سندھ میں بلدیاتی انتخابات

سندھ میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کا عمل جاری ہے۔ گزشتہ دو مرحلوں میں ہونے والے انتیخابات نے سندھ کو دو حدود میں واضح کردیا ہے۔ گزشتہ دو سال قبل 2013 عام انتیخابات میں جو ہم نے نتائج دیکھے تھے  اسی طرح بلدیاتی انتخابات 2015میں  بھی اب تک وہی دیکھنے کو ملے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ سندھ کی بڑی جماعت سمجھی جانے والی پیپلزپارٹی اپنے ہی حلقوں میں شکست سے دوچار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی ہے ، دوسری طرف سندھ کے شہری علاقوں میں مضبوط عوامی مینڈیٹ رکھنے والی متحدہ قومی موومنٹ تمام تر مشکل حالات اور پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے مزید عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی  ہے ۔ اب تک مرحلہ وار ہونے والے انتیخابات میں دیہی سندھ ( سکھر ، لاڑکانہ ، و دیگر )  میں پیپلزپارٹی کو بھرپور اپوزیشن کا سامنا رہا ، دیہی سندھ پیپلزپارٹی پہلے ، اسکے بعد مسلم لیگ فنکشنل ، مسلم لیگ نواز ، آزاد امیدوار ، اور دیگر نے کامیابی حاصل کی ، دوسرے مرحلے شہری علاقوں ( حیدرآباد ، میرپورخاص و دیگر،)  میں ہونے والے بلدیاتی انتیخابات  میں ایم کیو ایم بھرپور کامیاب رہی جہاں اسے واضح اکثریت حاصل ہے ، حیدرآباد کی 384جنرل نشستوں میں سے 302 پر ایم کیو ایم کے امیدوار کامیاب ہوئے ، حیدرآباد کی 96 یونین کونسلز میں سے 77 یونین کونسلز میں ایم کیو ایم کے امیدوار کامیاب رہے ، میرپورخاص میں 47میں سے 34 سیٹوں پر ایم کیو ایم جیت گئی ، ان نتائج سے واضح ہے کہ حیدرآباد اور میرپورخاص میں بلدیاتی انتیخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد  ایم کیو ایم کا مئیر اور ڈپٹی مئیر ہوگا . ایم کیو ایم میرپورخاص، حیدرآباد میں  اور پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتیں ملکر سندھ کے دیگر اضلاع میں لوکل گورنمنٹ بنائیں گے ۔ سندھ میں کافی حد تک بلدیاتی انتیخابات مکمل ہوچکے ہیں اب تیسرے مرحلے میں  کراچی میں بلدیاتی انتیخابات ہونے ہیں اور اس کے بعد ان اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا جہاں مختلیف وجوہات کی بنیاد پر الیکشن ملتوی ہوئے جس میں سانگھڑ   ، ٹنڈوجام  ، و دیگر اضلاع شامل ہیں  ۔

images.jpg

CUMngRTWoAAHHg8

CUQsVifVAAA1d3f.jpg 

سندھ کے تیسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات  5دسمبر 2015 کو کراچی میں ہونے ہیں جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے ، اس  سے قبل 2002 میں شہر کراچی میں جماعت اسلامی کے نعمت اللہ صاحب کی لوکل گورنمنٹ تھی اور اس کے بعد 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی کی عوام نے جماعت اسلامی کو مسترد اور  ایم کیو ایم نے کراچی میں اکثریت حاصل کی اور پھر ایم کیوایم کے حق پرست امیدوار کامیاب ہوئے اور  ناظم/ کونسلرز  بنے جس کے بعد ایم کیو ایم کے ٹاون ناظمین ، کونسلرز اور سٹی ناظمین نے مل کر جو پروجیکٹس مکمل کیے اس نے کراچی کا نقشہ تبدیل کردیا تھا جس کی بنیاد پر ایم کیو ایم کے مئیر کو دنیا کے بہترین مئیرز میں دوسرا نمبر دیا گیا، شہر کراچی کے باسیوں کو باخوبی معلوم ہےکہ 2005 کے بلدیاتی نظام کے بعدشروع ہونے والے  پروجیکٹس کو جاری رکھا جاتا تو آج کراچی  ترقی یافتہ شہروں اور  پاکستان ترقی یافتہ  ممالک میں سرفہرست ہوتا ۔  کراچی میں ایم کیو ایم کی مضبوطی کی وجہ پیپلزپارٹی کی کراچی دشمنی پالیسی اور انکے حقوق سلب کرنا ہے ، کراچی کے ساتھ ہونے والی ہر ناانصافی پر اگر کسی نے آواز بلند کی تو وہ صرف ایم کیو ایم ہے، ایم کیو ایم نے ہمیشہ شہر کراچی کا سکھ دکھ بانٹا ہے اور یہ ہی نہیں بلکہ کراچی کی اصل شکل کسی نے دنیا میں متعارف کروائی  تو وہ کوئی اور نہیں صرف متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین ہی ہیں جس نے کراچی کی گلیوں سے عام نوجوانوں کو ٹکٹ دے کر قانون ساز ایوانوں تک پہنچایا ، یہ ہی وجہ ہے کراچی میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم لوگوں کے دلوں میں اپنا ایک مقام اور محبت رکھتے ہیں ۔

