ایم کیوایم کے 32 سال

پاکستان میں ہر سیاسی جماعت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ عام عوام کی خیرخواہ ہے مگر ایسا کوئی عمل نظر نہیں آتا جس سے ہم یہ سمجھ سکیں کہ تمام سیاسی جماعتیں عوام کی خیرخواہ ہیں۔ پاکستان میں آج سے 30 سال قبل کوئی غریب متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا عام نوجوان یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ وہ بھی پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کا حصہ ہوسکتا ہے اور پھر نوجوان طبقے کو الطاف حسین کی شکل میں وہ رہنما وہ قائد ملا جس نے قوم کے نوجوانوں کو ہمت و طاقت دی کہ جس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ الطاف حسین نے 24 سال اور 9 ماہ کی عمر میں 11جون 1978 کو طلبہ تنظیم کی بنیاد رکھی اور پھر ایک طلبہ تنظیم سے ایک سیاسی جماعت کو جنم دیا جس کی بنیاد 18 مارچ 1984کو رکھی جسکا آج 2016 میں 32واں یوم تاسیس ہے۔۔ ایم کیو ایم نے اپنا پہلا جلسہ 8اگست 1986 کو نشتر پارک اور پھر دوسرا جلسہ 31 اکتوبر کو حیدرآباد میں کیا جس کے بعد سینکڑوں لوگ الطاف حسین کے قافلے میں شریک ہوئے اور 1987 کے بلدیاتی، اور 1988 کے عام انتخابات نے ایم کیو ایم کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروا کر الطاف حسین کی حمایت کاعملی مظاہرہ کیا اور ایم کیوایم سندھ کے شہری علاقوں کی عوامی طاقت بن کر ابھری ، 1987 میں الطاف حسین کی قیادت اور فکرو فلسفے کو ملنے والا ووٹ آج 2016 میں بھی الطاف حسین کو ہی ملتا ہے ۔ ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت یا الطاف حسین صرف شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک عوامی طاقت کا نام ہے۔ ایم کیو ایم نے پارلیمانی سیاست کا آغاز 1987 سے کیا اور ہر الیکشن میں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے ووٹرز ، ہمدردوں کارکنان اور چاہنے والوں میں اضافہ ہوتا ہی گیا۔۔ ایم کیو ایم کے قائد نے ہمیشہ اپنے کارکنان کو ملک و قوم کی خدمت کا درس دیا ہے جس کا ثبوت ایم کیو ایم کا چئیریٹی ونگ خدمت خلق فاونڈیشن ہے کہ کس طرح سے کے کے ایف کے رضاکاروں اور زمہ داران و کارکنان نے 2005 اور 2008 میں زلزلہ متاثرین کی مدد کی جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، اور پھر اندرون سندھ سیلاب متاثرین کا معاملہ ہو یا تھر میں بھوک افلاس سے دم توڑنے والے معصوم بچے ، یا پھر بڑے بوڑھے ہوں ، ہر طبقے اور مسلک کی عوام کی بلاتفریق خدمت کےلیے کے کے ایف کے رضاکار پیش پیش رہے ہیں ، ایم کیوایم کے قائد کی ہدایات پر جس طرح سے 2005 کے بلدیاتی دور میں سٹی ناظم ، ٹاون ناظمین نے شہر کراچی اورحیدرآباد کے ناظم و کونسلرز نے شہر کی خدمت کی وہ سب کے سامنے ہے ، 2005کے بلدیاتی دور میں ایم کیو ایم کے قائد کی رہنمائی ہی تھی جسکی بدولت ایم کیوایم کے ناظم کو دنیا کے بہترین مئیرز میں شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔۔

ایم کیو ایم نے گزشتہ 32 سالوں میں بہت سے اچھے برے حالات کا سامنا کیا جو ہر حقوق کے لیے چلنے والی تحریکوں کو کرنا پڑتا ہے۔ ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو توڑنے کے لیے بہت سے لوگوں نے بہت کوشش کی کبھی پیسوں سے بھرا بریف کیس بھیجا گیا ، کبھی کارکنان سے جبری الطاف حسین مخالف پریس کانفرنس کروائی گئی تو کبھی بھارتی ایجینسی را کا ایجنٹ کہا گیا ، تو کبھی جناح پور کا نقشہ بنانے کا الزام لگایا گیا ، کچھ قوتوں نے ایم کیو ایم کو توڑنے کے لیے حقیقی گروپ بناکر مہاجروں کو الطاف حسین سے دور کرنے کی کوشش کی ، تو کبھی ظلم و جبر کی انتہا کردی گئی ریاستی آپریشن بھی کرکے دیکھ لیا ہر طرح سے باطل قوتوں نے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو علیحدہ کرنا کی بہت سازشیں کیں مگر کچھ نہ ہوسکا سازشوں کے جال آج بھی جاری ہیں 1992میں بننے والی سازش مائنس الطاف حسین آج بھی جاری ہے ، آج بھی لوگوں سے پریس کانفرنس کروائی جارہی ہیں مگر ماضی میں بھی تمام سازشوں کو عوام نے مسترد کیا تھا اور آگے بھی عوام بری طرح مسترد کرتی رہے گی۔ سازشی عناصر کو اس بات کو بھی زہن میں رکھنا چاہیے کہ 1990 کی مہاجر قومی موومنٹ آج 2016 میں متحدہ قومی موومنٹ ہے اور آج الطاف حسین کے ساتھ مہاجر ہی نہیں پختون ، سندھی ، بلوچ ، ہزارہ وال ، سرائیکی ، پنجابی و دیگر قومیت کے لوگ بھی شامل ہیں ۔
آج جب ایم کیوایم اپنی 32 ویں یوم تاسیس منارہی ہے اور ایسے میں جب الطاف حسین کا پیغام پورے ملک کے چپے چپے میں پھیل رہا ہے، ایم کیوایم پنجاب میں اپنی تنظیمی کاموں کو تیز کرنے جارہی ہے ایسے میں ایک بار پھر 20 سال پرانی کہانی اور سازش دہرائی جارہی ہے اور آج بھی ماضی کی طرح گھنٹوں گھنٹوں کی پریس کانفرنس اور پھر وہی تیزی سے تبدیل ہوتی وفاداریاں اور جاگتے ضمیر ہمارے سامنے ہیں۔
ایم کیو ایم اور الطاف حسین کی 32 سالہ جدوجہد لازوال قربانیوں سے بھری پڑی ہے جس میں ہزاروں کارکنان کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کے قائد کے بھائی اور بھتیجے کا خون بھی شامل ہے۔ الطاف حسین نے وہ کردکھایا جو کوئی کبھی سوچ نہیں سکتا تھا عام آدمی کو ایک ایسا پلیٹ فارم ایسی جماعت دے دی جس سے وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرسکتا ہے ، جاگیردار وڈیروں اور سرمایہ داروں کے سامنے ایوانوں میں ایسے نوجوانوں کو لاکھڑا کردیا جو یہ 2 فیصد مراعات یافتہ طبقہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ عام پڑھے لکھے نوجوان ملک کی خدمت کے لیے آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں یہ ہی وہ وجہ ہے کہ آج تک پاکستان میں الطاف حسین کو ہر دور میں بھونڈے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوام میں ہمیشہ ایم کیو ایم کے خلاف منفی پروپیگنڈہ پھیلاکر پورے ملک میں پھیلنے سے روکنے کےلیے غلط تاثر پیدا کرنے کی ناکام کوشیشیں کی جاتی رہی ہیں اور آج تک کی جارہی ہیں ۔ ایم کیو ایم پاکستان کی واحد جماعت ہے جو ملک و قوم کو ترقی کی جانب لے جاسکتی ہے۔ ایم کیو ایم کو آج 2016 میں 32سال ہوگئے ہیں اور اب الزام تراشی کا کھیل ختم ہونا چاہیے جس طرح دیگر جماعتوں کا مینڈیٹ تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح ایم کیو ایم کا بھی مینڈیٹ تسلیم کرلینا چاہیے جو ایک کھلی حقیقت ہے۔ ایم کیو ایم کے اگر مشرف دور کے پانچ سال نکال دیے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس جماعت کو کبھی اپنے پر پھیلانے کا پورا موقع ہی نہیں دیا گیا ، ہر دور میں کسی نہ کسی الزام میں الجھادیا گیا اور پوری جماعت کو عوام میں مشکوک بناکر پیش کیا جاتا رہا میڈیا ٹرائل ہوتا رہا جو سراسر ایک سیاسی جماعت کے ساتھ زیادتی ہے جو بھرپور عوامی مینڈیٹ رکھتی ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم کیو ایم ایک محب وطن جماعت ہے اور اسکے قائد نے ہمیشہ ملک و قوم کی خدمت کا عزم ظاہر کیا ہے مگر بات ہے تسلیم کرنے اور موقع دینے کی۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان کی ترقی کےلیے ضروری ہےکہ اب ملک میں الزامات کی سیاست اور سازشی ہتھکنڈوں کو ختم کر کے ایک نئے سفر کا آغاز کرنا چاہیے جس طرح ماضی 2002 سے 2007 تک کے دور میں الطاف حسین ، ایم کیوایم کو عوام کی خدمت کا موقع دیا گیا اسی طرح ایک بار پھر اس جماعت کو موقع دیا جائے تو ہوسکتا ہے شہر کراچی ، سندھ اور پاکستان ماضی سے زیادہ بہتر انداز میں ترقی کی جانب سفر طے کرسکتا ہے مگر یہاں بات ہے صرف حقیقت تسلیم کرنے کی۔

Advertisements