پاکستان میںداعش موجود ہے, یا نہیں

امریکہ میں رواں سال 2016 کے ماہ نومبر میں صدارتی انتیخابات ہونے جارہے ہیں جس کی دوڑ میں وہاں کی  بہت سی اہم شخصیات شامل ہیں. امریکہ دنیا کا طاقتور ترین ملک کہلاتا ہے اسی لیے امریکی صدر اور چیف کو دنیا کے دیگر دوسرے ممالک کے صدر یا چیف کی  نسبت سب سے طاقتور صدر یا چیف سمجھا جاتا ہے. 12 جنوری 2016 کو امریکی صدر باراک اوبامہ نے اسٹیٹ آف دی یونین سے اپنا آخری خطاب فرمایا . . دوران تقریر امریکی صدر بہت پراعتماد نظر آۓ , اوبامہ نے اپنی تقریر میں صدارتی امیدوار ٹرمپ کوتنقید کا نشانہ  بناتے ہوۓ کہا کہ ہمیں لسانی اور مزہبی منافرت پھیلانے یا مسلمانوں سے تعصب جیسے بیانات یا ریمارکس سے گریز کرنا چاہیے اس سے دنیا میں ہماری ساکھ متاثر ہوتی ہے , امریکی صدر نے مزید کہا کہ داعش جیسے دہشت گردوں کا اسلام سے کوئ تعلق نہیں ,انھیں مسلمانوں سے نہ جوڑا جاۓ.. اپنے آٹھویں اسٹیٹ آف دی یونین سے صدر باراک اوبامہ کے خطاب  کا ایک حصہ خطے اور خصوصی طور پر پاکستان کے لیے بہت اہم تھا جس میں انکا کہنا تھا کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ کو یہاں نہیں روک سکتے کیونکہ”  آئ ایس آئ ایل ( دولت اسلامیہ ) کے بغیر بھی سینٹرل امریکہ , ایشیا, افریقہ ,مشرق وسطی , افغانستان اور پاکستان  کئ دیہایوں تک غیر مستحکم رہےگے , امریکی صدر اوبامہ کا خبردار کرتے ہوۓ مزید کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے دہشت گردوں کے لیے افغانستان پاکستان اور مشرق وسطی  سیف ہیون ہوں

http://timesofindia.indiatimes.com/world/pakistan/Barack-Obama-Instability-will-continue-for-decades-in-Pakistan/articleshow/50556477.cms

http://www.dnaindia.com/world/report-barack-obama-warns-of-new-terror-safe-havens-in-places-like-pakistan-2165282

  
امریکی صدر کی جانب سے پاکستان اور ایشیا کے متعلق بیان بہت اہمیت کا حامل ہے کہ آیا باراک اوبامہ نے آخر ایسا کیوں کہا,  دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ سب سے زیادہ قربانی پاکستان نے دی ہے جس میں 55 ہزار سے زائد پاکستانیوں کا لہو شامل ہے جس میں عام شہریوں سمیت فوجی جوان , پولیس اہلکار اور دیگر اہم شخصیات بھی شامل ہیں . گزشتہ دو سال سے پاک افواج شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے اور دوسری طرف دیگر صوبوں اور شہروں میں پناہ لینے والے دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف منظم آپریشن کے لیے نیشنل ایکشن پلان مرتب دیاگیا تھا جو بظاہر بہت سست نظر آتا ہے مگر نیشنل ایکشن پلان کے متعلق کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا..  ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکومتی ارکان بہت کنفیوژ ہیں , ایک طرف پاکستان میں داعش کے پھیلتے جال اور انکے ہمدرد ہمارے وزارت داخلہ کو نظر ہی نہیں آرہے ,  اور دوسری طرف آے دن جنوبی پنجاب و دیگر  شہروں سے داعش کے لوگوں کی گرفتاریاں سامنے آرہی ہیں.. 

http://www.thefrontierpost.com/video/x39rmqk_ig-punjab-denies-daesh-s-presence-in-pakistan_news

http://www.dailytimes.com.pk/national/20-Nov-2015/no-presence-of-daesh-in-pakistan-fo

http://www.shiitenews.org/index.php/pakistan/item/20671-islamabad-daesh-attacked-ary-news-office-with-hand-grenade-no-loss-of-life

IMG_20160117_023351

IMG_20160117_023333

IMG_20160117_023337

پاکستان مسلم لیگ نواز  کی وفاقی حکومت ، اور دیگر صوبوں کے حکام پاکستان میں داعش کی موجودگی سے انکاری کیوں ہیں ؟ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کو  دہشگردوں کے نیٹ ورک  کے لیے سیف ہیون  جیسے الفاظ سے خبردار کرنا یا خدشات  کا اظہار کرنے کی وجہ ہمارے حکمرانوں کا پاکستان میں داعش کی موجودگی سے انکار کرنا تو نہیں  ؟ بہت سے مواقعوں پر صوبائی حکومت پنجاب ، وفاقی وزارت داخلہ ، و دیگر حکام پاکستان میں داعش کی موجودگی کی خبروں کو مسترد کرچکے ہیں مگر اسلام آباد میں 13 جنوری 2016 کو پاکستان کے نجی نیوز چینل اے آر وائ نیوز کے دفتر کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا گیا مگر اللہ کے کرم سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ، دارالحکومت اسلام آباد میں نجی نیوز چینل پر حملے کی  زمہ داری دہشت گرد  تنظیم داعش نے قبول کی ، جس کے بعد اس میں کوئی شک نہیں کہ داعش کے دہشت گرد اور انکا مائینڈ سیٹ پاکستان میں موجود ہے۔  پاکستان کی جانب سے مسلسل داعش کی موجودگی کے انکار سے دہشت گردوں کو مزید مستحکم ہونے کا موقع مل رہا ہے ، پاک افواج کی دہشت گردوں کے خلاف بھرپور  کاروائی کی وجہ سے طالبان کا نیٹ ورک کافی حد تک کمزور ہوا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے طالبان کمانڈروں نے داعش کے خطے میں پھیلتے ہوئے خوف کے پیش نظر داعش دولت اسلامیہ میں شمولیت کرلی ہے ۔  پاکستان کی چوتھی اور سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی مومینٹ کے قائد الطاف حسین پچھلے دس سالوں سے دہشت گردوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہے ہیں پہلے 2008  میں الطاف حسین صاحب نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں طالبانائزیشن  کے حوالے سے قوم کو آگاہ کیا مگر اس وقت انکی اس آگاہی پر انکا مزاق اڑایا گیا مگر انکی دوراندیشی درست ثابت ہوئی اور  پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت و دیگر کی جانب سے غیر سنجیدگی اور طالبانائزیشن  کے حوالے سے مسلسل انکاری کی وجہ سے ہزاروں معصوم شہریوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ ۔ ماضی کی طرح ایک بار پھر ہمارے حکمرانوں کی انکاری پاکستان کو مشکل میں ڈال سکتی ہے ۔ ۔ 

