا کام شروع کردیا ہے۔ پانامہ لیکس میں جس طرح دنیا کے دیگر ممالک کے سیاسی اور اہم شخصیات کی پروپرٹی کا انکشاف ہوا ہے اس میں بھارت اور پاکستان بھی پیچھے نہیں ، پانامہ لیکس میں بھارت کے 500 افراد کی خفیہ دولت اور جائیداد کا بھانڈا پھوٹہ ہے تو وہی پاکستان کے بھی 200 چھوٹے بڑے افراد شامل ہیں، جس میں سرفہرست ہیں موجودہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا خاندان ہے اور اسکے اعلاوہ سابق خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو مرحوم اور انکے دیگر خاص لوگ شامل ہیں . غریب ملک کے بادشاہوں کی جائیداد کے بارے میں اگر کوئی عام آدمی حساب لگانے بیٹھے تو گنتی ختم ہوجائے گی مگر حکمرانوں کی جائدادیں ختم نہیں ہونگی۔

Giant Leak of Offshore Financial Records Exposes Global Array of Crime and Corruption #panamapapers https://panamapapers.icij.org/20160403-panama-papers-global-overview.html

Offshore Power Players: See how Nawaz Sharif’s relatives are linked to the :

img_20160405_1244422.jpg

پانامہ لیکس کے منظرعام پر آنے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں ردعمل کے طور پر آفٹرشاکس دیکھنے میں آرہے ہیں ، آئس لینڈ کے عوام نے پانامہ پیپرز لیک ہونے کے بعد پارلیمنٹ ہاوس کے باہر جمع ہوکر وزیراعظم کے خلاف احتجاج کیا اور اسی دباو¿ کے پیش نظر آئس لینڈ کے وزیراعظم نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ 4 اپریل کو پانامہ لیکس نے اہم عالمی شخصیات کی خفیہ دولت کے متعلق پانامہ پیپرز نے ایک عالمی بحران سا پیدا کردیا ہے ، چین اور روس نے پانامہ لیکس کو مغرب کی سازش قرار دیا ، برطانوی وزیراعظم نے پانامہ لیکس پر ردعمل دیتے کہا کہ میں ایک تنخواہ دار وزیراعظم ہوں اور میرا کسی ٹرسٹ اور آف شئر کمپنی میں کوئی شئیر نہیں۔ فرانس ، نیوزی لینڈ ، سوڈان ، و دیگر نے پانامہ پیپرز کے انکشافات کے بعد تحقیقات کا اعلان کردیا ہے ، بھارت کے مشہور بالی وڈ ایکٹر امیتابھ بچن اور ایشوریا رائے بچن اور دیگر شخصیات کے نام بھی پانامہ لیکس میں شائع کیا گئے ہیں جس پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

