چار بہترین ٹیمیں آمنے سامنے۔۔

 ماہ اکتوبر / نومبر 2015 میں دنیائے کرکٹ کی 4 بہترین ٹیمیں مدمقابل ہیں۔ساوتھ آفریقہ بمقابلہ بھارت ، اور انگلینڈ بمقابلہ پاکستان۔ ساوتھ آفریقہ 3 ٹی 20 میچز ، 5 ون ڈے اور 4 ٹیسٹ میچز پر مشتمل سریز کے لیے بھارت کے دورے پر ہے جس میں اب تک صورتحال یہ ہے کہ ساوتھ آفریقہ نے پہلے بھارت کو 3 ٹی 20 میچز کی سریز میں 2-1سے فتح حاصل کرکے اسی کے ہوم گراو¿نڈ میں دھول چٹائی اور پھر اسکے بعد 5 ایک روزہ میچز کی سریز میں 2-3سے شکست دے کر سریز اپنے نام کرلی۔ ساوتھ افریقہ اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے ایک روزہ میچز کی سریز کا اختیتام کچھ اس طرح سے ہوا کہ سنسنی خیز مقابلوں کے نتیجے میں دونوں ٹیمیں دو ، دو میچز جیت چکی تھیں تو اس طرح آخری اور پانچواں ایک روزہ میچ ایک فائنل کی شکل اختیار کرچکا تھا اس لیے زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ ساوتھ افریقی بلے بازوں نے اپنے جارحانہ انداز کو برقرار رکھتے ہوئے پہلے بیٹنگ کے دوران بھارتی بولروں کی دھرمٹ بنادی اور انڈیا کے گیند بازوں کو انہی کے ہوم گراو¿نڈ میں ایسا گھمایا کہ ساوتھ افریقی اننگ کے ختم ہونے کے بعد ہی اپنے جیت کے امکانات روشن کرلیے تھے ، ساوتھ افریقہ نے پانچوں ایک روزہ میچ میں پہلے کھیلتے ہوئےپچاس آورز میں کرکٹ کی تاریخ کا تیسرا بڑا ٹوٹل 438رنز بنائے جس میں فاف ڈپلیسس ، کوئنٹن ڈی کوک ، اور کپتان اے بی ڈی ویلیرز کی دھواں دار سینچریز بھی شامل ہیں۔ جواب میں بھارتی بلے بازوں نے مزاحمت کی بھرپور کوشش کی مگر جوں جوں وکٹیں گرتی گئیں جیت بھارت کے ہاتھ سے پھسلتی گءاور بھارت 438 کے بڑے پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں 224 پر ڈھیر ہوگیا اور یوں بھارت 214 رنز سے فائنل میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوگیا ، ٹی 20 سریز کے بعد ون ڈے سریز بھی ساوتھ افریقہ کے نام۔ بھارت منہ تکتا رہ گیا۔۔
بھارت اور افریقہ کے درمیان سریز میں ساوتھ افریقہ کے کپتان اے بی ڈی ویلیئرز نے بہترین کارگردکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5میچوں کی سریز میں انفرادی طور پر 358 بنائے جس میں تین سنچریز بھی شامل ہیں۔

