شہر کراچی میں ضمنی انتیخابات

شہر کراچی نے ہمیشہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال آزادانہ طور پر کیا ہے جس کی اسے قیمت بھی اٹھانی پڑی ہے ۔ 3 جنوری 1965ء کو پاکستان میں صدارتی انتخابات منعقد ہوئے جس میں چار امیدوار شامل تھے جن میں  جنرل ایوب خان  ،اور قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح بھی شامل تھیں  ۔ ان انتیخابات میں کراچی کے شہریوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی جس کے باعث مغربی پاکستان میں صرف کراچی ڈویژن میں جنرل ایوب خان کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا اور کراچی کے عوام نے محترمہ فاطمہ جناح پر اپنے اعتماد کی مہر لگائی  ۔ کراچی کے اعلاوہ دیگر شہروں میں جنرل ایوب خان باآسانی کامیاب ہوئے جس کے بعد وہ دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے  ۔  جنرل ایوب خان کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ایوب خان کے حامیوں نے کراچی آکر جشن منایا اور جشن  فتح کی آڑ میں اردو بولنے والے سندھیوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔ ۔  قتل و غارتگری  کا یہ سلسلہ کلاکوٹ  ، ناظم آباد ، لیاقت آباد  ، میں شروع ہوا اور  پھر پورے شہر میں پھیل گیا ، ایوب خان کے حامیوں نے گوہر ایوب کی قیادت میں پورے کراچی میں درندگی کا مظاہرہ کیا مگر آج تک اس سانحے کے متاثرین کو انصاف فراہم نہ کیا جاسکا ۔ عوام میں بانی پاکستان کی ہمشیرہ کو بدنام کرنے کے لیے بھارتی ایجنسی را کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا گیا جو قابل مذمت ہے مگر آج تک اسکی کوئی مذمت نہیں کرتا ۔  

download (2).jpg

محترمہ فاطمہ جناح کی شہادت کے بعد شہر کراچی کے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہ تھا مگر جب الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیوایم نے پارلیمانی سیاست کا آغاز کیا تو اسے شہر کراچی نے بھر پور سپورٹ کیا ۔ ۔  محترمہ فاطمہ جناح کے بعد ایک بار پھر شہر کراچی کو قیادت ملی جس پر عوام نے اپنے اعتماد کا واضح اظہار کیا ، اور پھر وہی ہوا جیسے فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کی پاداش میں شہر کراچی کو سزا دی گئ تھی  الطاف حسین کی حمایت کرنے پر شہر کراچی کو  سانحہ قصبہ و عالیگڑھ کالونی 1986, 1992کا ریاستی آپریشن اور پھر مسنح شدہ لاشوں اور ماورائے عدالت قتل کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔  ایم کیوایم کے قیام سے لیکر آج تک الطاف حسین کو ووٹ دینے والے شہریوں کے لیے دن بہ دن مشکلات میں اضافہ کیا جارہا ہے، شہر کراچی کا ووٹ کسی جاگیردار وڈیرے کو نہ ملنے کی بنا پر شہر کو ترقیاتی فنڈ اور  پانی جیسی ضروریات زندگی سے محروم رکھنے جیسے اقدامات سے  حکمرانوں کی کراچی دشمنی پالیسی واضح ہے  ۔ 

images (11)

ریاست نے شہر کراچی کی عوام کو تقسیم کرنے اور الطاف حسین کے نظریے اور فکر و فلسفے سے ہٹانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا  مگر عوام نے ہر الیکشن میں الطاف حسین کے امیدوار کو کامیاب کروا کر تمام سازشیں ناکام بنادیں ۔  گزشتہ تین سال قبل جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا جو بعد میں ایم کیوایم کی طرف موڑدیا گیا ، کراچی آپریشن آج بھی جاری ہے  اب تک ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکنان گرفتار اور لاپتہ ہیں اور نہ جانے کتنے ماورائے عدالت قتل کردیے گئے ، میڈیا کے زریعے ریاست نے  بہت کوشش کی  کہ عوام کو ایم کیوایم سے دور کردیا جائے  مگر  ایسا ممکن نہ ہوسکا ، 