Iceland Prime Minister Tenders Resignation Following Panama Papers Revelations

پاکستان کی جانب سے بھی اب پانامہ پیپرز میں وزیراعظم پاکستان کے بیٹوں اور بیٹی کے بیرون ملک جائیدادوں اور خفیہ آف شورز کمپنیوں کے انکشاف نے وزیراعظم کے لیے مشکلات کھڑی کردی ہیں ، 5 اپریل کو وزیراعظم میاں نواز شریف نے قوم سے 15 منٹ کا خطاب کیا، پانامہ لیکس کی حالیہ لہر کو وزیراعظم نے سازش قرار دیا اور قوم کو اپنے خاندان کے بزنس کے زوال کی کہانی سنائی اور پانامہ اسکینڈل پر ریٹائرڈ ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کردیا ہے ، حالانکہ قانونی ماہرین کے مطابق ایسا ممکن نہیں کیونکہ ریٹائرڈ ججز کو جوڈیشل کمیشن میں شامل نہیں کیا جاسکتا ہاں مگر ریٹائرڈ ججز کو انکوائری کمیشن میں ضرور شامل کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم کے عدالتی کمیشن کے اعلان پر اپوزیش جماعتوں تحریک انصاف ، پاکستان پیپلزپارٹی اور دیگر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے مسترد کردیا ، متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے وزیراعظم کے عدالتی کمیشن کے اعلان کو خوش آئندقرار دیا گیا اور بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ کمیشن بھی ماضی میں بننے والے کمیشن کی طرح کچھ نہیں کرے گا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان صاحب کی جانب سے دھرنے کے اختیتام کے بعد ایک بار پھر وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا گیا ہے ، پانامہ لیکس پر عوام کی جانب سے بھی بہت سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔ ۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پانامہ پیپرز کے معاملے پر عوام سے اپنے مختصر خطاب میں اپنے خاندان کے زوال کی داستان تو بتائی مگریہ نہیں بتایا کہ جب پیپلزپارٹی نے انکا بزنس تباہ کردیا تھا تو انکے بچے اتنا بڑا کاروبار کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے ؟ اگر انکے بچوں کی باہر کمپنیز میں لاکھوں ڈالرز کی انوسٹمنٹ قانونی ہے تو پاکستان میں ظاہر کیوں نہیں کی گئی ؟ اگر یہ آف شور کمپنیز لیگل ہیں تویہ انوسٹمنٹ پاکستان میں کیوں نہیں کی گئی ؟ کیا پاکستان کے وزیراعظم کے بچوں کو ملک کے مسقبل پر بھروسہ نہیں ؟ جب حکمران جماعت ہی اپنے اثاثے پاکستان کے بجائے بیرون ممالک میں محفوظ اور انوسٹ کیے جائیں گے تو دیگر ممالک کے لوگ کس طرح پاکستان میں اپنا انٹرسٹ ظاہر کرینگے ، پانامہ لیکس میں وزیراعظم کے خاندان کی دیگر ممالک میں انوسٹمنٹ ہوگی تو دیگر ممالک میں بسنے والے انوسٹر کس طرح پاکستان کا رخ کرینگے ؟ پاکستان کے ساتھ مزاق اب بند ہونا چاہئے ، پاکستان مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی اگرحقیقی طور پر پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں تو دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کو پاکستان لانے کے بجائے شریف خاندان کی باہر ہونے والی انوسٹمنٹ اور بھٹو خاندان کے نام پر دیگر ممالک میں رکھا قوم کا پیسہ وطن واپسی لے آے تو ہمیں انگریزوں کی امداد کی ضرورت بھی نہ پڑے۔ اگر ہماری یادداشت کمزور نہیں تو  یاد ہوگا کہ گزشتہ سال 2015 میں نیو یارک ٹائمز نے ایگزیکٹ اور بول کے حوالے سےرپورٹ شائع کی تھی جس کے بعد ایف آئی اے نے ایسا ایکشن دکھایا تھا کہ بول کے ملازمین کا جینا محال ہوگیا تھا اور آج تک بول نیوز چینل لاونچ نہیں ہوسکا ہے جس سے ہزاروں ملازمین ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بہت سے اچھے خاصے لوگ در در کی ٹھوکر کھانے پر مجبور ہوگئے تھے ، ایگزیکٹ کے ملازمین و دیگر نے تو اپنا کڑا وقت گزار لیا مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا پاکستان میں دوہرا میعار قائم رہتا ہے یا پھر اشرافیہ کا بھی کڑا احتساب ہوتا ہے؟ ۔ موجودہ پانامہ لیکس بحران ہمارے اداروں کے لیے ایک امتحان ہے کیونکہ اگر ہمارے ادارے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ، نیب ، ایف آئی اے ، ایف بی آر اور دیگر حقیقتاً آزاد ہیں تو وہ تحقیقات کرکے حقائق قوم کے سامنے لائیں ،عام تاثر ہے کہ وزیراعظم کے ہوتے ہوئے بننے والا کمیشن شفاف تحقیقات نہیں کرسکتا جس کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم صاحب پہلے استعفیٰ دیں اور پھر انکوائری کی جائے کہ یہ پیسہ پاکستان سے گیا کیسے ؟ ۔

Blog also Published in International Weekly  Megazine ” News Pakistan” #Chicago Edition -Vol21 – 07 – 13 April

http://dailynewspakistan.com/

Daily Pakistan - Chicago.jpg

Advertisements