ہمیں دیگر ٹیموں کے کھلاڑیوں سے سبق لینا چاہیے

پاکستان میں بسنے والے شائقین کرکٹ کے لیے بری خبر کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ ٹی 20 کپ 2016 میں اپنے پہلے راونڈ میں ہی لگاتار شکست کا منہ دیکھنے کے بعد بھارت سے واپسی کا پروانہ حاصل کرنے میں کامیاب اور پوری قوم کا سر فخرسے بلند کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی۔ بھارت میں ہونے ورلڈ ٹی 20 کپ 2016 کا باقاعدہ آغاز 15 مارچ سے ہوا تھا جو اب آخری مراحل میں ہے اور پاکستان کرکٹ ٹیم تسلسل کے ساتھ بری پرفارمنس کی بنا پر ٹورنامنٹ سے آوٹ ہوچکی ہے ، گروپ میچز کے کل 4 میچز میں سے پاکستان صرف بنگلہ دیش سے ہی جیت سکا اور اسکے اعلاوہ بھارت ، نیوزی لینڈ اور اسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان ٹیم نے ٹورنامنٹ میں اپنا آخری میچ 25مارچ 2016 کو بھارت کے شہر موہالی میں اسٹریلیا کے خلاف کھیلا جس میں اسڑیلیا نے شکست دے کر پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے اگلے راونڈ میں پہنچنے کے تمام دروازے بند کردیے اور پاکستان واپسی کا دروازہ دکھادیا۔

https://ahsanwarsi1.wordpress.com/2016/03/06/urdu-sports-blog-are-we-ready-for-worldt20/

پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ ٹی 20 کے آغاز سے قبل تواتر کے ساتھ 2ٹی 20 سریز میں شکست دیکھنے کے بعد پہلے ہی دباو کا شکارتھی اسکے باوجود ٹیم کوقوم نے بھر پور سپورٹ کیا ،ماضی کی تمام شکستوں کو بھلاکر نئے باب کا آغاز کرنے کا عزم کیا ، شاہد خان آفریدی کی کپتانی کے دوران مسلسل شکست کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور جب پاکستان ٹیم نے ورلڈ ٹی 20 کے آغاز میں بنگلہ دیش کو بڑی مارجن سے شکست دی تو قوم نے ماضی کو بھلاکر ٹیم کو بھرپور سپورٹ کیا
مگر جب شاہد خان آفریدی نے بھارت کے خلاف اہم میچ میں جو بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کے غیر مقبول فیصلے کیے اسکے بعد ٹیم اور کپتان ایک بار پھر تنقید کی زد میں آگیء، ٹاک شوز میں بیٹھے تجزیہ نگار ہوں یا کوئی بوڑھا جوان ، مرد عورت ہر طبقے کے فرد کی زبان پر قومی ٹیم کے لیے صرف تنقید تھی، آنکھوں اور زبان سے ہر فرد کی مایوسی عیاں تھی جب تک بات ٹیم پر تھی تو کسی ایک کو شکست کا زمہ دار نہیں ٹہرایا جارہا تھا مگر جب بات کرکٹ بورڈ اور انتیظامیہ اور کوچ پر آنے لگی تو چیئرمین بورڈ اور کوچ نے بھی کپتان اور کھلاڑیوں پر سے ہاتھ اٹھا لیا اور ٹیم سے امیدیں وابستہ کرنے والوں کو دوران ٹورنامنٹ پیغام بھی دے ڈالا کے ٹیم سے زیادہ امیدیں نہ لگائی جائیں اور میڈیا پر ایک شوشہ چھوڑ دیا گیا کہ قومی کرکٹ ٹیم میں گروپ بندی ہے ، اور شکست پر اٹھنے والے سوالوں کو دو گروپوں میں تقسیم کردیا جس میں ساتھ دیا ہمارے کھلاڑیوں کے چاہنے والوں نے ، پاکستان ٹیم کی شکست اور اس کا ملبہ انتیظامیہ سے ہٹانے کے لیے شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ شعیب ملک ، اور شاہد آفریدی دونوں گروپنگ کررہے ہیں دونوں کے ساتھ ٹیم کے چند کھلاڑیوں کی حمایت ہے جسکی وجہ سے ٹیم اچھا پرفارمنس نہ دے سکی، بس ابھی یہ خبر لیک آوٹ ہی ہوئی تھی کہ دونوں کرکٹرز کے چاہنے والوں نے اپنے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا شروع کردیا۔ دوسری جانب شعیب ملک گروپنگ کے حوالے سے چلنے والی خبر کو مسترد کرچکے ہیں اور شاہد آفریدی نے اب تک اس متعلق کوئی بات نہیں کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہد خان آفریدی ایک اچھے کھلاڑی ہیں مگر یہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ آفریدی ایک اچھے کہتان نہیں ہیں ۔ آفریدی جو پچھلے 20 سالوں میں مجموعی طور پر 500 سے زائد میچز کھیل چکے ہیں اور آل راونڈ پرفارمنس کی بنا پر انہیں دنیا کے بہترین آل راونڈرز میں شمار کیا جاتا ہے مگرگزشتہ کئی سالوں سے وہ پرفارمنس نہیں دے پارہے جسکی توقع ان سے کی جاتی ہے ، پاکستان کرکٹ ٹیم کی تاریخ رہی ہے کہ کوئی بھی کپتان خود سے ٹیم کی کپتانی چھوڑنا ہی نہیں چاہتا مسلسل خراب پرفارمنس اور شکست کے باوجود کوئی بھی کپتان کیسے کپتانی کرسکتاہے اگر ہمیں ایسی مثالیں دیکھنی ہیں تو ہم اب تک قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے کھلاڑیوں کا ریکارڈ دیکھ سکتے ہیں ۔

