کیا ہم تیار ہیں ؟

دنیاے کھیل میں سب سے زیادہ شوق سے کھیلے جانے والا کھیل کرکٹ ہے جسے دنیا بھر میں جنٹل مین گیم سے جانا جاتا ہے کیونکہ اس گیم کی سمجھ رکھنے والے صرف اچھے کھیل کو ترجیح دیتے ہیں ناکہ اپنی فیورٹ ٹیم اور اپنے فیورٹ کھلاڑی کو۔ کرکٹ کو دنیاے کھیل میں منفرد حیثیت اس لیے بھی حاصل ہے کہ یہ ایسا کھیل ہے جسکے بارے میں اخری لمحات میں بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا اور جب سے کم دورانیے مطلب ٹی 20 طرز کی کرکٹ کا آغاز ہوا تب سے اسکے شائقین میں مزید اضافہ ہوا ہے ، حال ہی میں پاکستان بنگلہ دیش میں ہونے والے پہلے ٹی 20 ایشیا کپ میں ایشیا کی 4 ٹیموں بھارت ، سری لنکا، بنگلہ دیش اور متحدہ عرب امارات کے مدمقابل تھا۔ پاکستان کا پہلا میچ روایتی حریف بھارت کے خلاف 27 فروری کو میرپور میں تھا، بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے پاکستان کو کھیلنے کی دعوت دی۔ پاکستانی شائقین میچ سے قبل بہت پرامید تھے کہ ہم بھارت کو شکست دے دینگے مگر پاکستانی شائقین کرکٹ کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ہماری تجربہ کار بیٹنگ لائن اپ کو بھارتی نوجوان باولرز نے 83 کے کم ترین اسکور پر ڈھیر کردیا اور کوئی بھی نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکا۔۔ محمد حفیظ ، شعیب ملک ، عمر اکمل ، شاہد آفریدی، شرجیل خان، خرم منظور اور سرفراز احمد پر مشتمل ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرسکتا کہ ہماری کرکٹ اتنی حد تک خراب ہوچکی ہے۔ کئی سالوں کا تجربہ رکھنے والے کھلاڑی بھارت کے نوجوان باولنگ لائن اپ کے آگے اس طرح ڈھیر ہوئے جیسے ہمارے کھلاڑیوں کو کھیلنا ہی نہیں آتا۔ جواب میں پاکستانی باولرز نے بہت عمدہ شروعات کی مگر کچھ نہ ہوسکا۔۔ اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا مکمل کرکے کرکٹ کی دنیا میں واپسی قدم رکھنے والے محمد عامر نے اپنے 4 آورز کے اسپیل میں زبردست باولنگ کا مظاہرہ کیا اور 18 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں لیکن دوسری طرف کوئی باولر وقت پر وکٹ نہ لے سکا ، لیکن آخر میں کچھ رنز قبل محمد سمیع نے 2 وکٹیں اپنے نام کیں اور محتاط انداز سے کھیلتے ہوئے بھارت نے 83 رنز کے آسان ہدف کو 16 ویں آور میں پورا کرلیا اور یوں پاکستان کو ایشیا کپ ٹی 20 میں ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان ٹیم نے اپنا دوسرا میچ 29 فروری کو متحدہ عرب امارات کےخلاف کھیلا جس میں متحدہ عرب امارات نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ، یو اے ای نے دھیمے انداز میں اپنی اننگ کا آغاز کیا اور محمد عامر کی بہترین بالنگ نے یواےای کے ہوش اڑادیے ، محمد عامر نے کفایت شعاری سے بالنگ کراتے ہوئے 4 آورز میں 6رنز کے عوض 2 وکٹیں لیں ، اسکے اعلاوہ محمد عرفان نے 2 ، محمد سمیع اور ،شاہد آفریدی نے 1 1, وکٹ لی اور متحدہ عرب امارات کو 20 آورز میں 130 رنز تک محدود کردیا۔ جواب میں پاکستان ٹیم کے اوپننگ پئیر نے ایک بار پھر ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا جب 17 پر 3 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے اور 130 رنز کا کم ترین اسکور اور یواےای کی کمزور ٹیم بھی طاقتور نظر آنے لگی ، تین وکٹ گرجانے کے بعد شعیب ملک اور عمر اکمل نے زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محتاط انداز میں اسکور آگے بڑھایا اور دونوں نے اپنی نصف سینچریز مکمل کیں اور بالاخر پاکستان ٹیم نے 4 چوتھی وکٹ کی 114 رنز کی شراکت داری کی بدولت 19ویں آور کی چوتھی بال پر میچ جیت لیا اور یوں پاکستان کو ایشیا کپ میں پہلی فتح نصیب ہوئی ۔

