شہر کراچی اور مشرقی پاکستان

   ہمارے نوجوان طلبہ و طالبات کو پاکستان کے ماضی سے جڑی حقیقت ہمیں کبھی نصاب نہیں پڑھائی جاے گی تو اس کے لیے ضروری ہےکہ طلبہ و طالبات نصاب کے اعلاوہ بھی کتابیں پڑھیں تاکہ ہماری معلومات میں اضافہ ہوسکے۔  پاکستان میں ہر سال 16 دسمبر  کو سانحہ مشرق پاکستان کی یاد میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہےکہ  اس دن  مشرقی پاکستہ سے جدا ہوکر الگ ریاست اور ملک کے طور پر دنیا کے نقشے میں ابھرا تھا جسے آج ہم بنگلہ دیش کے نام سے جانتے ہیں  ۔

 مشرقی پاکستان کے شہری اپنے جائزحقوق چاہتے تھے کیونکہ وہ سمجتھے تھے کہ مشرقی پاکستان کی آمدنی کا بڑا حصہ مغربی پاکستان پر خرچ ہوتا ہے اور مشرقی پاکستان کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے ۔بنگالیوں کی احساس محرومی دور کرنے کے بجائے ملک کے اشرافیہ  کی جانب سے مشرقی پاکستان کےشہریوں کے جائز حقوق سلب  کیے جانے لگے ، 29 مئی 1963 کو  نیشنل اسمبلی میں  ایک بنگالی رکن نے  ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” مغربی پاکستان کو مشرقی پاکستان کی قیمت پر ترقی دی جارہی ہے ، پچھلے پندرہ سالوں میں کم درآمدات اور زیادہ برآمدات کی صورت میں مشرقی پاکستان کو اس کے خون پسینے کے 100 کروڑ روپے سے محروم کردیا گیا ، مغربی پاکستان کی تعمیر کے لیے ہمیں دیوالیہ کردیا گیا ہے ۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ اے چھوکروں نکل جاو ہمارے پاس تمہارے واسطے کچھ نہیں ہے ۔ ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ہے.

Also Published in Print Media Epaper  16-04-2016

JuRAAT Newspaper 16-04-2016.jpg– Daily Juraat Urdu Newspaper Karachi

download (1).jpg  images (9)

ہمارے حکمرانوں  کے متعصبانہ رویہ  نے مشرقی پاکستان کے شہریوں کے ساتھ انتہا کی زیادتیوں کی بدولت انہیں اس نہج پر لاکھڑا کیا کہ انہیں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی ۔  ہم لوگوں سے سنتے ہیں کہ پاکستان شیخ مجیب الرحمن یا عوامی مسلم لیگ کی وجہ سے دو لخت ہوا ، یہ بات حقیقتاً غلط ہے دراصل پاکستان کے دولخت ہونے کی اصل وجہ مشرقی پاکستان کے شہریوں کو انکے جائز حقوق سے محروم رکھنا ہے ۔ جب بنگالیوں نے اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کی تو انہیں غدار قرار دیا جانے لگا اور انکے خدشات اور شکایات کو سننے کے بجائے ان پر ریاست نےانکے خلاف  آپریشن شروع کردیا اور ظلم کے زریعے آواز دبانے کی کوششیں کی جانے لگیں  ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جسے ہمارے متعصب حکمرانوں نے غدار قرار دیا تھا وہ شیخ مجیب الرحمن ہی تھا جس نے سائیکل پر قیام پاکستان کی تحریک چلائی تھی ، شیخ مجیب الرحمن کا کہنا تھاکہ ” میں نے تحریک پاکستان کی جدوجہد میں اپنے بال کالے سے سفید کیے ہیں میں کیوں پاکستان توڑنا چاہوں گا” .

