ایران، سعودیہ کشیدگی اور پاکستان

پاکستان گزشتہ 10سالوں سے دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے اور اس آگ سے 55 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جن میں عام عوام ، فوجی افسران و جوان ، پولیس افسران و اہلکار ، اور دیگر اہم سیاسی و مذہبی شخصیات بھی شامل ہیں۔ دہشت گردی نہ صرف پاکستان کی امن و سلامتی کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے بلکہ پورے خطہ کےلیے بھی بہت اہم ایشو ہے جس سے ہر طبقہ فکر کی عوام متاثر ہورہی ہے۔ دہشت گردوں کے لیے کسی بھی ملک کی اکنامی اور معیشت کو نقصان پہنچانے، کسی بھی ملک میں افرا تفری پھیلانے اور عوام میں انتیشار پیدا کرنے کے لیے سب سے آسان حربہ فرقہ واریت ہے۔

سال نو کے آغاز میں یکم 1 جنوری 2016 کو سعودی عرب میں ممتاز شیعہ رہنما شیخ نمر سمیت 47افراد کو سزائے موت دی گئی ، جس پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں آیا اور اسکے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے جو مشرق وسطیٰ کے لیے بہت تشویشناک بات ہے۔ اس سے قبل 15 دسمبر 2015 کو سعودی عرب کی جانب سے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ایک اسلامی ممالک کا اتحاد بنانے کا اعلان کیا گیا جس میں شامل ہونے کے لیے پاکستان ، افغانستان سمیت مختلف اسلامی ممالک کو دعوت دی گئی ہے ، جس میں ایران اور عراق کو شامل نہیں کیا گیا ۔ 34 اسلامی ممالک کے اتحاد سے خطہ میں شیعہ سنی کی تقسیم کا خدشہ ہے جو کسی بھی اسلامی ملک کے حق میں بہتر نہیں ہے، پاکستان جو کہ خطہ کے اعتبار سے اور ایک اسلامی ریاست کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے اسے ایسے کسی بھی اتحاد میں ہر گز شامل نہیں ہونا چاہیے جس سے فرقہ پرست عناصر کو تقویت ملے ، پاکستان کو کسی بھی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے 34 ممالک پر مشتمل اتحاد کی حساسیت اور ملک کے اندرونی حالات کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔

CX2XrtHW8AA2pUQ.jpg

CX3hSggW8AADrUI.jpg

پہلے اسلامی ممالک کے اتحاد میں ایران کو شامل نہ کرنا اور پھر اب ممتاز شیعہ رہنما شیخ نمر کو سزائے موت دینا تشویشناک ہے کیونکہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی سے نہ صرف دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات پر اثر پڑ رہا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے رواں ماہ 26 جنوری 2016 کوجنیوا میں شام کے حالات اور معمولات پر ہونے والے مزاکرات پر بھی بہت برا اثر پڑے گا۔ سال نو کے آغاز میں ہی پاکستان ایک اہم موڑ پرآکھڑا ہے جہاں پاکستان کو کسی ایک فریق کے حق میں بات کرنے کی بجائے نیوٹرل ہوکر دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔
پاکستان پہلے ہی داعش اور طالبان جیسے دشمنوں کی دہشت گردی سے نمٹ رہا اور ایسے حالات میں کسی ایک ملک کا ساتھ دیکر مزید غلطیوں کی گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان کو ایران اور سعودیہ کے درمیان کشیدگی کے دوران یہ خیال کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مشرق وسطیٰ کے دو ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کہیں پاکستان میں داخل ہوجائے۔ اس وقت احتیاط کی ضرورت ہے اور قوم کو ایک ایسے سربراہ کی ضرورت ہے جو تمام مسالک اور تمام قومیت کو یکجا کرکے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے آپس میں اتحاد کا درس دے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور ایم کیوایم ملک میں مذہبی رواداری و مذہبی ہم آہینگی اور بھائی چارے کے فروغ میں جو کردار ادا کرتی آئی ہے اور جو کردار ادا کررہی ہے وہ بہت خوش آئیند ہے،اسی طرح تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنے اپنے پلیٹ فارم سے مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے پیغام کو مزید فروغ دیں تاکہ فرقہ واریت کا عنصر جڑ سے ہی ختم ہوجائے۔ اس وقت پاکستان کا مستقبل چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیراعظم پاکستان کے فیصلوں اور موقف پر ہے کہ آیا یہ دونوں سربراہان پاکستان کیا فیصلہ کرتے ہیں ، پاکستان 34 ممالک کے اتحاد میں شامل ہوگا یانہیں ، اور دوسرا یہ کہ سعودی ایران کی کشیدگی کے درمیان پاکستان اپنا کیا موقف اختیار کرےگا ۔۔ ۔ ؟ کسی بھی اہم ایشو پر فیصلہ کرنے سے قبل پارلیمینٹ میں اس اہم ایشو کو ڈسکس کرکے اراکین پارلیمینٹ کی رائے ضرور لینی چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ماضی میں دوسرے ممالک کی اتحادی فورس میں شامل ہوکر انکی جنگیں پاکستان امپورٹ کرچکے ہیں اور دوسری بات یہ کہ پاکستان میں پہلے سے ہی ایسے عناصر موجود ہیں جو شعیہ سنی اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ، دہشت گرد عناصر کے خلاف پاکستان میں گزشتہ دو سالوں سے پاک افواج شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے جسے تمام حلقوں کی جانب سے کامیاب قرار دیا جارہا ہے ، اسکے اعلاوہ صوبوں اور شہروں میں دہشتگردعناصر سے نمٹنے کےلیے نیشنل ایکشن پلان تیار کیا گیا تھا جسکے تحت کالعدم تنظیموں ، مذہبی منافرت پھیلانے والوں ، اور انکے سہولت کاروں اور دیگر دہشت گرد عناصر کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جانی تھی مگر نیشنل ایکشن پلان جس سست رفتار سے ایکشن کررہا ہے اس سے ایسا نظر آتا ہے کہ یہ ایکشن پلان نہ جانے کب اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا، پاکستان کا بچہ بچہ اب اس حقیقت کو جانتا ہے کہ فرقہ واریت و دیگر دہشت گرد عناصر کو کون کون سپورٹ فراہم کررہا ہے  پاکستان میں مکمل اور پائیدار امن اسی صورت میں ممکن ہےجب تک کہ تمام صوبوں اور شہروں میں بلاتفریق اور بلا امتیاز تمام دہشت گردوں ، مذہبی انتہا پسندوں اور انکے سہولت کاروں کے خلاف کاروائی عمل میں نہ لائی جاے۔۔

Advertisements