images (2).jpg  images (6).jpg 

images (4).jpg

ہمارے کھلاڑیوں کو دیگرٹیموں کے کھلاڑیوں سے سبق سیکھنا چاہیے کہ کوئی بھی کھلاڑی انفرادی اننگ سے ہی بڑا کھلاڑی نہیں بنتا بلکہ بعض اوقات ایسے فیصلے ہوتے ہیں جو انسان کو بڑا کھلاڑی بننے میں مدد دیتے ہیں ، دنیا بھر میں سینئر کھلاڑی اچھی پرفارمنس کے باوجود نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کے لیے وقت سے پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں تاکہ نئے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی وقت پر موقع مل سکے جسکی جیتی جاگتی مثال نیوزی لینڈ ہے ورلڈ ٹی 20 سے قبل نیوزی لینڈ کے سابق کپتان برینڈن میکللم نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ، باوجود اس بات کہ کے آگے ورلڈ ٹی 20 کا میگا ایونٹ ہے مگر کپتان نے نئے کھلاڑی کو موقع دیا اور اب کین ولیمسن کیویز کی قیادت کررہے ہیں جسکی قیادت میں ٹیم نے جس طرح سے کھیل پیش کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور پہلے راونڈ میں کیویز ناقابل شکست رہی۔ نیوزی لینڈ کی تسلسل کے ساتھ کامیابی کی طرف قدم بڑھنا یہ صرف کپتان ہی نہیں بلکہ انکے پورے ملک کی کامیابی ہے کہ وہاں کسی شخصیت نہیں کھلاڑی کے کھیل کو سراہا جاتا ہے ، ایک طرف پاکستانی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی صاحب ہیں جو اب تک شکست کی زمہ داری لیتے ہوئے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں ۔

پاکستان کا المیہ رہا ہے کہ ہمیشہ سے کپتان ایسے شخص کو بنایا جاتا ہے جسکو سب سے زیادہ اسپانسر ملتے ہیں ، اسے ہی کپتان بنادیا جاتا ہے چاہے اسکی پرفارمنس ہو نہ ہو اور پوری قوم پھر ہر شکست پر یہ کہتی نظر آتی ہے کہ ” تم جیتو یا ہارو سنو ہمیں تم سے پیار ہے ” . گروپوں میں بٹنے والے کھلاڑیوں اور گروپوں کی قیادت کرنے والوں کو اگر ہمیں راہ راست پر لانا ہے تو زیادہ سے زیادہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے اور کرکٹ بورڈ میں ایسے لوگوں کو لایا جائے جس نے کم از کم 100/50 ایک روزہ میچز اور ٹیسٹ میچز تو کھیلے ہوں جن لوگوں کا اپنا کوئی بہتر ٹریک ریکارڈ رہا ہو ایسے لوگوں کو موقع دیا جائے ۔ جب ہم 500 میچز کھیلنے والے سینئرز کھلاڑیوں کی موجودگی میں بھی شکست دیکھ چکے ہیں تو کیوں نہ اب ایسے کھلاڑیوں کو آزمایہ جائے جس کو اب تک  موقع نہ ملا۔ جب ہم کھلاڑیوں کو دیگر کھلاڑیوں کی مثال دیتے ہیں تو باحیثیت قوم ہمیں بھی دیگر ملکوں کی عوام کی طرح صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کرکٹ میں شخصیات یا اپنی فیورٹ ٹیمز کو سپورٹ کرنے کے بجائے اچھے کھیل کو سراہایا جائے ۔

Advertisements