تعلیمی ادارے دہشت گردوں کے نشانے پر

پاکستان میں ایک  سال قبل 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردووں نے اپنی  درندگی سے 140 سے زائد افراد کو شہید کیا تھا جس میں بڑی تعداد معصوم طلبا کی تھی جو علم کے حصول کے لیےگھر سے روانہ ہوئے تھے جو واپس گھر نہ لوٹ سکے ۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد پورے ملک کی عوام نے بہت ہی جرات اور ہمت کو مظاہرہ کیا اور دہشت گردوں کو پیغام دیا کہ یہ قوم کسی بھی دہشت گردی سے ڈرنے والی نہیں ہے  ۔  ابھی سانحہ آرمی پبلک اسکول کو 14 ماہ ہی گزرے تھے کہ 20 جنوری 2016 کو پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں باچاخان یونیورسٹی میں 4دہشت گردوں نے داخل ہوکر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں ایک پروفیسر سید حامد حسین ( برسٹل یونیورسٹی برطانیہ سے شعبہ کیمیاء میں پی ایچ ڈی کی سند یافتہ )  سمیت 21 افراد شہید ہوئے اور کئ زخمی ہوئے جن میں معصوم طلبہ بھی شامل ہیں۔  پختونخواہ میں ریڈالرٹ کےباوجود سیکورٹی انتیظامات نہ ہونا صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت ہے۔سانحہ باچا خان یونیورسٹی کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے ۔

CZJihJSWAAA3cMe.jpg

گزشتہ چند ماہ سے دنیا بھر میں تعلیمی درسگاہوں پر دہشت گردوں کے حملے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ دنیا بھر میں رونما ہونے والے واقعات کی معلومات  کےلیے ایک آسان زریعہ یونیورسٹی آف مری لینڈ کا گلوبل ٹررزم ڈیٹابیس ہے جس سے ہمیں باآسانی  اعداد وشمار مل سکتے ہیں  ۔

  گلوبل ٹررزم کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ تعلیمی اداروں پر حملے میں اموات ہوئیں جسکی کل تعداد 450 سے زائد ہے اسکے بعد بین الاقوامی سطح پر دیکھا جاے تو وہ رشیا ( روس )  ہے جہاں 361 اموات ہوئیں جس میں سانحہ بسلان یکم ستمبر 2004 بھی شامل ہے جسکے نتیجے میں 300 افراد ہلاک ہوئے  جس میں معصوم طلبا بھی شامل تھے  ۔    گلوبل ٹررزم ڈیٹا بیس کے مطابق 1970سے لیکر 2015 تک تعلیمی اداروں  پر سب سے زیادہ حملے ایشیا  (1436)  میں ہوئے اور اسکے بعد دوسرے نمبر پر مشرق وسطیٰ  ( 636) میں دہشت گرد حملے دیکھنے میں آے۔   پاکستان میں تعلیمی اداروں پر ماضی میں  کئ مرتبہ حملے ہوچکے ہیں 

Infographic: Highest number of school attacks by city 2 –  https://infogr.am/highest_number_of_school_attacks_by_city6

Infographic: attack type by region –  https://infogr.am/attack_type_by_region

گزشتہ 5 سالوں میں تعلیمی اداروں پر ہونے والے حملے ۔ ۔  

5 سال قبل 9 مارچ 2011کو درہ آدم خیل فاٹا میں دہشت گردوں نے کوہی وال مڈل اسکول کو نشانہ بنایا ،
17 اپریل 2011 نوشہرہ میں لڑکوں کے اسکول پر حملہ کیا گیا ،
29 اگست 2011 کو  نارتھ ویسٹ پاکستان میں پلانٹڈ دھماکہ کرکے لڑکیوں کے اسکول کو اڑادیا گیا،
8 نومبر 2011 کو خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان میں دہشت گردوں نے دھماکے سے لڑکیوں کے اسکول کو نشانہ بنایا ،
19 جون 2012 دہشت گردوں نے کوئٹہ میں یونیورسٹی کی بس پر حملہ کیا جس میں 4افراد ہلاک ہوئے اور 72 زخمی  اس حملے کی زمہ داری کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی ،

