پاکستان ٹیم کے لیے کچھ نہیں کہا جاسکتا

پاکستان کرکٹ ٹیم ہمیشہ سے ایک ایسی ٹیم رہی ہے جو کبھی بھی کچھ بھی کرسکتی ہے . پاکستان کرکٹ ٹیم کب کیا کرے گی کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا. 3 سال بعد پاکستان اور انگلینڈ ایک بار پھر رواں سال اکتوبر تا نومبر 2015 دبئی میں مد مقابل ہوئے جس میں دونوں ٹیموں کے درمیان 13 اکتوبر سے 5 نومبر تک 3 ٹیسٹ میچز، اور 11 نومبر سے 20 نومبر تک 4 ایک روزہ میچز کھیلے گئے۔

12200692_10206913704433584_81374910_n

تین ٹیسٹ میچز کی سریز میں پاکستان نے اپنی بہترین پرفارمنس سے انگلینڈ کو چت کردیا اور ٹیسٹ سریز 2-0 سے اپنے نام کرلی۔ ٹیسٹ سریز کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان 4 ایک روزہ میچزکھیلے گئے ، پہلے ایک روزہ میچ میں انگلینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے 216رنز بناے جسے پاکستان نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 43 آورز میں 217 بنا کر جیت لیا ، پاکستان کی پہلے ایک روزہ میچ میں فتح سے ایسا محسوس ہوا جیسے پاکستان ون ڈے میں بھی بآسانی فتح حاصل کرلےگا مگر ایسا نہ ہوا۔ دوسرا ایک روزہ میچ میں انگلینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے 284رنز بنائے جسکے تعاقب میں پاکستانی ٹیم بری طرح ناکام رہی جسے انگلینڈ نے یکطرفہ مقابلے میں ہی جیت لیا۔ تیسرے ایک روزہ میچ میں پاکستان میں بھی پاکستان کی بیٹنگ اور باولنگ دونوں ہی نے شائقین کرکٹ کو بہت مایوس کیا پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 208رنز بناے جسے انگلینڈ نے باآسانی 4وکٹوں کے نقصان پر 210 رنز بناکر تیسرا میچ جیت لیا۔ چوتھا ایک روزہ میچ 20 نومبر 2015کو دبئی میں کھیلا گیا جس میں انگلینڈ نےپاکستانی باولرز کی خوب پٹائی لگاءکوئی بھی باولر خاص کارکردگی نہ دکھا سکا۔ انگلینڈ نے پہلے کھیلتے ہوے 50 آورز میں جوز بٹلر کی تیز ترین سینچری کی بدولت 5وکٹوں کے نقصان پر 355 رنز بنائے ، جواب میں پاکستانی ٹیم 271رنز بناسکی اور آل آوٹ ہوگءاور یوں انگلینڈ چوتھا میچ 84 رنز سے جیت گیا اور چوتھے میچ کے ساتھ ساتھ 3-1 سے 4 ایک روزہ میچز کی سریز بھی اپنے نام کرلی۔ ۔ ایک روزہ میچز میں مجموعی طور پر پاکستانی کھلاڑیوں کی پرفارمنس مایوس کن رہی مگر دوسری طرف انگلینڈ نے ٹیسٹ میچز میں شکست کے بعد اچھا کم بیک کیا اور پاکستان کو شکست کا منہ دکھایا اور تمام شعبوں میں متاثر کن کارکردگی دکھائی۔

 

 

پاکستان کی ٹیسٹ سریز میں پرفارمنس بے حد متاثر کن تھی مگر ایک روزہ میچز کی سریز نے پاکستان کی سلیکشن کمیٹی اور مینجمنٹ کی کارگردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے ۔ پاکستان کی سلیکشن کمیٹی اور کپتان کے درمیان یا تو مس کمیونیکیشن ہے یا کپتان بااختیار نہیں ۔ پاکستان کا ہمیشہ سے ہی بیٹنگ لائن اپ کا مسئلہ رہا ہے جو انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ میچز میں کچھ کچھ کھل کر سامنے آنے لگا ہے ، انگلینڈ کے درمیان ایک روزہ میچز اور ٹیسٹ میچز کے لیے اسکواڈ میں شامل کیے گئے پروفیشنل اوپنر احمد شہزاد کو نہ ہی ٹیسٹ میں چانس دیا گیا اور نہ ہی ون ڈے میں صحیح طرح آزمایا گیا ، پوری سریز میں احمد شہزاد صرف آخری ایک روزہ میچ میں پاکستان کی نمائیندگی کرسکے ، احمد شہزاد کی موجودگی کے باوجود دوسرے پلیئر کو پاکستان سے بلاکر میچ میں شرکت کروانا کیسی عقل مندی ہے ؟ احمد شہزاد کی موجودگی کے باوجود افتخار کو انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو کروانا کپتان کا فیصلہ تھا یا پھر سلیکشن کمیٹی کا ؟ کیا اس طرح کے فیصلوں سے پاکستان کے کھلاڑیوں کے مستقبل سے کھیلنا صحیح فیصلہ ہے ؟ ایک اہم میچ میں ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی کو پریشر سٹیوئیشن میں کھلانا اسکے ساتھ زیادتی نہیں ؟ ایک طرف نوجوان کھلاڑی کو ایک دم سے چانس دینا اور دوسری طرف پہلے سےموجود کھلاڑی کو چانس نہ دینا کھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی نہیں ؟ سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کے اس طرح کے فیصلوں کی وجہ سے ہی پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کا مسئلہ حل ہوکر نہیں دے رہا ہے۔ اگر ایک کھلاڑی کو 6 میچ میں ٹیم سے باہر بٹھا کر ایک دم آخری اور اہم میچ میں چانس دینا کھلاڑی کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کے تجرباتی فیصلوں سے نہ صرف کھلاڑیوں پر منفی اثر پڑا بلکہ ٹیم کی پرفارمنس اور کپتان کو بھی ڈبل دباو¿ کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ایک روزہ میچز میں ہونے والے تجربات نے واضح کردیا کہ پاکستان کی خراب پرفارمنس کی بنیادی وجہ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی اور مینجمنٹ ہیں جو صرف اپنی پسند کے کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

CURu1OYWUAA5y22

Advertisements