منی لاونڈرنگ کیس

پاکستان کی چوتھی اور سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ جوکہ اپنے قیام سے ہی الزامات کا سامنا کرتی چلی آرہی ہے مگر آج تک اس پر لگنے والا کوئی ایک الزام بھی ثابت نہ ہوسکا۔ سال 2010 میں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق صاحب کو 16ستمبر کو لندن میں چھریوں کے وار سے شہید کردیا گیا تھا جس کی تفتیش آج بھی جاری ہے ، ڈاکٹر عمران فاروق  کے قتل کی تفتیش جاری ہی تھیں کہ 2012 ، 6 دسمبر کو قتل کی تفتیش کا رخ منی لاونڈرنگ کی جانب مڑ گیا ۔ ۔ ۔  بس اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے یہ خبر آئی ہی تھی کہ پاکستان میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئ اور ایم کیو ایم کی قیادت اور ایم کیوایم کے خلاف زہرافشائ عروج پر پہنچ گئی ۔ ۔ 

Scotland-yard-640x392.jpg

جولائی 2013 میں سرفراز مچنٹ نامی شخص اور دیگر سے منی لاونڈرنگ کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی مگر برطانوی پولیس کو کوئی ٹھوس دلائل نہ ہونے کی صورت میں ضمانت پر چھوڑنا پڑا ۔ ۔  پاکستان میں 3جون 2014کو میڈیا نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی منی لاونڈرنگ کیس کی تفتیش کے لیے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے گھر  چھاپے کو بہت بڑا چڑھا کر پیش کیا گیا.میٹروپولیٹن پولیس نے الطاف حسین صاحب کے گھر چھاپہ مار کر 3 جولائی کو  منی لاونڈرنگ کیس میں باقاعدہ شامل تفتیش کیا اور حراست میں لےلیا گیا ۔ چھاپے کے دوران الطاف حسین کے گھر سے اسکاٹ لینڈ یارڈ نے انکی بیٹی کا لیپ ٹاپ ، الطاف حسین صاحب کے پاس رکھے تحریک کے اخراجات کے پیسے اور دیگر بہت سے ڈاکیومینٹس بھی اپنے قبضے میں لے لیے تھے،  ، ابھی یہ خبر آئی ہی تھی کہ پاکستانی میڈیا پر عدالتیں لگ گئیں اور بہت سے قانون دانوں ، تجزیہ نگاروں نے پاکستانی عوام تک اس خبر کو اس طرح اچھالا کہ جیسے الطاف حسین کو خدانخواستہ کوئی سزا دے دی گئی ہے ۔ ایم کیو ایم کے قائد کے گھر سے ملنے والے پونڈذ کے متعلق کئ دنوں تک قیاس آرائیاں ہوتی رہی میڈیاپورے چار دن تک اس میں مگن رہا اور دوسری جانب ساوتھ پولیس اسٹیشن لندن میں الطاف حسین کی 4 دن کی حراست میں بھی برطانوی پولیس چارج نہ کرسکی اور 7 جولائی 2014کو ضمانت پر رہا کردیا گیا اور جس طرح 4 جولائی 2014 کو  پاکستان میں انکی گرفتاری پر سوگ کا سماں ہوگیا تھا وہی سوگ 7 جولائی 2014کو ایک بہت بڑے جشن میں تبدیل ہوگیا  ۔ ۔  منی لاونڈرنگ کیس میں 7 جولائی 2014کی ضمانت کے بعد 4 مرتبہ الطاف حسین صاحب کو ٹھوس دلائل نہ ہونے کی صورت میں برطانوی پولیس کی جانب سے ضمانت ملتی رہی  ۔

http://dailyshelter.com/2014/muttahida-qaumi-movement-chief-altaf-hussains-bail-extends/

http://www.dailytimes.com.pk/national/03-Dec-2014/london-police-extends-bail-of-altaf-in-money-laundering-case

http://www.geo.tv/latest/6565-altaf-hussains-bail-extended-in-money-laundering-case

http://arynews.tv/en/money-laundering-case-altaf-hussain-to-appear-before-london-police-today/

 

 

منی لاونڈرنگ کیس کی  تفتیش کے سلسلے میں  2 فروری 2016 کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو ساوتھ پولیس اسٹیشن لندن میں پیش ہونا تھا مگر اس سے ایک دن قبل ہی یکم فروری 2016 کو میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے ایم کیو ایم کے لندن میں موجود رہنماوں کو آگاہ کیا گیا کہ الطاف حسین صاحب کو پولیس اسٹیشن میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میٹروپولیٹن پولیس نے اپنے باقاعدہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور انکے دیگر ساتھیوں محمد انور ، طارق میر اور دیگر کو اب پولیس اسٹیشن میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے اورانکی ضمانتیں منسوخ کردی ہیں  کیونکہ انکے خلاف ایسے کوئی ثبوت نہیں جس پر انہیں چارج کیا جائے یا فرد جرم عائد کی جائےمگر منی لاونڈرنگ کیس کی تحقیقات جاری رہےگی۔ میٹروپولیٹن کے واضح بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ان پر عائد تمام شرائط بھی ختم کردی گئی ہیں  ۔  لندن سے یہ خبر بریک ہونے کی دیر تھی کہ بس ایم کیو ایم کا مرکز جگمگا اٹھا ہر طرف خوشی کا سماں بند گیا ، ایم کیو ایم کے کارکنان کی الطاف حسین کے خلاف لندن میں منی لاونڈرنگ کے  چارجز  ختم ہونے پر ایم کیوایم کے دفاتر میں جشن منایا گیا مٹھائیاں تقسیم کی گئیں  ، رات گئے تک لوگ ایم کیو ایم کے مرکز پر جشن مناتے رہے تحریکی ترانے نغمے گاے گئے ، ہر طبقہ ہر فرداپنے قائد سے محبت کا اظہار کرتا دکھائی دیا اور آخر میں ایم کیو ایم کے قائد نے مرکز 90 اور پاکستان میں مختلیف زونز پر جمع اپنے کارکنان سے ویڈیو لنک کے زریعے خطاب کیا جسے بیک وقت ہزاروں لوگوں نےسنا۔  ایم کیو ایم جوکہ اپنے قیام سے لیکر آج تک  ہمیشہ مشکلات کا سامناکرتی رہی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جتنی بار بھی متحدہ قیادت  اور کارکنان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اسکے بعد متحدہ قومی موومنٹ ایک بڑے مینڈیٹ کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی رہی ہے کیونکہ ایم کیو ایم کے خلاف کیسیس اور سازش کوئی نئ بات نہیں ۔ ایک طرف لندن میں منی لاونڈرنگ کیس میں الطاف حسین صاحب کو کلین چٹ دے دی گئی ہے اور دوسری طرف پاکستان میں الطاف حسین صاحب کے میڈیا بلیک آوٹ کا سلسلہ جاری ہے جس کے خلاف متحدہ کا مختلیف شہروں میں  احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔  ایم کیو ایم کے قائد کے خطابات کی نشرواشاعت پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والے شرکاء سے جب تاثرات لیے گئے تو اس سے ایسا نظر آیا کہ لندن میں منی لاونڈرنگ کیس کے خارج ہونے کے بعد کارکنان اپنے قائد کےلیے پرعزم ہیں کہ جس طرح لندن میں حق کی فتح ہوئی ہے اسی طرح پاکستان میں بھی حق کی فتح ہوگی اور ایک بار پھر الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر کی نشرواشاعت کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

http://tribune.com.pk/story/1034469/mqm-set-to-stage-protests-in-karachi-over-altaf-hussain-speech-ban/

Advertisements