http://www.dawn.com/news/1141595

http://www.currentaffairspk.com/altaf-hussain-warns-pakistan-by-isis-threats/

http://www.shiitenews.org/index.php/pakistan/item/11927-daesh-in-pakistan-mqm-submits-call-attention-notice-in-sindh-assembly/11927-daesh-in-pakistan-mqm-submits-call-attention-notice-in-sindh-assembly

ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے آج سے 15 ماہ قبل 30 اکتوبر 2014 کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ بہت سے طالبان دہشت گرد اور دیگر ملیٹنٹ گروپس داعش میں شامل ہورہے ہیں جوکہ پاکستان کے لیے  طالبان اور القاعدہ سے زیادہ خطرناک ہے ، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جنوبی پنجاب اور اسلام آباد میں انکے جھنڈے بھی لگے نظرآرہے ہیں ۔  اس بات کو کافی وقت گزرگیا مگر ہمارے حکمران آج بھی داعش کے انکار پر بضد ہیں باوجود اسکے کے اسلام آباد لال مسجد  کے خطیب مولانا لعزیز کئ مرتبہ داعش کی حمایت کے حوالے سے بیان دے چکے ہیں 

http://tribune.com.pk/story/806711/no-regret-over-supporting-is-says-lal-masjid-cleric/

http://www.shiitenews.org/index.php/pakistan/item/20534-isil-commander-aamir-mansoor-arrested-in-islamabad

اسکے اعلاوہ مئ 2015 میں شہر کراچی میں اسماعیل کمیونٹی کی بس پر حملے میں ملوث ملزمان کا تعلق بھی  دہشت گرد تنظیم  داعش سے نکلا جو داعش سے پہلے سیاسی و مذہبی جماعت جماعت اسلامی سے وابستہ تھے ۔ اسکے اعلاوہ 5جنوری 2016  کو آئی ایس آئی ایل کے کمانڈر عامر منصور کی اسلام آباد میں گرفتاری سامنے آئی،۔  ایک بار پھر ایم کیو ایم کے قائد کی دور اندیشی درست ثابت ہوتی نظرآرہی ہے مگر افسوس کہ ایسی دور اندیشی رکھنے والے قائد کی آواز سے پاکستان کی عوام محروم ہے، ایم کیوایم کے قائدکے خطابات کی براہ راست نشریات پر لگی پابندی کو ختم کردینا چاہیے کیونکہ قوم کو ایسی دور اندیشی کی ضرورت ہے جس سے عوام کو آنے والے حالات سے نمٹنے کے لیے آگاہی مل سکے ، ایم کیو ایم واحد سیاسی جماعت ہے جو داعش کی موجودگی کے حوالے سے حکام کی توجہ دلانے کی کوشش کرتی آئی ہے۔  مگر افسوس ماضی کی طرح اس بار بھی انکے خدشات کو مسلسل نظر انداز کرنا مجھ جیسے طالب علم کے لیے سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ایم کیوایم ملکی سیاست میں بہت اہم کردار ادا کرتی آئی ہےاور ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جسکے پلیٹ فارم پر تمام مسالک کے لوگ موجود ہیں جو ایک قابل ستائش بات ہے ۔ پاکستان  داعش کے نیٹ ورک کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ انتہاپسند عناصر کے خلاف سختی سے نمٹا جائے، دہشت گردوں انکی حمایت کرنے والوں اور انکا ساتھ دینے والوں کے خلاف بھی بھرپور کاروائی کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں دہشت گردوں  ، انتہیا پسندوں دیگر جرائم پیشہ عناصر کو شکست دینے کا واحد حل صرف گڈ گورننس ہے ،اس وقت بھی کچھ نہیں بگڑا ابھی داعش کا نیٹ ورک اتنا مستحکم نہیں اگر ابھی سے اسکے خلاف نمٹنے کے لیے حکمت عملی بنالی جائے تو اس ناسور کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے جس کے لیے مولانا عبدلعزیز جیسے داعش کے حمایتیوں  اور سہولتکاروں کے خلاف کاروائی عمل میں لانا ہوگی تاکہ ایسے مائینڈ سیٹ کی حوصلہ شکنی ہوسکے کیونکہ  اسلام ایک پرامن مذہب ہے جو نفرت اور اشتعال انگیزی نہیں بلکہ محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔عوام اسلام دشمن عناصر اور پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو اچھی طرح جانتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ پورا پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ میں پاک افواج کے ساتھ کھڑا ہے 

Advertisements