پختونخواہ صوابی  میں 28جولائی 2012 میں گرلز اسکول پر حملہ کیا گیا ،
31 دسمبر 2012 کو خیبر میں گرلز اسکول کے باہر دھماکہ کیا گیا، 
1 مارچ 2013 کو لکی مروت میں بوائز اسکول پر حملہ کیا گیا ،
30 مارچ 2013 کو شہر کراچی میں نجی اسکول پر دستی بم حملہ کیا گیا جسکے نتیجے میں پرنسپل ہلاک اور 4 بچے زخمی ہوئے  ۔
  15 جون 2013 کو کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے کوئٹہ میں بس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 14لڑکیاں ، ڈپٹی کمشنر سمیت 25 افراد ہلاک ہوئے  ۔
21 جون 2013  کو مہمند ایجینسی میں اسکول کو دھماکے سے اڑادیاگیا،  19 اگست 2013 کو مہمند ایجینسی میں بوائز اسکول پر حملہ کیا گیا،
  6 جنوری 2014 کو خیبر پختونخواہ کے ضلع ہنگو میں دہشت گرد نے اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے اسی اسکول کے طالبعلم اعتزاز حسین نے دروازے پر ہی روک لیا اور دہشت گرد نے اسی جگہ پر خودکش دھماکہ کردیا جسکے نتیجے میں ایک بہادر نوجوان طالب علم شہید ہوگیا ، اعتزاز حسن نے خود شہید ہوکر اس وقت اسکول میں موجود دیگر طلبہ کے لیے اپنی جان قربان کردی۔ 

15 فروری 2014 کو ہنگو میں اسکول پر حملہ کیا گیا ، 
8 ستمبر 2014 کو طالبان دہشت گردوں  نے باجوڑ میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا جس میں چوکیدار زخمی ہوا،
  14 نومبر 2014 کو چارسدہ میں ایک اسکول پر دہشت گرد حملہ کیا گیا، 
15دسمبر 2014 کو چارسدہ میں این جی او کے زیر نگرانی چلنے والے اسکول پر حملہ کیا گیا ،
16 دسمبر 2014 آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں نے اپنی بزدلانہ کاروائی سے 144 افراد کو شہید کیا اور کئ زخمی ہوئے  ،
30 دسمبر 2014 کو کرم ایجنسی میں عسکریت پسندوں نے پرائمری اسکول پر حملہ کیااور فرنیچر جلادیا ، 
15 جنوری 2015 کو صوابی گرلز اسکول کے باہر فائرنگ کا واقع پیش آیا ،
3 فروری 2015 کو گلشن اقبال کراچی میں نجی اسکول پر دستی بم حملہ کیا گیا ،
19 مارچ 2015کو شہر کراچی میں نارتھ ناظم آباد میں دستی بم حملہ کیا گیا ،
17 جون 2015 کو باجوڑ ایجنسی میں اسکول پر حملہ کیا گیا ، 5 جولائی 2015کو باجوڑ ایجنسی میں تعلیمی ادارے پر حملہ کیا گیا،
18 اگست 2015 کو باڑہ میں اسکول پر حملہ ہوا ،
29اکتوبر 2015 کو ضلع چارسدہ کے علاقے شبقدر میں ایک اسکول کے باہر ہوائی فائرنگ کی گئی  ،
20 جنوری 2016 کو خیبرپختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گرد حملہ کیا گیا جس میں پروفیسر سمیت 21 افراد شہید ہوئے  ۔ 
اوپر تحریر کیے گئے واقعات صرف وہ واقعات ہیں جو گزشتہ چند سالوں میں پیش آے جس سے ہمارے  حکمرانوں کی سنجیدگی کا باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