Untitled-1 copy 

اور دوسری طرف پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والی ہوم سریز دبئی میں جاری ہے،جس کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ پاکستان اور اینگلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے تین ٹیسٹ میچز کی سریز کے دو ٹیسٹ میچز کھیلے جاچکے ہیں جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے، پہلے ٹیسٹ میں پاکستان اور انگلینڈ کی جانب سے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا گیا۔ پاکستان کے اوپننگ بلے باز ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کوئی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے مگر شعیب ملک ، یونس خان کی جانب سے بنائے جانے والے ریکارڈز نے پہلے ٹیسٹ کو یادگار بنادیا ،5 سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کرنے والے 33سالہ شعیب ملک نے آتے ہی انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں ڈبل سینچری بناکر اپنے ناقدین کے ہوش اڑادیے اور ایک اننگ کا بہترین اسکور 245 بناکر پاکستان کو بڑا ٹوٹل بنانے میں اہم کردار ادا کیا جس میں انکا ساتھ دیا محمد حفیظ جو 98 رنز بنا کر آوٹ ہوئے، اور اسد شفیق جنھوں نے 107 رنز اسکور کیے مجموعی طور پر پہلے کھیلتے ہوئے پاکستان نے 523 رنز بناکر اپنی اننگ ڈیکلیئر کردی تھی،، اسکے اعلاوہ انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں تجربہ کار بیٹسمین یونس خان پہلی اننگ میں 38بناکر پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے پہلے بیٹسمین بن گئے اس سے قبل یہ ریکارڈ جاوید میانداد کے پاس تھا۔ انگلینڈ کی جانب سے بھی بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کیا گیا جس میں ایلسٹر کک نے قائدانہ اننگ کھیل کر انگلینڈ کو بڑے اسکور کی لیڈ ختم کرنے میں کافی اہم کردار ادا کیا کک نے پہلی اننگ میں 265رنز بنائے ، مجموعی طور پر انگلینڈ نے پہلی اننگ میں 598رنز بناکر پاکستان پر 75 رنز کی برطری حاصل کرکے اننگ ڈکلیئر کردی تھی ۔ باولنگ دونوں ہی ممالک کی غیر متاثر کن تھی مگر دوسری اننگ دونوں ہی ممالک کے لیے بہت اہم تھی ، پہلے ٹیسٹ میں سنسنی اس وقت بڑھی جب میچ کے پانچویں اور آخری روز پاکستان اپنی دوسری اننگ میں 173پر آوٹ ہوا ، پہلی اننگ میں 245بنانے والے شعیب ملک دوسری اننگ میں صفر پر آوٹ ہوئے اور اسی طرح کوئی بھی کھلاڑی کریز پر جم نہ سکا سوائے کپتان مصباح الحق کے ، مصباح الحق کے 51 رنز کی بدولت پاکستانی ٹیم نے 75 رنز کی برطانیہ کی لیڈ ختم کی جس کی بنیاد پر پاکستان انگلینڈ کو 99 رنز کا ٹارگٹ دینے میں کامیاب ہوا ، اور یوں آخری 20 آورز میں انگلینڈ کو 99 بنانے تھے مگر ابھی برطانیہ نے 4 وکٹ گنواکر 75 رنز بنائے ہی تھے کہ امپائرز کی جانب سے کم روشنی کے باعث میچ ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا اور یوں پاکستان معجزاتی طور پر 25 رنز کے بعد ہار دیکھتے دیکھتے رہ گیا اور یوں قدرتی طور پر انگلینڈ آسان جیت سے محروم ہوگیا۔ انگلینڈ اور پاکستان دونوں ہی کی جانب سے باولنگ کے شعبے میں کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکاسوائے انگلینڈ کے اسپنر عادل راشد کے انھوں نے دوسری اننگ میں 5 وکٹیں لیں اور یوں پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا ہوگیا۔

CRSJlpfXAAQh_CE

 