images (10).jpg

مشرقی پاکستان مغربی پاکستان کی متعصبانہ  رویئے ، پالیسیوں اور حق تلفیوں کی وجہ سے ہم سے علیحدہ ہوا مگر ایسا لگتا ہے کہ ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا یا پھر ہمارے حکمران سیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔ پہلے مشرقی پاکستان کو مسلسل ناانصافیوں اور زیادتیوں سے  دو لخت کردیا اس کے باوجود وہی سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ شہر کراچی جو کہ پاکستان کا معاشی حب ہے اسکے باوجود نظرانداز کیا جانا سمجھ سے باہر ہے ، ملک کی آمدنی کا 70 فیصد شہر کراچی فراہم کرتا ہے مگر گزشتہ 8 سالوں میں کوئی ایسا پروجیکٹ یا ترقیاتی کام ہوتا نظر نہیں آیا کہ جس سے کراچی کی عوام کو سہولیات میسر آسکے ،  جس طرح مشرقی پاکستان کے ٹیکس کا پیسہ مغربی پاکستان پر خرچ ہوتاتھا اسی طرح اب شہر کراچی کی عوام کے ٹیکس سے جمع ہونے والے پیسے سے میٹرو بسوں کا افتتاح کیا جارہا ہے ، دبئی میں پروپرٹیز بنائی جارہی ہیں  ، بھٹو کی برسی پر کروڑوں خرچ کیے جارہے ہیں اور دوسری طرف کراچی میں نہ پانی ہے نہ بجلی ہے اور نہ صحت و صفائی کے شعبے میں کوئی سہولت میسر ہے۔ سندھ اور وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث روشنیوں کا شہر تاریخی میں ڈوبتا جارہا ہے اور سڑکیں کچرے کا ڈھیر بنتی جارہی ہیں ، کراچی  میں 8سال بعد بلدیاتی انتخابات تو کروادیے گئے مگر انتخابات کے 4  ماہ گزرجانے کے باوجود مقامی حکومت کے نمائندوں کو اختیارات منتقل کرنا تو دور کی بات اب تک میئر ، ڈپٹی مئیر کے انتخابات کا اعلان بھی نہیں کیاگیا ۔ ۔حکمران جماعت کی جانب سے مقامی نمائندوں کو اختیارات منتقل کرنے کے حوالے سے تاخیری حربے استعمال کرنا کراچی دشمنی کے مترادف ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب  شہر کراچی بھی مشرقی پاکستان کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے ۔  ۔

جس طرح بھٹو صاحب نے شیخ مجیب الرحمن کا مشرقی پاکستان کی عوام کی جانب سے ملنے والے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا تھا اسی طرح آج  شہر کراچی کی عوام کی جانب سے ملنے والا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا جارہا ہے جو کہ ایک بار پھر ماضی دہرانے کے مترادف ہے ۔ ماضی میں جو رویہ ہمارے ملک کے  دو فیصد مراعات یافتہ طبقے نے بنگالیوں کے ساتھ روا رکھا آج اس سے کہیں زیادہ برا رویہ اور حق تلفی شہری سندھ اور کراچی کی عوام کے ساتھ کی جارہی ہے اور آج بھی مینڈیٹ تسلیم کرنے کے بجائے وہی راستہ اختیار کیا جارہا ہے جو ماضی میں ملک کا حکمران طبقہ اختیار کرکے دیکھ چکا ہے ، تاریخ سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے کسی بھی جماعت کے مینڈیٹ کو ظلم و زیادتی یا طاقت کی زور پر کم یا ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس سے عوام میں مزید احساس محرومی جنم لیتی ہے ۔کراچی کےعوام کا فیصلہ کسی بھی قسم کی انجینئرنگ سے بدلہ نہیں جاسکتا لہٰذا کراچی و شہری سندھ کی عوام کےفیصلے کو تسلیم کرکے انکے نمائندوں کو اختیار دیا جائے، وہ بھی پاکستان کے شہری ہیں جو ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں  ۔

Advertisements