464084-image-1457106642-722-640x480

پاکستان کا تیسرا میچ 2 مارچ کو بنگلہ دیش کے شہر میرپور میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان کھیلا گیا جو دونوں ٹیموں کے لیے ڈو اور ڈایء کی اہمیت کا حامل بھی تھا ، میچ کے آغاز میں پاکستان ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا کیونکہ کپتان اور پیچ اینیلسٹس کے مطابق پچ بیٹنگ کے لیے سازگار تھی مگر میدان میں ایسا کچھ نظر نہیں آیا ، ایک انتہیاءاہم میچ میں بھی پاکستان کا اوپننگ پئیر ایک بار پھر بری طرح ناکام دکھائی دیا ، اور مڈل آرڈر ہمارا آج تک سیٹ نہیں ، بنگلہ دیش کے خلاف بھی ہمارا ٹاپ آرڈر ریت کی دیوار ثابت ہوا اور 18 رنز کے اسکور پر پاکستان ٹیم اپنی 3 وکٹ گنوا چکی تھی ایسے میں شعیب ملک اور سرفراز احمد نے ٹیم کو سہارا دیا مگرکچھ خاص اثر نہ ہوسکا ، سرفراز اور ملک کی محتاط اور زمہ درانہ بیٹنگ نے ٹیم کو سہارا تو دیا مگر بنگلہ دیش کے خلاف بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے جسکی بڑی وجہ ہمارے کھلاڑیوں کا حد سے زیادہ ڈاٹ بالز کھیلنا ہے۔پاکستان کی جانب سے سرفراز نے 58 ناٹ آوٹ اور شعیب ملک نے 41 رنز اسکور کیے ، پاکستان ٹیم نے مقررہ 20 آورز میں بنگلہ دیش کو 130 رنز کا ہدف دیا جوکہ موجودہ دور کی تیزترین کرکٹ کے تاریخی اعتبار سے کوئی بڑا ہدف نہ تھا۔ بنگلہ دیش نے 130 رنز کے ہدف کو حاصل کرنے لیے اچھی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آہستہ آہستہ پچ پر وکٹ جمانے کی کوشش کی مگر وقتاً فوقتاً گرتی وکٹوں نے ایک وقت بنگلہ دیش کو مشکل میں ڈال دیا تھا مگر پاکستان کی جانب سے محمد عامر کے اعلاوہ کوئی ایسا بالر نہیں تھا جو وقت پر وکٹیں لے لیتا تو پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوسکتی تھی مگر ایسا ہو نہ سکا اور پھر آخر میں محمد سمیع کی دو نو بالز نے بنگلہ دیش کی فتح کو یقینی بنادیا اور یوں سنسنی خیز مقابلے کے بعد بنگلہ دیش نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر پاکستان کو ایشیا کپ سے باہر کرکے اپنے لیے فائنل میں جگہ بنالی اور دوسری جانب بھارت پہلے ہی ایشیا کپ ٹی20  کے فائنل  کے لیے جگہ بنا چکاتھا۔ پاکستان ایشیا کپ میں اپنے تیسرے میچ میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں 5 وکٹوں سے شکست کا منہ دیکھنے کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا ۔ پاکستان ٹیم نے اپنا ایشیا کپ کا آخری میچ سری لنکا کے خلاف 4 مارچ کو کھیلا جو دونوں کے لیے کوئی خاص اہمیت کا حامل نہ تھا ، ایشیا کپ کے آخری میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ، سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 آورز میں 150رنز کا ہدف دیا ، جواب میں پاکستان ٹیم نے19ویں آور میں 150رنز کا ہدف مکمل کرکے باآسانی سری لنکا کو 5 وکٹوں سے شکست دی اور  پھر یوں پاکستان ٹیم کا ایشیا کپ 2016 میں سفر ختم ہوگیا ۔ایشیا کپ کے 4 میچوں میں کوئی پاکستانی کھلاڑی نمایاں کارکردگی نہ دکھاسکا سوائے محمد عامر کے جس نے تمام میچز میں بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کیا۔۔ ایشیا کپ اور اس سے قبل ٹی 20 میچز میں پاکستانی ٹیم کی پرفارمنس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے ہماری کوئی تیاری نہیں ہے جہاں ہمیں دنیا کی بہترین ٹیموں کے مدمقابل ہونا ہے اس وقت پاکستان ٹیم میں احساس زمہ داری کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کی تسلسل کے ساتھ ٹی 20 میچز میں بری پرفارمنس سے پاکستان ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی اور چیرمین بورڈ شہریار خان تو مطمئن ہوسکتے ہیں مگر شائقین کرکٹ بالکل مطمئن نہیں۔ ہمیں دیگر کھلاڑیوں کی ٹیم پرفارمنس سے سبق سیکھنا چاہیے جیسے بھارت کے ویرات کوہلی ، روہیت شرما، اسٹریلیا کے اسٹیواسمتھ ، ڈیوڈ وارنر ، اسی طرح ساوتھ آفریقہ کے ہاشم آملہ ، اے بی ڈی ویلیئرز اور دیگر کھلاڑی ہیں جوکہ تسلسل کے ساتھ اپنی ٹیم کے لیے مشکل سے مشکل وقت میں اپنی ٹیم کے لیے پرفارمنس دیتے ہیں ۔

