کالعدم تنظیموں کے خلاف کب ایکشن ہوگا ؟

دنیا بھر میں تمام مذاہب اور تمام عقائد کے لوگ اپنے اپنے تہوار بڑے عقیدت و احترام سے مناتے ہیں اور  اجتماعات منعقد کرتے ہیں ،جس میں بڑی تعداد میں عوام شرکت کرتی ہے جس کی حفاظت کی زمہ داری ریاست اور حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے ۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مختلیف تہوار منائے جاتے ہیں جس کے سلسلے میں اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں جس کی سیکورٹی کی زمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان پر عائد ہوتی ہے ۔ محرم الحرام ایک افضل ترین مہینہ جسے تمام مسلمان بہت عقیدت سے مناتے ہیں ۔ ماہ محرم میں ہر مسلمان اپنے اپنے انداز میں امام علی مقام حضرت امام حسینؑ  اور اہل بیت کی شہادت کی دستان سناتے ہیں ، شہداء کربلا پر ڈھاے جانے والے مظالم اور دین کے لیے قربانی دینے والوں کی عظمتیں  بیان کرنے کے لیے مجالس کا انعقاد کیا جاتا ہے ، نوحہ خوانی کی جاتی ہے ، کربلا  کی تپتی ریت پر اہل بیت پر ہونے والے ظلم کی داستان بیان کی جاتی ہے، انکی یاد تازہ کی جاتی ہے ۔  محرم الحرام کے موقع پر پاکستان میں حالات کی حساسیت کے تناظر میں خاص طور سے سیکورٹی پر فوکس کیا جاتا ہے مگر افسوس کہ پاکستان میں ہر سال فول پروف سیکورٹی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر ہر سال کوئی ایسا سانحہ پیش آجاتا ہے جو ہمارے اداروں کی  کارگردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کردیتا ہے

۔پہلی محرم سے ہی سیکورٹی ہائی الرٹ تھی ، کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردوں کی کاروائی کو روکنے کے لیے  کوئی ٹھوس لاحہ عمل بنانے کے بجائے ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس بار بھی عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لیے 7 محرم سے 10 محرم تک ڈبل سواری پر پابندی , اور 9,10 محرم کو موبائل سروس معطل رکھنے کی حکمت عملی بنائ جو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بے سود رہی ، 8 محرم  22 اکتوبر 2015 کو کوئٹہ کے ضلع بولان میں واقع  امام بارگاہ میں دہشت گردوں نے حکومت کی جانب سے  سیکورٹی کے انتظامات ہونے کے  باوجود  خودکش دھماکہ کردیا جس میں 10سے زائد افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ، جس کی زمہ داری اگلے روز کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی 

http://www.dawn.com/news/1214862   ,  

    , 

اگلے روز 9 محرم بروز جمعہ 23 اکتوبر 2015  کو سندھ کے ضلع جیکب آباد کوئٹہ روڈ  پر ماتمی جلوس  میں  خودکش دھماکے کا واقع پیش آیا جس میں 22سے زائد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے جس سے سندھ حکومت اور سیکورٹی اداروں کی اہلیت کا پول کھل گیا کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہ سیکھا سانحہ جیکب آباد سے قبل رواں سال 30 جنوری 2015 کو سندھ کے شہر شکارپور میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں 60  شہید ,کئی افراد  زخمی ہوئے تھےسانحہ شکار پور میں ملوث چند افرادکی  گرفتاری پر  تفتیش کے دوران انکشاف سامنے آیا کہ سانحہ شکار پور میں لشکر جھنگوی   ملوث ہے ، اور گرفتار ملزمان سانحہ شکار پور اور دیگر افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث ہیں ۔ ۔ ملزمان کی گرفتاری کو کافی وقت گزر گیا مگر افسوس نہ ان ملزمان کے خلاف کوئی کاروائی کی اور نہ ملکی سطح پر اس کلعدم  تنظیم کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا۔  اس سانحے کو رونما ہوئے 8ماہ ہوگئے  مگر آج تک ان مجرموں کا کیا بنا کچھ نہیں پتا۔  

 http://tribune.com.pk/story/846679/shikarpur-blast-suspect-confesses-to-2010-attack/ 

http://tribune.com.pk/story/845451/imambargah-blast-two-shikarpur-bombing-abettors-arrested/

المیہ تو یہ ہے کہ اتنے سیکورٹی لیپس کے باوجود نہ کسی حکومتی وزیر کی جانب سے کوئی استعفیٰ سامنے آیا اور نہ ہی سیکورٹی اداروں کی جانب سے ۔ کیا جیکب آباد میں ماتمی جلوس کے دوران خودکش دھماکہ ہونا  اور کوئٹہ کے ضلع بولان کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں اتنی قیمتی جانوں کا ضیاع ہونا حکومتی اور سیکورٹی اداروں کی ناکامی نہیں  ؟  گزشتہ کئی  سالوں سے پاکستان میں سیکورٹی کے حوالے سے اس حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جارہا ہے  کہ  ہر تہوار پر یا اہم دن کے موقع پر  سیکورٹی کے نام پر ڈبل سواری پر پابندی لگادی جاتی ہے یا پھر موبائل فون کی سروس معطل کردی جاتی ہے یہ دونوں ہی اقدام عام عوام کے سمجھ سے باہر ہے ۔ گزشتہ دو سال سے افواج پاکستان دہشت گردوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں نبردآزما ہے اور دوسری طرف کراچی میں رینجرز و پولیس  بھی دو سال سے آپریشن میں مصروف ہے جس پر پاکستان کے حکام دوسرے ممالک جاکر خوب داد وصول کررہے اور دعویٰ کررہے ہیں کہ انھوں نےپاکستان میں امن قائم کردیا ہے اور شمالی وزیرستان و کراچی میں جاری آپریشن تیزی کے ساتھ کامیابی سمیٹ رہا ہے  جو ایک  بھونڈا مذاق ہے ۔ دو سال سے جاری آپریشن ضرب عضب میں ہزاروں دہشت گرد مار جاچکے ہیں اور  کراچی آپریشن میں  ہزاروں دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے تو ماضی کی طرح اس بار بھی ماہ محرم میں موبائل فونز کی بندش اور ڈبل سواری پر پابندی جیسے اقدامات کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ دراصل حقیقت  یہ ہے کہ کراچی میں اب تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہی نہیں گئی جس کا ثبوت کراچی میں  کلعدم تنظیموں کی آزادنہ نقل و حرکت ہے. پاکستان میں  آج تک کالعدم تنظیموں کو لگام نہیں ڈالی گئی جسکی اب شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے ، جو ہمارے ملک کی سالمیت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے  جس کی حساسیت کا اندازہ ہمارے حکمرانوں کو بخوبی ہوگا۔  پاکستان کے شمالی وزیرستان  میں جاری آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک پنجاب سمیت پورے ملک میں کالعدم تنظیموں  ، فرقہ واریت اور مذہبی انتیشار پھیلانے، مذہبی انتیہا پسندی کو فروغ اور انکی حمایت کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق کاروائی عمل میں نہ لائی جائے ۔

 

Advertisements