پیرس میں دہشت گردی اور تیسری عالمی جنگ کا عندیا

فرانس میں 13 نومبر کو دہشت گردی کے واقعات پیش آے جس میں 129 ہلاک اور 329 افراد زخمی ہوئے ۔ فرانس میں ہونے والی دہشت گردی کی زمہ داری دہشت گرد تنظیم  داعش نے قبول کی ہے ۔ فرانس میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد دنیا میں ایسا تاثر دیا  جارہا ہے کہ جیسے یہ ایک تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہے جس کا عندیا فرانسیسی صدر اور پاپ فرانس نے بھی دیا ہے ۔  پاکستان اور دیگر ممالک فرانس میں ہونے والی دہشت گردی کو امریکہ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے موازنہ کررہے ہیں  کہ یہ امریکہ کے 9/11 سے کم نہیں ہے ۔ مگر ایسا کیوں ؟  دنیا کے تمام ممالک فرانس سے ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں، خیر اچھی بات ہے ایک انسانیت کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے مگر میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ کچھ حلقے فرانس میں ہونے والی دہشت گردی پر آور ریئکٹ کررہے ہیں ۔ فرانس میں 13 نومبر 2015 کو ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ہر انسان فرانس سے یکجہتی کا اظہار کررہا ہے چاہے وہ کوئی سکھ  ہو، عیسائی ہو، مسلمان ہو یا کوئی ہندو ہو ، ہر شخص انسانیت کے ناطے فرانسیسی عوام کے دکھ میں شریک ہیں  ۔ فرانسیسی عوام سے یکجہتی کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی لوگوں نے دہشتگردوں کی درندگی کی مذمت کی اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے فرانس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے فرانس کے پرچم کے رنگ کے شیڈذ کی پروفائل پیکچر متعارف کروائی جسے مختلیف طبقات کے لوگوں نے استعمال کیاور فرانس سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

images

images (3)z

  فرانس میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد دنیا بھر میں رہنے والے مسلمانوں کو ایک بار پھر شک کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگےگا ، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعد دنیا بھر میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ جو امتیازی سلوک برتا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں مگر جب دہشت گردوں کی دہشت سے مسلمان شہید و زخمی ہوتے ہیں تو دنیا بھر کے لوگ اس طرح ری ایکٹ کیوں نہیں کرتے جس طرح وہ یورپ ، امریکہ و دیگر ممالک میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کےلیے کرتے ہیں ؟  سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کیوں اس طرح سے مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار نہیں کرتے جس طرح مسلمان دیگر لوگوں سے یکجہتی  کا اظہار کرتے ہیں  ؟   اسلام امن و سلامتی کا درس دیتا ہے اور ایک پرامن مذہب ہے اور بھائی چارہ  قائم کرنے کا درس دیتا ہے ۔  دنیا میں مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی نے دنیا میں مسلمانوں کی ساکھ کو بہت  بری طرح متاثر کیا ہے جس کا اندازہ مسلم ممالک سے زیادہ بیرون ملک رہنے والے مسلمانوں کو اچھی طرح ہوگا ۔  آج دنیا بھر کے لوگ فرانس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کررہے ۔ فرانس میں ہونے والی دہشت گردی نے نہ صرف فرانسیسی سیکورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ امریکہ برطانیہ اور دیگر بڑے ممالک نے بھی اپنے سیکورٹی معمولات کو ایک بار پھر بہتر سے بہتر کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں ۔  گزشتہ کئ سالوں سے خطے میں دہشت گردی کی جنگ جاری ہے جس میں سب سے زیادہ قربانی پاکستان کی عوام نے دی ۔

