سال 2015 کے آخری ماہ  دسمبر میں بالآخر بلدیاتی انتیخابات کے تمام مراحل مکمل ہو ہی گئے اور یوں مرحلہ وار ہونے والے انتیخابات کے نتائج کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ نواز نے اکثریت حاصل کی اور دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار اور پھر اسکے بعد تحریک انصاف کے امیدوار کامیاب رہے۔ سندھ میں سکھر ،  لاڑکانہ ، خیرپور و دیگر اندرون سندھ (  دیہی ) میں ہونے والے بلدیاتی انتیخابات میں پیپلزپارٹی  ، مسلم لیگ فنکشنل ، مسلم لیگ نواز ، آزاد امیدوار و دیگر کامیاب ہوئے دوسری طرف سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم نے کلین سوئپ کیا اور اس بار کراچی ، حیدرآباد کے اعلاوہ میرپورخاص کے شہری علاقوں میں   ماضی کی نسبت زیادہ سیٹیں  حاصل کیں ۔  سندھ کے  بڑے شہروں کی بات کی جائے تو کراچی  حیدرآباد اور میرپورخاص میں ایم کیو ایم کو سادہ اکثریت حاصل ہے جس کے بعد میرپورخاص میں  چیئرمین اور وائس چیئرمین  ، حیدرآباد اور کراچی کی مئیرشپ اور ڈپٹی میئرشپ کا مینڈیٹ ایم کیو ایم کے پاس ہے ۔ یوں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سندھ کے  دیہی اضلاع میں پیپلزپارٹی  ، مسلم لیگ فنکشنل ، مسلم لیگ نواز ، سندھی قوم پرستوں  ، اور دیگر جماعتوں کا ووٹ بینک ہے اور دوسری طرف سندھ کے شہری اضلاع میں ایم کیو ایم واحد سیاسی قوت ہے ۔

سپریم کورٹ کے حکم پر صوبائی حکومتوں نے  بلدیاتی انتیخابات تو کروادیئے مگر جب  چیئرمین و وائس چیئرمین ،  میئرز اور ڈپٹی مئیرز کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں ہوگا تو وہ عوام کا نمائندہ عوام کی خدمت کیسے  کرسکےگا ؟   کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جس  میں تمام قومیت اور طبقے سے تعلق رکھنے والی عوام بستی ہے جس کے ٹیکس سے پورا پاکستان چلتا ہےاس منی پاکستان میں  5 دسمبر 2015 کو  مقامی حکومت کے قیام کے لیے بلدیاتی انتخابات ہوئے جس میں  کراچی کی اکثریت عوام نے تحریک انصاف کی تبدیلی کے نعروں کو مسترد کردیا ، پیپلزپارٹی کا تیر بھی کراچی کے عوام نے ریجیکٹ کردیا، اور کراچی کے شہریوں نے ایک بار پھر ایم کیو ایم پر اپنے اعتماد کا اظہار کرکے  نہ صرف ایم کیوایم کو  ووٹ دیا بلکہ  بھاری مینڈیٹ سے  کامیاب کروا کر شہر کراچی کی عوام کی نمائندگی اور فیصلے کا بھی اختیار دے دیا۔
( اصولی طور پر ) اب ایم کیوایم ملک میں ایک صوبے کی بات کرے یا 20 صوبوں کی یہ صرف ایم کیوایم کی آواز نہیں کراچی , حیدرآباد اور میرپورخاص کی آواز تصور کی جائے گی ۔ کراچی گزشتہ کئ سالوں سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے جسکی وجہ  سندھ حکومت کی کراچی کے شہریوں کی مشکلات پر عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنا ہے ۔   اس میں کوئی شک نہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ نے ہمیشہ کراچی کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر ہمیشہ آواز اٹھائی ہے شائد یہ ہی وجہ ہے کہ شہر کراچی اور شہر سے باہر رہنے والے بھی یہ ہی سوچ رہے ہیں کہ کراچی کی عوام نے اپنے مقامی نمائندوں کو ووٹ دےکر اپنا اعتماد کا اظہار تو کردیا مگر بنا  اختیار کے کراچی کا مئیر کس طرح سے کراچی کے مسائل کو حل کرسکےگا ؟   یہ وہ سوال ہے جو ہر خاص و عام  کی زبان پر  ہے ۔ ایم کیو ایم کی جانب سے سینئر رہنما وسیم  اختر صاحب کو مئیر کراچی کے لیے نامزد کیاگیا ہے اور ڈپٹی مئیر کے لیے ارشد وہرہ صاحب نامزد ہیں ۔ سندھ حکومت کی جانب سے پہلے ہی کراچی کے مئیر کے اختیارات  2013 کے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت کم کردیے گئے تھے اور اس کے بعد بچنے والے چند ایک اختیارات آہستہ آہستہ نوٹیفیکشنز کے زریعے سندھ حکومت نے ہڑپ لیے۔

