ایم کیوایم کی جہد مسلسل

جب دنیا میں کسی خطہ ارض پر حکمرانی کرنے والوں کی جانب سے کبھی کسی قوم پر زمین تنگ کردی جاتی ہے اور انکی طرف سے اپنے ناپاک عزائم اور زاتی مفادات و مقاصد کو حاصل کرنے کےلیے مخصوص طبقے اور قوم کا استحصال کیا جانے لگے , سیاسی و اقتصادی قتل عام ہونے لگے , جائز حقوق غضب کیے جانے لگیں تو ظلم کی چکی میں پسنے والی قوم کا حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھانا ناگزیر ہوجاتا ہے . پاکستان میں بسنے والی غریب عوام گزشتہ 60 سالوں سے حکمرانوں کی زیادتیوں کا شکار ہے . پاکستان میں بہت سی سیاسی و مزہبی جماعتیں ہیں جو باتیں تو غریب عوام کے مسائل کی کرتی ہیں مگر عملی اقدام کسی کا نظر نہیں آتا . جہاں پاکستان میں بہت سی سیاسی جماعتیں لفاظی کرنے میں مصروف ہیں وہی ایک تحریک اور سیاسی جماعت بھی ہے جو کافی حد تک اپنے منشور پر پورا اترتی نظر آتی ہے.

متحدہ قومی موومینٹ پاکستان کی واحد سیاسی جماعت اور قائد ایم کیو ایم الطاف حسین واحد قائد ہیں جس نے ملک کے غریب محکوم عوام کی حکمرانی کے خواب کے لیے عملی جدوجہد میں مصروف ہیں. ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت سے بڑھ کر ایک جہد مسلسل ہے جس نے اپنا آغاز 11 جون 1978 کو جامعہ کراچی سے مہاجر طلبہ کے حق کے لیے جدو جہد کا آغاز کیا اور پھر یہ جدوجہد 18 مارچ 1984 کو مہاجر قوم کے حقوق کے حصول کی راہ پر گامزن ہویء. . 28 فروری 1987 میں ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے لیبر ڈویڑن کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد مزدوروں کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھانا ہے . . جیسے جیسے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی جدوجہد آگے بڑھتی رہی ویسے ہی جاگیردار وں وڈیروں کو غریب عوام پر اپنی حکمرانی خطرے میں نظر آنے لگی اسی خطرے کے پیش نظر حکمران ٹولے نے اس جدوجہد کو روکنے اور ختم کرنے کےلیے غیرآئینی اقدامات کرنا شروع کردیے .. ایم کیو ایم کی جہد مسلسل میں ہزاروں اردو بولنے والے مہاجروں کا لہو شامل ہے حکمران طبقے نے اس جہد مسلسل کو ختم کرنے کے لیے سانحہ قصبہ و عالیگڑھ کالونی 14 دسمبر 1986, سانحہ سہراب گوٹھ , سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد , سانحہ 30 ستمبر 1988, سانحہ 26, 27 مئی حیدرآباد , 1992 کا آپریشن اور دیگر ایسے سانحات رونما ہوئے جس کی جتنی مزمت کی جاے کم ہے. .

ایم کیو ایم کی اس جہد مسلسل کو روکنے کے لیے حکمرانوں نے نہ صرف عام شہریوں کا قتل عام کیا بلکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بھایءبھتیجے کو بھی شہید کردیا گیا . . ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے بھایءبھتیجے کی قربانی کے باوجود اس جہد مسلسل کو جار ی رکھا اور 25 جولا یء1997 کو اس جدوجہد مسلسل کا دائرہ پورے ملک میں پھیلانے کا آغاز کیا اور آج ایم کیو ایم پورے ملک کے 98 فیصد غریب متوسط عوام کے حقوق کے لیے بھرپور آواز بلند کررہی ہے. . ایم کیو ایم کی جہد مسلسل جوکہ الطاف حسین کی قیادت میں 1978 میں شہر کراچی سے شروع ہویءاور آج 2016 میں اندرون سندھ , صوبہ پنجاب, پختونخواہ , ملک کے کونے کونے میں اس جہد مسلسل کی آواز سنی جاسکتی ہے .. ہزاروں شہداءکی قربانیوں اور قائد الطاف حسین کی قائدانہ صلاحیتوں کا نتیجہ ہے کہ ایم کیو ایم 2013 کے عام انتیخابات کے بعد 51 ایم پی اے ، 24 ایم این ایز ، اور 8 سینیٹرز کے ساتھ ایک بڑی طاقت بن کر ابھری جو دنیا نے دیکھا مگر نہ جانے کیوں ہم نے ہمیشہ ایسا ہوتا دیکھا ہے کہ جب بھی ایم کیو ایم سندھ کے باہر دیگر صوبوں اور پورے پاکستان میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اپنے پر پھیلانے کی کوشش کرتی ہے تو اسکے پر کاٹنے کے لیے سازشوں کے جال مزید تیزی سے بننا شروع کردیے جاتے ہیں پہلے ایم کیو ایم حقیقی بناکر 92 میں مہاجروں کی طاقت اور عوام میں الطاف حسین کےلیے محبت ختم کرنے کی کوشش کی گئی مگر نتیجہ صفر نکلا اور آج پھر 2016 میں بھی اسی سازش کا ڈرامہ رچانے کی کوشش کی جارہی ہے جو ایک بار پھر ناکام ہوگی کیونکہ عوام کی طاقت اور محبت 92 کی طرح آج 2016 میں بھی الطاف حسین کے ساتھ ہی ہے۔ آج ایم کیو ایم ملک کی چوتھی اور سندھ کی دوسری بڑی جماعت ہے . الطاف حسین کے نظریے کی سچایءاور اپنی قوم سے محبت ہی ہے کہ عوام ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی 25 سال سے جلاوطنی کے باوجود ان کی آواز پر لبیک کہتے ہیں جو ہر عام اور بلدیاتی انتیخابات میں ایم کیو ایم کے امیدواروں کی کامیابی سے واضح ہے. انشاءاللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے 98 فیصد غریب متوسط طبقے کی عوام ملک پر قابض 2 فیصد مراعات یافتہ طبقے سے نجات حاصل کرینگے اور ملک کے تمام طبقات کے لوگوں کو یکساں انصاف میسر ہوگا یہ ایم کیوایم کی جہد مسلسل الطاف حسین کی قیادت و رہنمای میں اپنے حقوق کے حصول میں کامیاب ہوگی .

Advertisements