عوام جواب دے گی ۔

متحدہ قومی موومنٹ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف بھرپور آواز بلند کرنے والی پاکستان کی واحد سیاسی قوت ہے ۔ ایم کیوایم کے قائد نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی  بلکہ عام عوام میں بھی کافی حد تک شعور بیدار کیا ہے ۔  شہر کراچی پاکستان کا بڑا شہر ہے اور ایم کیوایم کے قیام کے بعد سےتمام نام نہاد سیاسی و مذہبی جماعتوں  کو کراچی کی عوام نے  ایسا مسترد کیا کہ کتنے ہی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کروادیں ۔ 

پاکستان کے بہت سے حلقوں کا خواب ہے کہ مسلم لیگ اور پاکستان پیپلزپارٹی کی طرح ایم کیوایم کے بھی دھڑے بناکر اسکی طاقت کو کمزور کردیا جائے جس کے لیے کافی مرتبہ سازشوں کے جال بنے گئے الطاف حسین کی کردار کشی کی گئی  ، ایم کیو ایم کے چند لوگوں کو خرید کر الطاف حسین مخالف  تقاریر کروای گئی  ، محترمہ فاطمہ جناح کی طرح الطاف حسین پر  بھی بھارتی ایجنسی را کا ایجنٹ ہونے کے الزامات لگائے گئے مگر کچھ نہ ہوسکا ہر الیکشن میں عوام کے اعتماد میں ان سازشوں کی وجہ سے مزید اضافہ ہوتا گیا اور 2002 سے 2007 تک دور میں الطاف حسین کی ہدایات پر جو شہر  کراچی میں ایم کیوایم کے نمائندوں نے عوام کی خدمت کی اسے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا نے سراہا ۔ ۔ 

گزشتہ سال 11مارچ 2015 کو ایم کیوایم کے مرکز پر رینجرز چھاپے کے بعد ایم کیوایم کے محتاط رویے کو ایم کیوایم کی کمزوری سمجھا گیا اور پھر نبیل گبول کے استعفی کے بعد خالی ہونے والی سیٹ این اے 246 کے ضمنی انتخاب پر ایم کیوایم مخالف قوتیں یہ سوچ رہیں تھی کہ ایم کیوایم بیک فٹ پر ہے تو باآسانی ایم کیوایم کو شکست دے دی جائے گی ، این اے 246 کے ضمنی انتخاب سے قبل  ایم کیوایم کے ووٹ بینک کو توڑنے اور الطاف حسین کے خلاف عوام میں  نفرت پھیلانے کے لیے  تحریک انصاف کو کراچی میں لاونچ کیا گیا ،  مگر کچھ حاصل نہ ہوسکا 23 اپریل 2015 کو پولنگ کے دن فوج اور رینجرز کی نگرانی میں ہونے والےضمنی  انتخاب نے ایم کیوایم کو بھرپور مینڈیٹ سے کامیاب کروا کر ایک بار پھر سازشی قوتوں کو پیغام دے ڈالا کہ کراچی کے  عوام کا ووٹ طاقت کے زور پر تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔   ایم کیو ایم پر ہمیشہ سے یہ الزام رہا ہے کہ ایم کیوایم کو کراچی کی عوام ووٹ نہیں دیتی بلکہ یہ جعلی ووٹ حاصل کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ گزشتہ سال رینجرز اور فوج کی نگرانی میں عوام نے ایم کیوایم کو  ووٹ دے کر تمام الزامات کو غلط ثابت کردیا ۔ ۔  مگر یہ جیت بعض حلقوں کو ہضم نہ ہوئی اور ایک بار پھر سازش تیز کردی گئی عوام کو ایم کیوایم سے دور کرنے کے لیے پھر ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ شروع کردیا گیا ، ایم کیوایم کارکنان کی تشدد زدہ لاشیں ملنے لگیں اور جب ان واقعات پر حکام بالا کی جانب سے نوٹس نہ لیا گیا تو الطاف حسین کا لہجہ سخت یونے لگا اور کراچی کے بےگناہ شہریوں کے  قتل عام پر خاموش رہنے والوں کی جانب سے ایم کیوایم کے قائد کے خلاف ایف آئی آر کٹوانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا اور الطاف حسین  کے خطابات کی براہ راست نشریات پر پابندی لگادی گئی اور بعد میں انکے بیانات کی مکمل نشرواشاعت پر پابندی عائد کردی گئی  ۔ ایم کیو ایم کے قائد کے خطاب پر میڈیا پابندی کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم نے بھرپور کامیابی حاصل کی اور شہر کراچی ، حیدرآباد کے اعلاوہ اس بار میرپورخاص میں بھی عوام نے الطاف حسین کی قیادت پر اعتمادکا اظہار کیا جس سے باطل قوتوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا  ۔ 