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں صورتحال کچھ یوں رہی کہ پاکستان کا ٹاپ آرڈر ایک بار پھر ناکام رہا اور کوئی کھلاڑی کریز پر ٹھیک سے جم نہ سکا سوائے شان مسعود جنھوں نے 54 رنز اسکور کیے ، یونس خان نے 56 اور کپتان مصباح الحق نے 102 رنز اسکور کیے اور نوجوان کھلاڑی اسدشفیق نے 83 رنز بنائے ، پہلی اننگ میں پاکستان ٹیم مجموعی طور پر 378 رنز بناکر آل آوٹ ہوگئ، انگلینڈ کی جانب سے معین علی اور ووڈ نے 3, 3 وکٹیں لی۔ انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگ میں 242 رنز بنائے جس میں جوئے روٹ نے 88 ، کک نے 65 اور بیراسٹو نے 46 رنز بنائے ، پاکستان کو باولنگ کے شعبے میں اسپنر یاسر شاہ کے آنے سے بہت مدد ملی جو انجری کے باعث پہلا ٹیسٹ میچ کھیل نہ سکے تھے ، جس کی بدولت پاکستان انگلینڈ کو جلد آوٹ کرنے میں کامیاب رہا ، یاسر شاہ اور وہاب ریاض نے 4,4 وکٹیں حاصل کیں اور عمران خان نے 2وکٹیں لیں اور یوں پاکستان نے انگلینڈ کو 242 پر ڈھیر کرکے 136رنز کی برطری حاصل کی ، پاکستان کے ٹاپ آرڈر نے مسلسل خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرکے آفیشلز کے لیے سوال کھڑا کردیا ہے ، دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگ میں پھر پاکستان کا ٹاپ آرڈر ناکام رہا ، پاکستان نے اپنی دوسری اننگ میں 6 وکٹ کے نقصان پر 354 رنز بناکر اننگ ڈکلیئر کردی جس میں یونس خان نے 118 رنز بناکر ٹیسٹ میچز میں 9000 رنز مکمل کرکے پاکستان کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے اسی کے ساتھ ساتھ 103ویں ٹیسٹ میچ میں اپنے کریر کی 31ویں سنچری بناکر سب سے زیادہ سینچریز بنانے والوں کی ٹاپ ٹین فہرست کا حصہ بن گئے اس طرح یہ بھی ریکارڈ اپنے نام کرلیا جو پاکستان اور یونس خان دونوں کے لیے فخر کا باعث ہے، اور اس طرح یونس خان نے پہلے ٹیسٹ میچ کے بعد دوسرے میچ کو بھی تاریخی اہمیت دلوادی۔ پاکستان ٹیم کے مڈل آرڈر کھلاڑیوں کی شاندار پرفارمنس کی بدولت پاکستان نے اگلینڈ کے لیے ڈیڑھ دن کے کھیل سے قبل 491 کا بڑا ٹوٹل کھڑا کردیا جو ایک امتحان سے کم نہ تھا۔ انگلینڈ نے 491 رنز کے تعاقب میں آغاز میں ہی اہم وکٹیں گنوا کر پاکستان کے جیت کے امکان روشن کردیے تھے لیکن ٹیسٹ میچ کے آخری روز انگلینڈ کے ٹیل آنڈرز کی اچھی پرفارمنس نے آخری دن کے کھیل میں ڈرامائی موڑکھڑا کردیا ۔ آخری دن کا آغاز انگلینڈ نے 130 پر 3 کھلاڑیوں کے نقصان پر کیا ، دن کے آغاز میں وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی گئی مگر انگلینڈ کے اسپنر عادل راشد نے انگلینڈ کی ڈوبتی کشتی کو یوں سہارا دیا کہ چند لمحے کے لیے محسوس ہونے لگا جیسے انگلینڈ پاکستان سے شکست چھین کر میچ ڈرا کردے گا لیکن دن کے اختیتام کے 7 آورز قبل یاسر شاہ نے اپنی جادوءباولنگ سے کافی وقت سے وکٹ پر کھڑے ہوئے انگلش اسپنر عادل راشد کو آوٹ کرکے ٹیسٹ ڈرا ہونے سے بچا کرجیت کا سہرا پاکستان ٹیم کے نام کیا ، انگلینڈ کی پوری ٹیم پاکستان کے 491 رنز کے تعاقب میں 312پر ڈھیر ہوگئی اور یوں پاکستان نے دوسرا ٹیسٹ 178 رنز سے جیت کر 1-0 کی برتری حاصل کرلی۔ پاکستان ٹیم کی جانب سے اسپنر یاسر شاہ نے دونوں اننگز میں 4,4وکٹیں لی


