پاکستان میں منشیات کا بڑھتا ہوا رحجان

پاکستان میں منشیات کے استعمال کا رجحان بہت تیزی سے ہر سال بڑھتا جارہا ہے جس سے متاثر ہونے والوں میں سب زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے خاص طور سے وہ نوجوان جو تعلیمی درسگاہوں سے وابستہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے ڈرگز اینڈ کرائمز کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 6.7ملین افراد ڈرگز کا استعمال کرتے ہیں جن میں سے 4 ملین افراد ڈرگز کے عادی ہیں ۔ پاکستان میں ڈرگز کی روک تھام کی زمہ داری حکومتی ایجنسی ” اینٹی نارکوٹکس فورس ” پر عائد ہوتی ہے مگر آج تک ہم نے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دیکھی اسی وجہ سے پاکستان کے ہر گلی کوچے میں بآسانی ڈرگز کی خرید و فروخت بلاخوف جاری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 9 ملین سے زائد افراد منشیات کے عادی ہیں جن میں سے دو ملین افراد کی تعداد انکی ہے جنکی عمریں 15 سے 25 کے درمیان ہیں۔ کالج یا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ہر دس بچوں میں سے 1 منشیات کا عادی ہے۔

IMG_20151016_191417

Published on Ary News Check Link : http://arynews.tv/ud/blogs/archives/67207

سگریٹ نوشی ، تمباکو نوشی ، گٹکا مین پوری ، شراب کا استعمال اور دیگر چیزوں کا شمار منشیات میں ہوتا ہے۔ اسلام میں بھی ہر وہ نشہ حرام ہے جس سے انسان بہک جاتا ہو یا ہوش کھو دیتا ہو۔ سگریٹ نوشی ، تمباکو نوشی یا دیگر منشیات کا استعمال کچھ لوگ اپنے زہنی دباو کو کم کرنے کے لیے کرتے ہیں ، کچھ افراد ایک دوسرے پر سبقت لےجانے کے لیے اسکا استعمال کرتے ہیں ، کچھ اسے اپنے اسٹیٹس سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ منشیات کے استعمال کے بنا زندہ نہیں رہ سکتے تو وہ عادی کہلاتے ہیں۔ منشیات کے استعمال سے نہ صرف انسان سوچنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے بلکہ انسان کی صحت اور اسکے کردار پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں جس سے دنیا اور آخرت دونوں ہی خراب ہوجاتے ہیں ۔ تحقیق کے مطابق 60فیصد سے زائد وہ نوجوان ڈرگز کے عادی ہیں جو ایک پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی تشویشناک بات ہے کہ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ جانے انجانے میں فیشن کے دھوکے میں اپنی ہی قبر کا انتیظام خود کررہا ہے۔ سگریٹ نوشی ، شیشہ یا دیگر منشیات کے استعمال سے کالج یا یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبائ کی پڑھائی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے اس طلبائ کے زہن پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔ طلبائ میں منشیات کے استعمال کے رجحان کی اہم وجہ اسکے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے لوگ یا ارد گرد کا ماحول ، منشیات کے استعمال کو اپنا اسٹیٹس سمجھنا ، کالجز اور یونیورسٹیز کی جانب سے سختی نہ برتنا ، اور سب سے اہم وجہ انکے والدین کا اپنے بچوں کے اخراجات کے حوالے سے لاعلم ہونا ہے ، جہاں تعلیمی ادارے اتنی بھاری بھرکم فیسیں وصول کرتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اپنی ان فرائض کو بھی دیہان میں رکھیں کہ جب تک کوئی بھی طالب علم آپکے ادارے کا اسٹوڈنٹ ہے تب تک اسکی تربیت کے زمہ دار آپ ہی ہیں۔ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی ، شیشہ ، اور دیگر منشیات کی برائیوں کی روک تھام کے لیے تعلیمی درسگاہوں کے سربراہوں ، والدین اور سماجی تنظیموں کو مل کر کوئی اقدام اٹھانا چاہیے۔ منشیات کے رجحان کو کم کرنے یا ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبائ و طالبات کو منشیات کے حوالے سے باضابطہ طور پر گائیڈلاین دی جاے اور اسکے نقصانات سے آگاہ کیاجاے تاکہ نوجوان طلبائ کو تمباکو نوشی یا سگریٹ، شیشہ اور دیگر منشیات کے استعمال سے قبل انکے اثرات کا علم ہو اور وہ اپنا مستقبل تاریک ہونے سے بچا سکیں۔ جہاں نوجوانوں کو معاشرتی برائیوں سے دور رکھنا والدین اور اساتذہ کی زمہ داری ہے وہی سب سے بڑی زمہ داری حکومت وقت کی ہے جو منشیات جیسی معاشرتی برائیوں کی خرید و فروخت پر پابندی کے ساتھ ساتھ منشیات کی پاکستان میں اسمگلنگ کو مکمل بند کرنے پر اپنی سنجیدگی کا اظہار کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان کے حکمران منشیات کے کھلے عام فروخت اور اسکی اسمگلنگ میں برابر کے شریک ہیں۔ لیکن حکمرانوں کو اپنی جیب گرم کرنے بجاے پاکستان کے مستقبل کے معمار اور نادان نوجوانوں کا بھی سوچنا چاہیے جو اپنے شوق میں اپنی زندگی کے حسین لمحات کو کم کررہے ہیں۔

Advertisements