CZKf2rNWEAAcjVL.png

چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے سے قبل چارسدہ میں کئ مرتبہ بہت سے  اسکولز پر دہشت گردی کی واقعات رونما ہوچکے تھے اسکے  باوجود ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی  سیکورٹی کے انتیظامات نہ ہونا صوبائی حکومت و دیگر سیکیورٹی اداروں کی ترجیحات پرسوالیہ نشان ہے، ایک ایسا ضلع جو تواتر سے دہشتگرد حملوں کا سامنا کررہا ہے ایسے حساس شہر کی سیکورٹی کے انتیظامات کیوں نہیں کیے گئے ؟ سانحہ باچا خان یونیورسٹی پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی پرفارمنس پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ؟   سانحہ باچا خان یونیورسٹی کے وقت تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے اکثریت وزراء صوبے اور ملک میں موجود ہی نہیں تھے ۔

پاک افواج گزشتہ دو سالوں سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے ، دوسری طرف ملک کے دیگر  شہروں /صوبوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے بنائے جانے والا نیشنل ایکشن  پلان مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں نہ صرف سست نظر آرہا ہے بلکہ ناکام نظر آرہا ہے کیونکہ نیشنل ایکشن پلان کا ہدف  دہشت گردوں کی معاونت اور سہولتکاروں ، کالعدم تنظیم و دیگر جرائم میں ملوث  افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لانا تھا مگر نیپ کے قیام کو کئ ماہ ہوجانے کے باوجود کالعدم تنظیموں کے خلاف کھل کر آپریشن دیکھنے میں نہیں آرہا جسکی بنیادی وجہ کالعدم تنظیموں کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ الحاق ہونا ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی پنجاب میں کالعدم تنظیموں کا اثر رسوخ ہے اور یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ پنجاب میں کس کی حکومت ہے ؟  جب تک سیاسی و مذہبی جاعتیں اپنے سیاسی  مفادات کےلیے کالعدم تنظیموں و دیگر دہشت گردوں کی حمایت کرتی رہے گی جب تک ملک میں کوئی بھی آپریشن اور کوئی بھی ایکشن پلان کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ایک شخص دارالحکومت اسلام آباد میں بیٹھ کر داعش دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے ، ایک شخص طالبان دہشت گردوں کی دہشت گرد کاروائیوں کے باوجود انکے لیے دفتر کھولنے کی بات کرتارہا ہے ، ایک شخص اور اسکی جماعت دہشت گردوں کو کھلے عام شہید قرار دے چکا ہے، کیا اس قسم کے  لوگوں کے خلاف کاروائی کے بغیر ملک میں امن ممکن ہوسکتا ہے ؟  اس وقت ملک میں متحدہ قومی موومنٹ واحد سیاسی جماعت نظر آرہی ہے جو کھل کر کالعدم تنظیموں اور دہشت گردوں کے خلاف بات کررہی ہے ،پاکستانی قوم کی بدقسمتی ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھے  داعش دہشت گردوں کے ہمدرد اور سپورٹر مولانا عبدالعزیز کو اپنی اشتعال انگیزی پھیلانی کی تو اجازات ہےمگر  ملک کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے والے اور ایک سیاسی جماعت کے قائد الطاف حسین کے پیغامات کو میڈیا پر نشر کرنے پر پابندی ہے ۔  ملک اس وقت مشکل حالات سے دوچار ہے اسکے پیش نظر الطاف حسین پر لگی پابندی کو ختم کردینا چاہیے تاکہ انکا جو دہشت گردوں کے خلاف موقف ہے وہ عام عوام انکے ہمدرد سپورٹرز اور کارکنان تک باآسانی پہچ سکے جس سے دہشت گردوں کے خلاف جاری بین الاقوامی جنگ میں قوم کوحوصلہ مل سکے

 اے اللہ !  ہمارےحکمرانوں کو سچ بولنے کی توفیق  عطا فرما ، ملک و قوم کے لیے صحیح فیصلے کرنے کی توفیق دے ، صوبائی و وفاقی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے دہشت گردوں کا نشانہ بننے والے معصوم طلبہ و طالبات و دیگر عام شہریوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما ، اور دہشت گردوں  کی حمایت کرنے والوں کو ہدایت دے،ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکمرانوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ہمت اور طاقت دے ، اور  دہشت گردوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کر ۔آمین۔
Advertisements