CW5wsbBUAAAv8VT.jpg

بلدیہ عظمیٰ کراچی کی 150 سالہ تاریخ میں   ایم کیو ایم کے نامزد مئیر وسیم آختر سب سے بےاختیار میئر ہوں گے ۔  کراچی کے مئیر کے پاس نہ تو بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کوئی اتھارٹی ہوگی اور نہ ہی مئیر ادارہ فراہمی نکاسی آب کا چیئرمین ہوگا ، مئیر کے پاس نہ ہی آمدنی کے زرائع پر کوئی اختیار ہوگا اورکراچی کا مئیر  ترقیاتی فنڈ سے بھی محروم ہوگا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا انحصار صوبائی اور وفاقی حکومت پر ہوگا  ۔   بلدیہ عظمٰی اور بلدیاتی ادارے کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کے اختیار سے بھی محروم ہونگے  ۔   کراچی ایک میٹروپولیٹن شہر ہے جسکی آبادی غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2کروڑ 40لاکھ سے بھی زائد ہے جو سندھ کی کل آبادی کی نصف  سے بھی زیادہ ہے اور اتنی بڑی آبادی والے شہر کے  منتخب کردہ مئیر کو اتنا بےاختیار کردینا کھلی کراچی دشمنی کے مترادف ہے ۔ کراچی گزشتہ 7 سالوں میں ویسے ہی سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کوڑا کرکٹ کا ڈھیر بن گیا ہے ماضی میں 2005 کے بلدیاتی دور کے دوران تیار کردہ انفرااسٹرکچر سندھ حکومت کی  عدم دلچسپی کے باعث تباہ ہوگیا ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، پانی کے نکاس کا نظام خراب ہے جسکی وجہ سے اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے ، غیرقانونی ہائیڈرینٹس کی وجہ سے عام شہری متاثر ہے  ،کراچی کے شہری پینے کے صاف پانی سے بھی  محروم ہیں ہر طرف گندگی کا ڈھیر ہے اور اب عوام بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے بعد منتظر ہیں کہ کب انکے نمائندے شہر کراچی کے بنیادی مسائل کو حل کرینگے ، عوام کی امیدوں اور خواہشات کےباوجود شہر کراچی کے منتخب  نمائندوں کو انکے مسائل کے حل کے اختیار سے دور رکھنا ایک متعصبانہ فعل ہے جو پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 140- A کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔  پاکستان کے آرٹیکل 140-A  کے تحت صوبائی حکومت کی زمہ داری ہے کہ وہ مقامی حکومت کےقیام کے  زریعے عام عوام تک جمہوریت کے ثمرات پہنچاے جائیں اور اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا جائے ۔  مگر افسوس عوام کے نمائندوں  سے اختیار چھین کر سندھ  حکومت نے جمہوریت کی تعریف ہی تبدیل کردی ہے۔  پورے ملک بلدیاتی انتخابات ہوچکے ہیں عوام نے اپنے نمائندوں کو چن لیا ہے لہٰذا جب عوام فیصلہ کرچکے ہیں تو تمام سیاسی جماعتوں ، اعلی عدلیہ ، سول سوسائٹی  ،اور دیگر کو چاہیے کہ اختیارات عام عوام تک پہنچانے کےلیے تمام تر اختلافات کو بھلا کر عوام کو مضبوط کریں اور انکے مسائل کا حل نکالنے کےلیے مقامی حکومت کے نمائندوں  کو اختیارات دلوانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں  ۔ کراچی کی عوام نے اگر کراچی کو ووٹ دیا ہے تو کراچی کو اختیار دیا جانا چاہیے  اسی طرح دیگر شہروں میں بننے والی مقامی حکومتوں کو بھی بااختیار ہونا چاہیے ۔کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے جسکی ترقی سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے ، سندھ حکومت کو اپنی پالیسیز اور طرز حکمرانی پر نظرثانی کرنی ہوگی  اور کراچی کو اختیار دینا ہوگا ۔  ملک کو ترقی کی جانب گامزن کرنا ہے تو مقامی نمائندوں کو بااختیار کرنا ہوگا جس کے لیے ہر شہری اور طبقے ہاے فکر کو اپنا رول ادا کرنا ہوگا، پاکستان کے تجزیہ نگاروں  ، کالم نگاروں  ، اینکرپرسنز ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف صاحب ، چیف جسٹس آف پاکستان و دیگر کو عوام کی امنگوں اور خواہشات اور عام  عوام کے بنیادی حقوق کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ پاکستان میں  اصل جمہوریت بحال ہوسکے۔

  
Advertisements