CTJJp3CWcAAGaut.jpg

 ایم کیو ایم پچھلے 28 سالوں سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے جو تمام تر مشکل حالات کا سامنا کرنے کے باوجود مضبوط ہوتی جارہی ہے جس کا ثبوت ہر انتخابات میں انکا بڑھتا ہوا مینڈیٹ ہے ، ہر زی شعور کراچی کے بلدیاتی انتیخابات پر یہ ہی رائے رکھتا ہے کہ شہر کراچی کی مئیرشپ اور ڈپٹی مئیرشپ ماضی کی طرح اس بار بھی متحدہ قومی موومنٹ کےپاس جائے گی جسکی وجہ یہ ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم واحد جماعت ہے جس کے نمائندے اپنے حلقے کے عوام کے درمیان موجود رہتے ہیں اور عوام کا ان سے باآسانی رابطہ ہوجاتا ہے۔  شہر کراچی ایم کیو ایم کا مضبوط گڑھ ہے جہاں اسے اکثریت عوام کی سپورٹ  حاصل ہے ۔  کراچی میں ایم کیو ایم کی مقبولیت کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے ہمیشہ کراچی کو بہتر سے بہتر بنانے میں اپنا ہر ممکن کردار ادا کیا ہے ۔ تعمیرات اتحاد حیدرآباد کے نام سے اتحاد بنانے والے جماعت اسلامی , تحریک انصاف , سنی تحریک, پیپلزپارٹی کے مل کر الیکشن لڑنے کے باوجود ایم کیو ایم حیدرآباد میں کلین سوئپ کرنے میں کامیاب رہی اسی طرح کے نتائج ہمیں کراچی میں دیکھنے کو ملے گے کیونکہ ایسا ہی غیر فطری اتحاد کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتیخابات میں بھی ایم کیو ایم کے خلاف چند یونین کونسلز میں حصہ لے رہا ہے .

CUgDTWfWIAItQ4O CTnjMvcWoAAuzOG.jpg

CUh0-PVXAAARS0OCUlB83yUwAAmUqq

موجودہ انتیخابات میں تحریک انصاف ، پیپلزپارٹی  ، مسلم لیگ نواز ، جماعت اسلامی اور دیگر کالعدم تنظیموں کے اتحاد نے متحدہ قومی موومنٹ کی فتح کو یقینی بنادیا ہے ۔ ۔ کراچی آپریشن دو سال سے جاری ہےجس میں ایم کیو ایم کے کئ کارکنان گرفتار ہوئے  ، کئی ماورائے عدالت قتل ہوئے ، انکے آفسس بند کردیے گئے تھے ، قائد متحدہ کی تصاویر اور انکے خطابات کی نشر و اشاعت پر پابندی ہے ، اور مکمل بلیک آوٹ ہے  ،ان تمام مشکلات کے پیش  نظر یہ تاثر عام تھا کہ ایم کیو ایم کو عوام سےدور کرکے کراچی میں  دیگر جماعتوں کو فعال کیا جارہا ہے  مگر تمام ہتھکنڈے بےسود رہے اور متحدہ مزیدمنظم ہوکر ابھرتی نظرآرہی ہے ، تمام مشکلات کے باوجود الیکشن سے قبل ایم کیو ایم نے اپنے تمام دفاتر کھول کر پھر سے منظم طریقے سے عوام تک رسائی ممکن بنائی جسے عوام نے بھر پور ویلکم کیا اور شہر کراچی کے کئ یونین کونسلز میں ایم کیو ایم کے امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے جس کی وجہ سے  سندھ ، پنجاب، اور پختونخواہ کی حکمران جماعتوں  کو   کالعدم تنظیموں سے اتحاد کرکے کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینا پڑرہا ہے جو اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے ، روٹی کپڑا اور مکان والے،  روشن پاکستان کا خواب دکھانے والوں میں اور کالعدم تنظیموں کے دہشتگردوں میں کوئی فرق نہیں سب اندر سے ایک ہی ہیں جو کبھی کراچی کو ترقی کی جانب گامزن نہیں کرسکتے ،کراچی کو اگر کوئی ترقی دے دسکتا ہے تو وہ ہے کراچی کا شہری اور کراچی کے شہریوں  کی سپورٹ متحدہ کو حاصل ہے ۔   کراچی و سندھ میں سیاسی جماعتوں کا کالعدم تنظیموں سے اتحاد کرنا ، نیشنل ایکشن پلان کی نفی نہیں  ؟  ان سیاسی جماعتوں سے کوئی پوچھے گا کہ یہ کالعدم تنظیموں سے اتحاد کرنا نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں بکھیرنا نہیں  ؟ کیا پیپلزپارٹی  ، مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف  ، مسلم لیگ فنکشنل ، و دیگر قوم پرست اور دہشت گرد کالعدم تنظیمیں مل کر کراچی میں متحدہ کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائیں گی ؟ اگر کوئی سمجھتا ہے ایسا ممکن ہے تو وہ کراچی کے شہریوں سے انکی رائے لے لے یا پھر ا یک ہفتہ شہر میں گزار لے۔   آپ مانیں یا نہ مانیے مگر سندھ کا فیصلہ ہوچکا ہے جو ہر الیکشن میں عوام دیتی آرہی ہے دیہی سندھ سکھر ، لاڑکانہ ، خیرپور    پیپلزپارٹی  ، قوم پرست ، مسلم لیگ فنکشنل ، و دیگر اپنا مینڈیٹ رکھتے ہیں  دوسری طرف شہری سندھ کراچی ، حیدرآباد ، میرپورخاص  ، نوب شاہ میں ایم کیو ایم اپنا بھاری مینڈیٹ رکھتی ہے جہاں اسکے اریب قریب تک کوئی نہیں  ۔  لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کیا جانا  چاہیے ، سیاسی جماعتوں کا مینڈیٹ تسلیم کیے بنا پاکستان کا مستقبل روشن نہیں  ۔

Advertisements