463353-AFP-1457000997-223-640x480

 

ایک غریب ملک کی شاہانہ پاکستان سپر لیگ سے پاکستان ٹیم کو کتنی رکعت کا ثواب ملا۔ ۔ سوال یہاں یہ ہے کہ کیا ہم ورلڈ ٹی 20 میں اچھی پرفارمنس کے لیے تیار ہیں ؟ پاکستان کی ایشیا کپ میں پرفارمنس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پریکٹس اور پاکستانی کھلاڑیوں کی پرفارمنس کی بہتری کے لیے منعقد ہونے والی پاکستان سپر لیگ سے ٹیم کی پرفارمنس میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ہاں مگر پاکستان سپر لیگ میں پیسہ لگانے والوں کی ضرور عید ہوگئی ۔ اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالے تو پتہ چلتا ہے کہ فتح ہم سے بہت دور ہے ۔ پاکستان ٹیم نے گزشتہ چند ماہ کے درمیان اب تک 14 ٹی 20 میچز کھیلے ہیں جس میں سے صرف 2 میں ہی فتح نصیب ہوئی ہے اور باقی 12 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔۔ ان اعدادوشمار پر ہم کپتان ، کوچ اور ٹیم مینجمنٹ کو سلیوٹ ہی کرسکتے ہیں جو بری پرفارمنس کے باوجود اپنی بری پرفارمنس کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کو تیار نہیں۔۔

پاکستان میں ٹیلینٹ کی کمی نہیں مگر بات صرف صحیح وقت پر صحیح کھلاڑی کو موقع ملنے کی ہے۔ ہاکی ہو یا فٹ بال اور یا پھر بات ہو کرکٹ کی پاکستان میں ایسے نوجوان کھلاڑی موجود ہیں جو اپنے ٹیلینٹ سے ملک و قوم کا نام روشن کرسکتے ہیں بشرطیکہ انہیں موقع دیا جائے اور موقع اسی صورت میں ملے گا جب ہمارے متعلقہ حکام کھیلوں کی سرگرمیوں پر صحیح طرح سے پیشہ ورانہ طور پر توجہ دینگے۔پاکستان میں بہت سے ایسے نوجوان کھلاڑی موجود ہیں جو قومی ٹیم کے لیے بہت کچھ کرسکتے ہیں مگر وہ اس موقع یا چانس کے منتظر ہیں جو انہیں انٹرنیشنل میچز تک لے جائے ۔ ہم تجربہ کا راگ الاپ الاپ کر نئے ٹیلنٹ کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا مکمل موقع دیتے ہی نہیں ، فواد عالم ، اسد شفیق ، رضا حسن ، خالد لطیف ، و دیگر ایسے باصلاحیت نوجوان کھلاڑی پاکستانی ٹیم کے لیے دستیاب ہیں مگر مسئلہ صرف اتنا ہے کہ یہ ٹیم سلیکشن کمیٹی کی گڈ بک میں نہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ٹیم کو حفیظ ، آفریدی اور ملک کی غیر معیاری پرفارمنس دیکھ کر مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی ایشیا کپ اور دیگر ٹی 20 سریز میں بری شکستوں کے بعد شائقین کرکٹ کے لیے بھی ایک فیصلہ کن وقت ہے کہ آیا ہمیں اب بھی اپنے سپر اسٹار کو برداشت کرنا ہے یا پھر اب کسی نوجوان کھلاڑی کو ٹی 20 کا کپتان بنا کر پاکستان ٹیم کے بہتر مستقبل کےلیے حوصلہ بخشنا چاہیے۔ ۔

463543-sheryarkhan-1457011297-395-640x480.gif

Advertisements