گزشتہ سال اپریل میں عزیزآباد میں حلقہ این اے 246 کے ضمنی  الیکشن  کے دوران  بہت سنسنی پھیلا کر عوام میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی تھی کہ ایم کیوایم اور دیگر جماعتوں کے درمیان بڑامقابلہ ہونے جارہا ہے کہ اب کراچی آپریشن کے بعد  ایم کیوایم کمزور ہوگئ ہے عوام اب ایم کیوایم سے چھٹکارا چاہتی ہے ، مگر مخالفین کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ  گئے اور فوج و  رینجرز کی سخت نگرانی میں  23 اپریل کو ایم کیوایم  نے  95 ہزار سے زائد کی بھاری اکثریت سے ووٹ حاصل کیے اور  اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرکے مخالفین کو عوامی طاقت سے  قائل کردیا  اور اب 2016 میں ایک بار پھر شہر کراچی ایم کیو ایم کی عوامی طاقت دکھانے کو تیار ہے ، مصطفی کمال کی مسلسل اشتعال انگیز تقاریر پر بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ الطاف حسین کی مقبولیت کم ہوگئ ہے مگر وہ گزشتہ سال ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج نہ بھولیں  ،شہر کراچی میں  7 اپریل کو این اے 245 اور  پی ایس 115 پر ضمنی الیکشن ہونے جارہے ہیں جس میں عوامی موقف واضح ہوجانا ہے کہ عوام کس کے ساتھ کھڑے ہیں  ۔  موجودہ جدید دور میں عوام کو میڈیا کے زریعے گمراہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی پر الزامات لگاکر عوام میں نفرت پیدا کی جاسکتی ہے ۔  شہر کراچی اپنے حق رائے دہی کے اظہار میں  پاکستان کے تمام شہروں سے مختلیف ہے ، کراچی کی عوام نے ماضی میں مسلم لیگ ، پیپلزپارٹی  ، جماعت اسلامی اور دیگر کو اپنے ووٹ کی طاقت سے مسترد کیاہے

images (12)

ہمیں کراچی کے معاملے پر اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اس کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ  شہر کراچی پر کوئ جبری قبضہ نہیں کرسکتا جہاں تک بات متحدہ قومی موومنٹ کی حمایت کی اور مخالفت کی تو یہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دیں ، عوام اگر ایم کیوایم یا الطاف حسین سے مطمئن ہیں تو انہیں ہی ہر الیکشن میں اپنے اعتماد کا ووٹ دیتی رہےگی اگر نہیں تو دیگر جماعتوں کی طرح انہیں بھی مستردکردےگی ۔  کراچی کی عوام نے جس طرح گزشتہ سال اپنے حق رائے دہی کے زریعے صولت مرزا اور دیگر کی جانب سے لگائے گئے الزامات مسترد کیے تھے اس بار بھی ایسا ہی ہونے جارہا ہے ۔ عوامی طاقت سے اپنے مخالفین کو جواب دینا اس سے بہتر کوئی جمہوری انداز ہوہی نہیں سکتا ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے طاقت کا محور عوام ہوتے ہیں اور جسکے ساتھ عوامی طاقت ہوتی ہے اسے شکست دینا آسان نہیں ہوتا ، شہر کراچی میں الطاف حسین ایم کیوایم کے ہمدرد اور سپورٹرز  ایک مرتبہ پھر الطاف حسین کی کردار کشی کرنے والوں کو اپنے ووٹ سے جواب دینے کوتیار ہیں  ۔ ہمیں اپنی سوچ کو کراچی پر مسلط کرنے بجائے  فیصلہ کراچی کے باسیوں پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ جسے چاہے ووٹ دیں ۔

Advertisements