  تمام سازشوں سے ناکام ہونے کے بعد ایم کیو ایم کے خلاف حقیقی پارٹ 2بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے لیے اس بار سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کو کاسٹ کیا گیا ہے جو 3 مارچ کو خفیہ کاندھوں پر بیٹھ کر بلدیہ فیکٹری کیس میں نامزد ملزم انیس قائمخانی کے ہمراہ کراچی پہنچے اور اسی دن پریس کانفرنس میں اپنی فلم کی تشہیری کرڈالی جس کی کہانی صرف اور صرف ماضی کے  الزامات کی گرد گھومتی رہی ۔ ۔  مصطفی کمال کی فلم کا مقصد صرف اور صرف مائنس الطاف حسین پر کام کرنا ہے کیونکہ مصطفی کمال کے ہدایتکار کے مطابق پاکستان میں کوئی جرم اتنا بڑا نہیں جتنا بڑا جرم ملک میں موجود  98فیصد  غریب مظلوم محکوم عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے اور  جو اس فلم کی مخالفت کرے گا اسے یا تو دہشت گرد قرار دیا جائے گا ، را کا ایجنٹ قرار دیا جائے گا یا پھر وہ سہولت کار بناکر عوام میں مجرم قرار دے دیا جائے گا ۔ ۔ ورنہ ماورائے عدالت قتل تو اب شہر کراچی میں کوئی نئ بات نہیں ۔ ۔

  ایم کیو ایم الطاف حسین کو ختم کرنے کا خواب دیکھنے والے کبھی اپنا خواب پورا نہ کرسکے گے کیونکہ الطاف حسین کا فکرو فلسفہ  شہری سندھ اور پاکستان میں  اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اس کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا ۔   شہر کراچی کے نامزد ڈپٹی مئیر ڈاکٹر ارشد وہرہ  اورﮈسٹرکٹ سینٹرل کے نامزد چیئرمین ریحان ہاشمی کے صوبائی و قومی اسمبلی  نشست سے استعفیٰ دینے کے باعث خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں جسکی پولنگ 7 اپریل کو ہے ، نارتھ ناظم آباد ، حیدری مارکیٹ لائینز ایریا  اور دیگر علاقوں میں ضمنی الیکشن  کی خوب گہما گہمی  ہے ، عوام کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل ہے ،  اس میں کوئی شک نہیں کہ  ایم کیوایم کو کسی بھی پروپیگنڈے کے زریعے عوام سے دور نہیں کیا جاسکتا ۔  حقیقی پارٹ 2 کی تشہیری کے بعد جو لوگ ایم کیو ایم میں ڈینٹ یا تقسیم دیکھنا چاہتے تھے وہ بہت مایوس ہونگے ، ایم کیو ایم کے ووٹرز اور سپورٹرز  گزشتہ کتنے ہی سالوں سے اس طرح کے ڈراموں اور فلموں کو دیکھتے آرہے ہیں، جو اس بار بھی الطاف حسین کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا جواب اپنے ووٹ کی طاقت سے دےگی کیونکہ عوام کسی امیدوار کو نہیں الطاف حسین کو ووٹ دیتی ہے ، حقیقی پارٹ 2 کی ناکام تشہیری مہم کے بعد   ہدایتکار  کو اس بات کا اندازہ ہوجانا چاہیے کہ کوئی ایم کیوایم میں کتنی ہی بڑی زمہ داری پر کیوں نہ رہا ہو ، 90 سے علیحدہ ہونے کے بعد  وہ ہمیشہ ذیرو ہی رہا ہے ۔

Advertisements