گزشتہ 10 سالوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا۔ پاکستان میں اب تک   54ہزار سے زائد لوگ شہید ہوچکے ہیں جس میں  عام شہری اور دیگر قانون نافذ کرنے والے  جوان و افسران بھی شامل ہیں ۔ آج دنیا فرانس کے دکھ میں شریک ہے مگر اس دکھ اور اس اذیت کو جس شدت سے پاکستانی و دیگر مسلمان محسوس کرسکتے ہیں وہ کوئی اور یورپی یا امریکی محسوس نہیں کرسکتا ، زیادہ دور نہیں ایک سال پیچھے جائیں جب 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں نے درندگی کے ساتھ 150 افراد کو شہید کردیا تھا جس میں 144 معصوم  بچے بھی شامل تھےجو  حصول علم کے لیے اپنے گھر سے گئے تھے اور خون کی چادر لپیٹے ہوئے گھر واپس لوٹے ۔ ۔پاکستان کی افواج اور پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں مگر کیا یہ دہشت گردی کا خاتمہ  صرف دہشت گردوں کے خاتمے سے ہی ممکن ہے ؟  نہیں  ۔ ۔ ۔  دہشت گردی صرف پاکستان کا نہیں دنیا کا مسئلہ ہے مگر اس کا خاتمہ جب تک ممکن نہیں جب تک معاشرے میں انتیہا پسندی کو لگام نہ ڈالی جائے  ،  پاکستان اب تک 54 ہزار سے زائد افراد کی قربانی دے چکا ہے مگر کیا ہم کامیابی کی جانب گامزن ہیں ؟ 

images (2)

پاکستان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ مذہبی جنونیت اور مذہبی انتہا پسندی کا ہے جو پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور نوجوانوں کو مذہب کے نام پر بھٹکا رہا ہے ۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے  پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے مگر اسکے باوجود مذہبی انتہاپسندوں  ، کالعدم تنظیم کے ٹریننگ یافتہ نوجوان نے باآسانی 13 مئ کو کراچی میں صفورا چورنگی پر دہشت گردی سے بس میں سوار 45 افراد  کو گولیوں سے بھون دیا ۔ سانحہ صفورا کے ملزمان کے پکڑے جانے کے بعد تفتیش کے دوران ملزم سعد عزیز و دیگر نے جو انکشافات کیے ہیں اس سے ہی ہمیں اندازہ ہوجانا چاہیے کہ دہشت گردی کی جڑ اور بنیاد کون ہے اور ان دہشت گردوں کی ڈور پاکستان میں کون ہلاتا ہے ؟ سانحہ صفورا کے پکڑے جانے والے ملزم سعد عزیز اور دیگر کا تعلق پہلے جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم جمعیت سےتھا اور کچھ عرصے سے کالعدم دہشت گرد تنظیم داعش کے لیے کام کررہے  تھے. سانحہ پشاور اسکول کے بعد فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تھا اور پھر نیشنل ایکشن پلان مرتب دیا گیا تھا جس میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی اور انکی فنڈنگ کے حوالے سے کاروائی کی جانی تھی جو بدقسمتی سے اب تک دیکھنے میں نہیں آسکی ۔ کالعدم تنظیموں کا کھلے عام اپنی ایکٹیویٹیز کرنا ، ریلیز نکالنا ، میڈیا پر انکے بیانات چلنا، کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کے ٹی وی چینلز پر انٹرویوز نشر ہونا ، یہ سب نیشنل ایکشن پلان پر بہت بڑا سوالیہ نشان  ہے، کیا ہمارے ادارے کالعدم تنظیموں کو لگام دینا چاہتے ہیں یا سب ٹوپی ڈرامہ ہے ؟  فرانس میں ہونے والی دہشت گردی میں 129افراد کی ہلاکت نے تمام سیکورٹی  ، حکومتی  و دیگر حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ، اور ہم تو ہزاروں پاکستانیوں  کی قربانی دے چکے ہیں ہمارے حکمرانوں، سیکورٹی اداروں اور دیگر حلقوں کو جھنجوڑنے کے لیے کتنی شہادتیں درکار ہیں؟ وقت کا تقاضا ہے کہ ہمیں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں کامیابی کا راگ الاپنے کے بجاے شہری علاقوں میں ایسے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی یا ایکشن کرنے کی ضرورت ہے جو مذہب کے نام پر سیاست اور عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔

Advertisements