دونوں ٹیمیں تین سال بعد مدمقابل ہیں جس کے تاریخی اعداد و شمار کچھ اس طرح سے ہیں کہ اب تک پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 76 ٹیسٹ میچز کھیلے جاچکے ہیں جس میں پاکستان نے 17 اور انگلینڈ نے 22 جیتے ہیں اور 37 میچز کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ پاکستان دوسرا ٹیسٹ جیت تو گیا مگر آفیشلز کو پاکستان کے ٹاپ آرڈر کی خامیاں دور کرنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کی کارگردگی پہلے سے بہتر ہے یونس خان کی ریکارڈ ساز اننگز اور شعیب ملک کی آتے ہی پہلی اننگ کی پرفارمنس نے انکے ناقدین کو بھی تعریف کرنے پر مجبور کردیا ہے جو ایک اچھی علامت ہے اس سے پاکستانی ٹیم کے مورال میں مزید اضافہ ہوگا۔ جہاں ہم کھلاڑیوں کے برے کھیل پر انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں وہی پر ہمیں انکے اچھی پرفارمنس پر بھرپور داد دے کر حوصلہ افزائی کرناچاہیے تاکہ انکی پرفارمنس مزید بہتر ہو اور دوسرے کھلاڑی بھی اچھا کھیلنے کے لیےمزید محنت کریں۔
سریز کے آغاز پر جس طرح سے ہم نے ان چاروں بہترین ٹیموں کے درمیان مقابلے کی امید کی تھِی وہی ہوا کتنے ہی ریکارڈز بنے اور توڑے گئے۔
پاکستان ، انگلینڈ ، ساوتھ افریقہ اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے میچزسے یقینی طور پر شائقین کرکٹ کو بھرپور لطف اندوز اٹھایا ہوگا بالخصوص بھارت اور افریقہ کے درمیان کھیلے جانے والے آخری ایک روزہ میچ میں ، دونوں کے درمیان کھیلے گئے آخری اور پانچو یں ایک روزہ میچ میں اے بی ڈی ویلیئرز نے اپنی قائدانہ اننگ سے ایک بار پھر کروڑوں شائقین کرکٹ کو اپنے کھیل سے اپنا مداح بنالیا ہے ، دوسری طرف پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر یونس خان نے اپنی پرفارمنس اور تاریخی ریکارڈز سے ثابت کردیا کہ وہ ایک بہترین بلے باز ہیں ۔ کافی عرصہ تک ٹیسٹ کرکٹ سے دور رہنے والے آل راونڈر شعیب ملک نے پانچ سال بعد اپنے پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگ میں 245رنز بناکر اپنے ناقدین کو قائل کردیا اور بتادیا کہ ابھی انکی کرکٹ باقی ہے ، یہ الگ بات ہے کہ وہ اس کے بعد پرفارمنس نہ دے سکے مگر یہاں مکمل قصور انکا نہیں ہمارے اوپننگ پیئر کا بھی ہے جو پاکستان کو اچھی شروعات نہیں دے پارہے ہیں ، اسکے اعلاوہ مصباح الحق نے بھی بہترین بلے بازی اور زمہ دارانہ، قائدانہ کردار ادا کیا۔باولنگ کے شعبے میں وہاب ریاض نے بہترین باولنگ کا مظاہرہ کیا اور دوسرے ٹیسٹ میچ میں یاسر شاہ کے آنے سے پاکستان کا باولنگ اٹیک مزید مضبوط ہوگیا جس کا منہ بولتا ثبوت پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والا دوسرا ٹیسٹ میچ ہے۔

CST7WqoXAAA8jIf

کل ملا کردونوں سریز کو دیکھا جائے تو شائقین کرکٹ کو بہت اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملی لیکن ابھی یہ سفر اور انٹرٹیننگ سریز اور دلچسپ مقابلے اپنے اختیتام کو نہیں پہنچے کیونکہ ابھی پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 1ٹیسٹ میچ ، 5 ون ڈے اور 3 ٹی 20 میچز کی سریز ہونا باقی ہے دوسری طرف بھارت اور افریقہ کے درمیان 4 ٹیسٹ میچز کی سریز کا آغاز ہونا ہے ، اس سے قبل ساوتھ افریقہ بھارت کو اسی کے ہوم گراو¿نڈ اور بھارتی عوام کے سامنے ٹی 20میچز کی سریز 2-1 سے اور 5میچوں پر مشتمل ایک روزہ میچز میں سنسنی خیز مقابلوں کے بعد 3-2 سے شکست دے کر سریز اپنے نام کرچکا ہے۔ جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہے جو اچھے کھیل کامظاہرہ کرتا ہے جیت اسی ٹیم کی ہوتی ہے۔ لہذا کرکٹ کے شائقین کو کرکٹ میچز سے لطف اندوز ہونا چاہیے خواہ انکی فیورٹ ٹیم جیتے یا ہارے ۔ کھیل کوئی سا بھی ہو کھیلنے والوں اور دیکھنے والوں دونوں کو ہی اسپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

Advertisements