پاکستان میں اظہار رائے پر پابندی

پاکستان میں گزشتہ 8 سالوں سے جمہوری نظام قائم ہے مگر گزشتہ چند ماہ سے ایسے غیر جمہوری اقدامات نظرآرہے ہیں جس کے بعد جمہوریت اور آمریت کے درمیان فرق ختم ہوتا دکھائی دےرہا ہے . کبھی ہم نے کسی جمہوری حکومت میں ایسا نہیں دیکھا ہوگا کہ کسی جماعت کے سربراہ ، کسی لیڈر یا کسی قائد کی تصویر اور بیانات کی نشریات پر پابندی لگائی گئی ہو، ایک جمہوری دور میں ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد کے بیانات اور تصویر شایع کرنے اور انکی تقاریر کی  براہ راست نشریات پر پابندی لگنا حیرت انگیز بات ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں اور انکی حمایت کرنے والوں کی تصاویر اور تقاریر کی نشر و اشاعت پر مکمل آزادی ہے مگر دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھانے والے شخص کی آواز پر مکمل پابندی ہے ۔ پاکستان میں ایک طرف ٹھوس شواہد نہ ہونے پر کالعدم تنظیم کے سربراہ  زکی  الرحمان کو عدالت سے رہا کردیا جاتا ہے ، کالعدم تنظیمیں کھلے عام ریلیاں نکال سکتی ہیں  ، میڈیا پر بیان دے سکتی ہیں،  مگر دوسری طرف  ایک جمہوری جماعت کے قائد کے اظہار رائے پر  پابندی ہے ۔ پاکستان میں الطاف حسین صاحب کی تقاریر پر پابندی سے دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد  دہشت گردوں کے خلاف ہمیشہ سے آواز بلند کرتے آے ہیں  اسکے باوجود انکی تقاریر پر پابندی ایک سوالیہ نشان ہے ۔

images (3).jpg

اگست 2015 میں غیراعلانیہ طور پر ایم کیوایم کے قائد کی تقاریر  اور انٹرویوز کی  نشریات بند کی گئی اور پھر اسکے بعد  یکم ستمبر 2015 کو  لاہور ہائی کورٹ  میں الطاف حسین صاحب کی تقاریر پر پابندی کے لیے دائر  پٹیشن کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلہ سامنے آیا کہ  ایم کیوایم کےقائد الطاف حسین کی تقاریر کی براہ راست نشریات بند کردی جاے  ، اسکے اگلے ہفتے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے  الطاف حسین صاحب کا مکمل بلیک آوٹ انکے تصاویر کے شایع نہ کرنے اور تقاریر براہ راست نشر نہ کرنے  کا حکم دے دیا گیا ۔ ایم کیو ایم نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے دیے گئے الطاف حسین صاحب کے متعلق فیصلے کوعدالت میں چیلنج کررکھا ہے ۔ ۔  ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین پاکستان کے پہلے لیڈر ہیں جنکے خلاف اس طرح کا فیصلہ سامنے آیا ہے ۔  ایم کیو ایم گزشتہ چند ماہ سے اپنے قائد کے خلاف آنے والے اس فیصلے پر کئ  مرتبہ احتجاج ریکارڈ کرواچکی ہے ، کئ مرتبہ صوبائی اور قومی اسمبلی میں بھی آواز اٹھا چکی ہے مگر اب تک کسی نے الطاف حسین صاحب کے ساتھ ہونے والی ناآنصافی کے خلاف انکی آواز سے آواز نہیں ملائی ۔  پاکستان کے  آئین کا آرٹیکل 19  ہر شخص کو آزادی دیتا ہے کہ وہ اپنا  اظہارخیال کرے ، اپنی بات کہہ سکے ،  مگر اس اجازت کے باوجود کسی کے اظہار خیال پر پابندی عائد کرنا دراصل اسکے بنیادی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ الطاف حسین ہزاروں مظلوم کی آواز ہے،  ، ایم کیو ایم کے سینیٹرز، ایم این ایز، ایم پی ایز ، کونسلرز، چیئرمین  ، وائس چیئرمین  ،کو  ملنے والے ووٹ امیدوار کو نہیں صرف الطاف حسین کو ملتے ہیں

دنیا کے قانون ہی نہیں بلکہ اسلام بھی ہر شخص کو اظہار راے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔  رسول اللہ ؐ  اور صحابہ کرام کی زندگی سے ہمیں واضح مثالیں ملتی ہیں کہ اسلام ہمیں ہرطرح کی بات  کے اختلاف یا اپنی  راے کے اظہار کی اجازت دیتاہے سواے ان احکامات کے جو  اللہ اور اسکے رسول نے بیان کیے ہیں۔
رسول اکرمؐ  کا فرمان ہےکہ  :
جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل جہاد ہے ۔
اس زمین میں ظلم وجبر کے خلاف آواز اٹھانا اور حکام کی راے سے اختلاف کرنا۔

حکام سے جواب طلب کرنا اور اپنے راے کا برملا اظہار کرنا اصحاب اور سلف کے طریقے سے ثابت ہے ۔ 
قومی و بین الاقوامی  قوانین اور اسلام کے مطابق کسی کی اظہار راے کی آزادی پر پابندی لگانا یا اسکی آواز دبانا اور موقف پیش نہ کرنے دینا اسلامی تعلیمات کے منافی  ٰٰغیر آئینی اور غیرقانونی ہے ۔ بین الاقوامی فورم انٹرنیشنل لاء آف ہیومن رائٹس کے آئین کے ارٹیکل 19کے مطابق بھی ہر فرد اپنے اظہار راے کی مکمل آزادی رکھتا ہے مگر اس کے باوجود پاکستان کی چوتھی و سندھ کی دوسری بڑی جماعت کے قائد کے  اظہار راے پر پابندی کا اطلاق سمجھ سے بالاترہے۔

images (4).jpg

 

Advertisements